پاکستاناہم خبریں

آزادی اظہار رائے آئین اور قانون کے تابع ہے، پگڑیاں اچھالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: اعظم نذیر تارڑ

میڈیا پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر نشر کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق کرے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وفاقی وزیر قانون و انصاف اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں آزادیٔ اظہار رائے یقینی طور پر موجود ہے، تاہم یہ آزادی آئین اور قانون کے تابع ہے۔ آزادیٔ اظہار رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی کردار کشی کی جائے یا دوسروں کی پگڑیاں اچھالی جائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صحافی کی سب سے بڑی ذمہ داری خبر کی صداقت، تحقیق اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہے۔

وہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداروں کی حلف برداری تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں صحافیوں، وکلا اور عدالتی امور سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے نو منتخب عہدیداروں سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت، توازن اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

خبر کی تصدیق اولین شرط ہے

اپنے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میڈیا جمہوری معاشرے کا اہم ستون ہے اور اس کی آزادی کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر نشر کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق کرے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بیان کو بنیاد بنا کر بعض خبریں چلائی گئیں، جن سے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی۔ بعد ازاں ڈاکٹروں کی رپورٹ سامنے آنے پر صورتحال واضح ہوئی اور غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کی غیر مصدقہ یا ادھوری معلومات عوام میں بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں، اس لیے صحافتی اصولوں کے مطابق تصدیق اور احتیاط ناگزیر ہے۔

احتجاج اور سڑکوں کی بندش پر تنقید

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ کسی بھی سیاسی یا انتظامی معاملے کو بنیاد بنا کر سڑکیں بند کرنا اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو جواز بنا کر خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش قطعی طور پر درست اقدام نہیں تھا۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کا حق موجود ہے، تاہم اس کا اظہار قانون کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔

صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی صحافی کے خلاف ماورائے آئین اور قانون کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اگر کسی صحافی کو ہراساں کیا جاتا ہے یا غیر قانونی اقدام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو قانون اس کا تحفظ فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں، میڈیا اور عدلیہ کے درمیان باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، لیکن اس کے ساتھ آئینی حدود و قیود کی پاسداری بھی لازم ہے تاکہ معاشرے میں توازن، برداشت اور ذمہ داری کا کلچر فروغ پا سکے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے نو منتخب عہدیداروں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن صحافتی اقدار کے فروغ اور عدالتی رپورٹنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button