
شیخو پورہ میں سالانہ منشیات تلفی کی تقریب، 18 ٹن سے زائد منشیات اور لاکھوں لیٹر شراب نذرِ آتش
یہ سالانہ تقریب اس امر کی عکاس ہے کہ ریاستی ادارے منشیات کے خلاف سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
شیخو پورہ میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے سالانہ منشیات تلفی کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں 18 ٹن سے زائد مختلف اقسام کی منشیات اور ایک لاکھ 69 ہزار لیٹر سے زائد شراب کو جدید طریقہ کار کے تحت نذرِ آتش کر دیا گیا۔ تقریب کا مقصد منشیات کے خلاف جاری قومی مہم کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا اور عوام میں شعور بیدار کرنا تھا۔
جدید انڈسٹریل انسنریٹر کے ذریعے تلفی
اے این ایف حکام کے مطابق تلف کی جانے والی منشیات میں شراب، چرس، ہیروئن، آئس (کرسٹل میتھ)، پوست اور بھنگ شامل تھیں۔ ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام منشیات کو جدید انڈسٹریل انسنریٹر کے ذریعے جلایا گیا تاکہ دھوئیں اور زہریلے اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس جدید نظام کے استعمال سے ماحول دوست طریقے سے منشیات کو تلف کیا گیا۔
اعلیٰ حکام اور معزز شخصیات کی شرکت
تقریب میں ریجنل ڈائریکٹر اے این ایف پنجاب، ڈائریکٹر جنرل سی این ایف پنجاب، ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) شیخوپورہ سمیت مختلف سرکاری و غیر سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔ مذہبی و تعلیمی حلقوں کی نمائندگی بھی نمایاں رہی، جن میں بشپ آف لاہور اور University of South Asia کے وائس چانسلر شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔
رواں سال کی کارکردگی: سینکڑوں گرفتاریاں اور سزائیں
اے این ایف پنجاب کے حکام نے تقریب کے دوران اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران 590 منشیات اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا جبکہ 463 مقدمات درج کیے گئے۔ مختلف عدالتوں سے 35 خطرناک اسمگلرز کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 132 دیگر ملزمان کو سخت سزائیں دلوائی گئیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم
اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے انسدادِ منشیات کے حوالے سے آگاہی مہم کو بھی وسعت دی گئی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں سمیت ایک ہزار سے زائد تعلیمی اداروں میں سیمینارز اور آگاہی نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں طلبہ کو منشیات کے مضر اثرات اور قانونی نتائج سے آگاہ کیا گیا۔ مقررین نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منشیات سے دور رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
منشیات کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
تقریب کے اختتام پر حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ مقررین نے کہا کہ منشیات نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کرتی ہیں، اس لیے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کو مل کر اس ناسور کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔
یہ سالانہ تقریب اس امر کی عکاس ہے کہ ریاستی ادارے منشیات کے خلاف سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔



