پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی زیر صدارت اجلاس، ٹیلی میڈیسن اور ہیلتھ ایپ منصوبوں پر اہم فیصلے

حکومت صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولت کو یقینی بنائے گی

سید عاطف ندیم پاکستان،پنجاب گورنمنٹ کے ساتھ

 لاہور میں صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیرکی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ٹیلی میڈیسن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سسٹم اور صحت ایپ سے متعلق پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ٹیلی میڈیسن پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز

صوبائی وزیر نے اجلاس کے دوران بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر اسی ماہ لاہور میں ٹیلی میڈیسن کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے صحت کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی مرحلے میں ٹیلی میڈیسن سروسز شام 4 بجے سے رات 12 بجے تک دستیاب ہوں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ان خدمات کو 24 گھنٹے تک توسیع دی جائے گی۔ کامیاب تجربے کے بعد اس منصوبے کو بتدریج دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا۔

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج معالجہ

اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹیلی میڈیسن ایپ کے ذریعے مریضوں کی ڈیجیٹل ہسٹری تیار کی جائے گی، جسے تمام سرکاری اسپتالوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اس اقدام سے مریضوں کا طبی ریکارڈ محفوظ رہے گا اور کسی بھی اسپتال میں فوری دستیاب ہو سکے گا۔ عوام گھر بیٹھے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے آن لائن مشاورت حاصل کر سکیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر اسے روک دیا گیا۔ اب اسے جدید تقاضوں اور جدید سافٹ ویئر سسٹمز کے ساتھ دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں دیرپا اصلاحات لائی جا سکیں۔

ایمرجنسی سروس 1122 سے انضمام

اجلاس میں ٹیلی میڈیسن ایپ کو Punjab Emergency Service 1122 کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ایپ پر موجود میڈیکل اسٹاف فوری طور پر 1122 کو مریض کی مدد کے لیے روانہ کرے گا۔ اس انضمام سے ہنگامی حالات میں رسپانس ٹائم کم ہونے اور قیمتی جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔

بنیادی مراکز صحت کی شمولیت

صوبائی وزیر نے ہدایت دی کہ بی ایچ یوز (بنیادی مراکز صحت)، آر ایچ سیز (دیہی مراکز صحت) اور مریم نواز کلینک آن ویلز کو بھی ٹیلی میڈیسن سسٹم سے منسلک کیا جائے۔ اس اقدام سے دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد بھی ماہر ڈاکٹرز سے براہ راست مشورہ حاصل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس سروس کے ذریعے بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ کم ہوگا، لوڈ مینیجمنٹ بہتر ہوگی اور مریضوں کو بروقت رہنمائی اور علاج میسر آئے گا۔

متبادل نظام اور بلا تعطل سہولت

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی وجہ سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی تو سسٹم خودکار طور پر کال فون ہیلپ لائن میں تبدیل ہو جائے گا، تاکہ عوام کو سہولت کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔ اس ہائبرڈ نظام کے ذریعے شہری ہر صورت طبی رہنمائی حاصل کر سکیں گے۔

اے آئی سسٹم اور صحت ایپ پر بریفنگ

اجلاس میں صوبائی وزیر کو “مریم نواز ٹیلی میڈیسن ایپ”، اے آئی سسٹم اور “مریم نواز صحت ایپ” کے مختلف فیچرز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مریضوں کی ابتدائی علامات کا تجزیہ کر کے فوری رہنمائی فراہم کی جا سکے گی، جبکہ ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے بیماریوں کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولت کو یقینی بنائے گی، تاکہ ہر شہری کو بروقت اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button