کالمزناصف اعوان

پنجاب حکومت کے مثبت اقدامات ! ……..ناصف اعوان

یہ سلسلہ پانچ چھے دہائیوں سے جاری ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی کام بھی مکمل نہیں ہوتا ادھورا رہ جاتا ہے ۔ نتیجتاً مسائل حل ہونے میں نہیں آرہے ان میں اصافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور وہ گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں ۔

ہمارا عمومی طرز فکر یہ ہے کہ جس کو ایک بار غلط یا صحیح کہہ دیں وہ پتھر ہے لکیر ہوتا ہے جبکہ حالات کے مطابق ہر کسی کا رویہ اور رہن سہن تبدیل ہوتا رہتا ہے لہذا اسی کے مطابق ہی کوئی رائے قائم کرنی چاہیے مگر ایسا نہیں ہوتا ۔
جب ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ حکومتِ پنجاب ماضی کی ڈگر سے ہٹ کر مثبت اقدامات کر رہی ہے تواس کے بعض سیاسی مخالفین اسے سراہنے کے بجائے اس کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں آئندہ اگر وہ اقتدار میں آجاتے ہیں تو یقیناً وہ موجودہ منصوبوں اور کاموں کو رد کر دیں گے جبکہ انہیں سوچنا چاہیے کہ مفاد عامہ کو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مگر یہاں معاملہ مختلف ہے کہ ”ہر کہ آمد عمارت نو ساخت“ جو بھی تخت نشیں ہوتا ہے وہ اپنا پروگرام متعارف کراتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ عوام کے فائدے میں ہو ؟
یہ سلسلہ پانچ چھے دہائیوں سے جاری ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی کام بھی مکمل نہیں ہوتا ادھورا رہ جاتا ہے ۔ نتیجتاً مسائل حل ہونے میں نہیں آرہے ان میں اصافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور وہ گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں ۔
اب اگر محترمہ مریم نواز صاحبہ وزیر اعلیٰ نے کچھ ایسے اقدامات کرنا چاہے ہیں جن سے لوگوں کی بڑی تعداد خوش ہے تو اس پر بھی تنقید ہو رہی ہے ۔ یہ جو منشیات فروشوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے آج تک ہم نے نہیں دیکھا سنا کہ کسی منتخب یا غیر منتخب حکومت نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہو ۔اگرچہ متعلقہ محکمہ بھی موجود ہوتا مگر انسانیت کے قاتل تب بھی دندناتے پھرتے اور تھانے بھی سب جانتے ہوئے اپنی آنکھیں بند رکھتے شاید اس کی وجہ منشیات فروشوں کا انتہائی طاقتور ہونا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی پہنچ دور تک ہوتی لہذا یہ لوگ اپنا دھندہ اطمینان سے جاری رکھتے مگر اب جب حکومت نے اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ ان کو کسی بھی صورت میں انسانی تباہی کا مواد نہیں بیچنے دینا اور ان کو عبرت ناک انجام سے دو چار کرنا ہے تو ایسا ہوتا ہوا ہر کوئی دیکھ رہا ہے ۔یہ اتنے طاقتور ہیں کہ جب بھی کوئی فورس ان کی گرفتاری کے لئے ان کے گھروں میں جاتی ہے تو یہ سیدھے فائر کھول دیتے ہیں جس کے نتیجے میں جوان شہید بھی ہو جاتے ہیں مگر بچتے یہ بھی نہیں ۔بڑے بڑے نامی گرامی نشہ فروخت کرنے والے فرار ہوگئے ہیں کچھ پکڑے گئے ہیں اور کچھ مارے گئے ہیں ۔ اس مکروہ کاروبار سے نوجوان نسل تباہ و برباد ہورہی تھی گھروں کے گھر اجڑ رہے تھے مگر حکومت پنجاب نے انہیں روک دیا ہے ۔اس کے اِس اقدام سے عوام کی غالب اکثریت بے حد خوش ہے اور وزیر اعلیٰ کو شاباش دے رہی ہے ۔
اس طرح پنجاب حکومت نے سڑکوں پر قبضہ جمانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے
آپ نے دیکھا ہو گا کہ سڑکیں بڑی ہوں یا چھوٹی ان پر کھوکے اور ریڑھیاں بغیر کسی ترتیب کے ہوتی تھیں ۔بازاروں میں دکانوں کے آگے جو ریڑھیاں اور سٹال لگوائے ہوتے تھے ان سے باقاعدہ کرایہ وصول کرتے ۔ہے نا اندھیر‘ جگہ سرکاری اور کمائی کریں دکاندار پھر راستے سکڑے جا رہے تھے ٹریفک کے بہاؤ میں مشکل یش آرہی تھی یہاں تک کہ پیدل چلنے والوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا اس مسلے کو حل کرنے کے لئے ایک فورس بنائی گئی جس کا نام پیرا فورس رکھا گیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں کی کشادگی بحال کر دی ریڑھی بان بڑا چیخے مگر انہیں نئی خوبصورت ریڑھیاں خریدنے کو کہا گیا جنہوں نے نہیں بھی خریدیں ان کو ایک ترتیب میں کھڑا ہونے کا کہا گیا اب شاید ہی کہیں ان کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں کوئی رکاوٹ آتی ہو گی ۔ ناجائز تجاویز کے حوالے سے بھی سختی سے نمٹا گیا ہے قبل ازیں کسی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ سرکاری زمینوں پر قابض لوگوں کو ہٹا سکے ۔ پہلے شہروں میں کرینیں اور بلڈوزر چلائے گئے یہ نہیں دیکھا گیا کہ کون کتنا با اثر ہے بلا تفریق و تخصیص جو بھی سرکاری زمین پر کوئی مکان دکان یا ڈیرہ بنا کر بیٹھا ہوا تھا اسے اٹھوا دیا گیا ۔ اب حکومت دیہاتوں کے اندر بھی غیر قانونی تھڑے عمارتیں اور حویلیاں مسمار کر رہی ہے ۔یہ کوئی بات ہے کہ گھر کے دروازے کے آگے تین تین چار فٹ کا تھڑا بنا لیا جائے اور سڑک کو تنگ کر دیا جائے لہذا اب وہاں پر ناجائز تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے ۔جو جوہر (چھپڑ) لوگوں نے مٹی ڈال کر بھر(پور) لئے تھے اور ڈیرے مکانات اور حویلیاں بنا لی تھیں ان کو ختم کیا جارہا ہے تاکہ گاؤں کا گندہ پانی دوبارہ ان میں ڈالا جا سکے اور اس پانی کو ندی نالوں میں داخل ہونے سے روکا جائے تاکہ آلودگی پیدا نہ ہو سکے۔
جن سینہ زوروں نے کمزوروں بیواؤں اور یتیموں کی زرعی زمینوں پر کئی برس سے قبضہ جما رکھا تھا اور وہ کسی قانون کی پروا نہیں کر رہے تھے ان سے وہ زمینیں واگزار کروائی جا رہی ہیں ۔ ممکن ہے ان کو زمین سے ہونے والی آمدنی بھی واپس کرنا پڑے ۔ ایسا ضرور ہونا چاہیے کیونکہ وہ کس برتے میں قابض تھے اس کی پیداوار سے مستفید ہو رہے تھے ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی حکومت ایسی کارروائی کرے گی مگر حکومت پنجاب نے مشکل سے مشکل کام بھی کر ڈالے ہیں ۔ کیا یہ بھی بڑا اقدام نہیں کہ پٹوار اور تھانہ کلچر کو تبدیل کیا جا رہا ہے بالخصوص پٹوار خانہ سے زمینداروں کو نجات دلائی جارہی ہے ۔تمام اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے بہت تھوڑی اراضی ہوگی جو کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوئی ہوگی رہائشی علاقوں کو بھی ریکارڈ پر لایا جا رہا ہے سروے ہو چکا ہے ۔ اس کے باوجود ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی سہولتیں دی جا رہی ہیں ۔
یہ تو موٹے موٹے اقدامات ہیں۔ ان سماجی پہلوؤں کو بھی زیر غور لایا گیا ہے جو اب تک ارباب اختیار کی نگاہوں سے اوجھل تھے۔ معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو بھی نکیل ڈالی جائے انہوں نے غریب عوام کو نوچنا شروع کر رکھا ہے ۔علاوہ ازیں ملاوٹ مافیا پر بھی ہاتھ ڈالا جانا ضروری ہے کیونکہ لوگوں کی رگوں میں زہر اتارا جا رہا ہے کھانے پینے کی ہر چیز میں مضر صحت چیزیں ملائی جا رہی ہیں جس سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے بہتر یہی ہے کہ غذاؤں کو ملاوٹ سے پاک کیا جائے اور کوئی معافی نہ دی جائے ۔
بہرحال حکومت پنجاب بہتری کے بہت سے پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے ان کے بارے میں کسی اگلے کالم میں ذکر ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button