پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

چین میں پہلی ہینگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ، پاک بحریہ کی جدید کاری میں اہم سنگِ میل

یہ اقدام پاکستان کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ ایک مضبوط، متوازن اور قابلِ اعتماد دفاعی پوزیشن برقرار رکھے گا,صدر مملکت آصف علی زرداری

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

چین کے شہر سانیا میں پہلی ہینگور کلاس آبدوز PNS/M HANGOR کی شاندار کمیشننگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں آصف علی زرداری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں ایڈمرل نوید اشرف سمیت پاک بحریہ اور چین کی بحری قیادت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جبکہ پی ایل اے نیوی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔


صدرِ پاکستان کا خطاب: دفاعی صلاحیت میں اضافہ

صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں ہینگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ کو پاک بحریہ کی جدید کاری میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ ایک مضبوط، متوازن اور قابلِ اعتماد دفاعی پوزیشن برقرار رکھے گا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا“پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، سمندری مفادات کے تحفظ اور قومی معیشت کے لیے اہم بحری راستوں کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”


نیول چیف کا مؤقف: جدید بحری طاقت کی ضرورت

پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے بحری چیلنجز پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ اہم میری ٹائم چوک پوائنٹس پر رکاوٹیں عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، جس کے پیش نظر جدید اور تکنیکی طور پر مضبوط بحری افواج کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ان کے مطابق ہینگور کلاس آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں، جدید سینسرز اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو انہیں طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے اور مؤثر کارروائی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔


خطے میں استحکام اور بحری سلامتی میں کردار

نیول چیف نے کہا کہ یہ آبدوزیں نہ صرف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائیں گی بلکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ہینگور کلاس آبدوزیں:

  • جارحیت کے خلاف مؤثر ڈیٹرنس فراہم کریں گی
  • بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اہم سمندری راستوں (SLOCs) کی حفاظت یقینی بنائیں گی
  • پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی کو مزید مستحکم کریں گی

تاریخی پس منظر: ہینگور کا شاندار ورثہ

ایڈمرل نوید اشرف نے اس موقع پر ہینگور کے تاریخی پس منظر کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ 1971 میں PNS Hangor نے دشمن کے جنگی جہاز کو تباہ کر کے عالمی سطح پر ایک منفرد مثال قائم کی تھی، اور یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی آبدوز تھی جس نے ایسا کارنامہ انجام دیا۔انہوں نے کہا کہ نئی ہینگور کلاس آبدوز اسی شاندار روایت کو آگے بڑھائے گی اور پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گی۔


پاک-چین دفاعی تعاون کی ایک اور مثال

پہلی ہینگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دفاعی تعاون اور مضبوط دوستی کا مظہر ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔


قومی قیادت کی مبارکباد

اس اہم موقع پر وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس کامیابی پر پوری قوم اور پاک بحریہ کو مبارکباد دی۔انہوں نے اس پیش رفت کو ملکی دفاع کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی بحری صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔


نتیجہ

پہلی ہینگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ نہ صرف پاک بحریہ کی جدید کاری میں ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ یہ پاکستان کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ آبدوزیں پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی، علاقائی استحکام اور اقتصادی مفادات کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button