
ڈی جی آئی ایس پی آر کی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی طالبات اور فیکلٹی سے خصوصی نشست، قومی امور پر سوالات کے تفصیلی جوابات
طلبہ کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنا اور انہیں معاشرے اور ملک کو درپیش مختلف معاملات کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
راولپنڈی:ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبات اور فیکلٹی ممبران کے ساتھ خصوصی نشست کی، جس میں قومی امور، معلومات کے مستند ذرائع اور موجودہ دور میں غلط اور گمراہ کن معلومات سے نمٹنے سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
خصوصی نشست کے دوران طالبات اور فیکلٹی ممبران کو براہِ راست سوالات کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے طالبات کی جانب سے کیے گئے سوالات کے مفصل اور مدلل جوابات دیے، جس کے باعث شرکا کو قومی امور سے متعلق مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور دستیاب معلومات کے بارے میں براہِ راست وضاحت حاصل کرنے کا موقع ملا۔
نشست میں سوال و جواب کے براہِ راست سیشن کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ طالبات نے مختلف امور سے متعلق اپنے سوالات اور تحفظات سامنے رکھے، جن پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت پیش کی۔ اس دوران بعض معاملات سے متعلق پائے جانے والے ابہام اور غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
نشست کا ایک اہم پہلو موجودہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کے حصول اور ان کی تصدیق سے متعلق گفتگو تھی۔ طالبات نے اس امر پر زور دیا کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیے جانے والے مواد میں بعض اوقات گمراہ کن یا غلط معلومات بھی شامل ہو سکتی ہیں، اس لیے کسی بھی اہم دعوے یا خبر کو حتمی طور پر قبول کرنے سے قبل اس کی مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔
طالبات کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے باعث ایسا مواد تیار کرنا آسان ہو گیا ہے جو بظاہر حقیقی معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کی حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں معلومات کی جانچ پڑتال، ذرائع کی شناخت اور مختلف معتبر ذرائع سے تصدیق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
نشست کے دوران طالبات کو یہ موقع بھی ملا کہ وہ قومی امور سے متعلق سوالات براہِ راست متعلقہ ادارے کے نمائندے کے سامنے رکھ سکیں۔ اس طرح انہیں مختلف معاملات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سوالات کے پس منظر اور متعلقہ پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملی۔
فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف نصابی معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ طالبات کی فکری اور عملی تربیت بھی تعلیمی عمل کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنا اور انہیں معاشرے اور ملک کو درپیش مختلف معاملات کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
وائس چانسلر نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ جامعات میں طلبہ کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ مختلف شعبوں کے ماہرین اور قومی اداروں کے نمائندوں سے براہِ راست گفتگو کر سکیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی نشستیں طالبات میں سوال کرنے، مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے اور معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
فیکلٹی ممبران نے بھی اکیڈیمیا اور قومی اداروں کے درمیان براہِ راست رابطوں کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات صرف تدریس اور تحقیق کے مراکز نہیں بلکہ معاشرے میں فکری آگاہی اور ذمہ دار شہریوں کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فیکلٹی کے مطابق قومی اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان براہِ راست روابط سے طلبہ کو مختلف قومی معاملات کے بارے میں بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس طرح کے مکالمے کے ذریعے طلبہ سوالات اٹھانے، معلومات کا جائزہ لینے اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔
طالبات نے خصوصی نشست کو مفید قرار دیتے ہوئے اس نوعیت کے پروگرامز کے تسلسل پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ براہِ راست سوال و جواب کے ذریعے انہیں قومی امور کے بارے میں اپنی الجھنیں دور کرنے اور مختلف معاملات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔
طالبات نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دستیاب معلومات کو بغیر تصدیق کے آگے بڑھانے سے گریز کیا جائے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کے دور میں ہر صارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات شیئر کرنے سے پہلے اس کے ماخذ اور درستگی کو جانچنے کی کوشش کرے۔
نشست کے دوران تعلیم، معلوماتی آگاہی اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے پہلو بھی نمایاں رہے۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ غلط استعمال اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ سے متعلق بھی آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خصوصی نشست نے اکیڈیمیا، طلبہ اور قومی اداروں کے درمیان براہِ راست مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی طالبات اور فیکلٹی ممبران نے مستقبل میں بھی ایسی نشستوں کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا، تاکہ نوجوانوں کو قومی امور، معلوماتی ذرائع اور بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول کے حوالے سے براہِ راست گفتگو اور سوال و جواب کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔



