مشرق وسطیٰاہم خبریں

اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینیوں سے بدسلوکی کے الزامات

 اس ہفتے اسرائیل کے چینل 12 نے ایک ویڈیو نشر کی جو بظاہر اسی مرکز میں ایک قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کو دکھاتی ہے۔

تانیہ کرامر

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں بدسلوکی اس حد تک معمول بن چکی ہے کہ اسے ادارہ جاتی شکل حاصل ہو گئی ہے۔ اسرائیلی جیل سروس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ان الزامات کا مرکز جنوبی اسرائیل میں واقع فوجی اڈہ سدی تیمان ہے، جہاں سات اکتوبر 2023 کو اسرائیلی عسکریت پسند تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد کے اسرائیل پر حملوں کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کی حراست اور تفتیش کے لیے ایک مرکز قائم کیا گیا تھا۔ ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 240 سے زائد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

 نتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی قوم پرستوں نے سدی تیمان اور بیت لید میں واقع ایک فوجی عدالت پر دھاوا بول دیا
نتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی قوم پرستوں نے سدی تیمان اور بیت لید میں واقع ایک فوجی عدالت پر دھاوا بول دیاتصویر: Amir Cohen/REUTERS

انہتائی دائیں بازو کی بڑھتی طاقت

دو ہفتے قبل درجنوں انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی قوم پرستوں نے، جن میں ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل تھے، جنوبی اسرائیل میں دو فوجی مقامات، سدی تیمان اور بیت لید میں واقع ایک فوجی عدالت پر دھاوا بول دیا۔ تاہم ان کا احتجاج سدی تیمان میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف نہیں تھا بلکہ وہ اسرائیلی فوج کے ان نو ریزرو اہلکاروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے تھے، جنہیں فوجی پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے۔

ان ریزرو اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے سدی تیمان میں ایک فلسطینی شخص کو جنسی زیادتی اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث اس کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ اسے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

اس ہفتے اسرائیل کے چینل 12 نے ایک ویڈیو نشر کی جو بظاہر اسی مرکز میں ایک قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کو دکھاتی ہے۔

فوجی اڈے پر دھاوے کے بعد ہونے والی بحث نے اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کو نمایاں کر دیا ہے۔ جہاں وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے تحمل کی اپیل کی، وہیں دیگر سیاست دانوں نے کھلے عام فوجیوں کے اقدامات کی حمایت کی اور انہیں استثنا دینے کا مطالبہ کیا۔

بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ

یہ معاملہ ایک بار پھر اسرائیلی حراستی مراکز اور جیلوں میں فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کی ان رپورٹوں کو سامنے لے آیا ہے، جو حالیہ مہینوں میں تیزی سے بڑھتی گئی ہیں۔ سدی تیمان میں بدسلوکی کی پہلی گواہیاں دسمبر 2023 میں سامنے آئیں، جب وہاں کام کرنے والے، زیادہ تر اسرائیلی ڈاکٹرز پر مشتمل، مخبروں نے بتایا کہ کئی قیدیوں کو ابتدا میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

اسرائیل – حماس جنگ: یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ

فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل کے شعبہ اسیران کے سربراہ ناجی عباس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ قیدیوں کی آنکھوں پر مسلسل پٹیاں بندھی رہتی تھیں، بعض اوقات 24 گھنٹے، ہفتوں اور مہینوں تک  ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب ہتھکڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ عباس کے مطابق کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک سدی تیمان ایک سیاہ خلا بنا رہا، جہاں کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔

سات اکتوبر کے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے بعد زیادہ تر فلسطینی قیدیوں کو بغیر کسی فردِ جرم اور بیرونی دنیا سے کسی رابطے کے سدی تیمان میں رکھا گیا، جہاں ان سے بغیر قانونی نمائندگی کے تفتیش کی گئی۔ بعد ازاں بہت سے افراد کو غزہ واپس چھوڑ دیا گیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حماس یا کسی اور مسلح گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

فلسطینی قیدیوں سے متعلق اعدادو شمار

اسرائیلی جیل سروس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر انسانی حقوق کی تنظیم ہموقید کا اندازہ ہے کہ اس وقت تقریباً 9,800 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں کم از کم 1,584 کو غیرقانونی جنگجو قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ سات اکتوبر کے بعد قائم کیے گئے حراستی مراکز بین الاقوامی قانون کے مطابق چلائے جا رہے ہیں۔ میڈیا تحقیقات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سدی تیمان بند کرنے کی درخواست کے بعد اسرائیل کی اعلیٰ عدالت نے حکومت سے قیدیوں کو باقاعدہ جیلوں میں منتقل کرنے کا کہا۔ اگرچہ زیادہ تر فلسطینیوں کو اب دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم آٹھ اگست تک کم از کم 28 قیدی سدی تیمان میں موجود تھے۔

سدی تیمان جیل کا ایک بیرونی منظر
سدی تیمان جیل کا ایک بیرونی منظرتصویر: Mostafa Alkharouf/Anadolu/picture alliance

کئی سابق قیدیوں نے اپنی حراست کے دوران پیش آنے والے حالات بیان کیے ہیں۔ 57 سالہ جمال دخان نے، جو مئی میں جبالیہ سے گرفتار ہوئے تھے، ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں تفتیش کے دوران مارا پیٹا گیا اور پھر دیگر افراد کے ساتھ ایک فوجی مقام پر منتقل کیا گیا، جو ان کے خیال میں سدی تیمان تھا۔

31 جولائی کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ قیدیوں کو پنجرہ نما کمروں میں رکھا گیا، طویل عرصے تک برہنہ رکھا گیا اور انہیں صرف ڈائپر پہننے پر مجبور کیا گیا۔ رپورٹ میں آنکھیں بند رکھنے، خوراک، نیند اور پانی سے محرومی، برقی جھٹکے، سگریٹ سے جلانے، کتوں کے حملے اور واٹر بورڈنگ جیسے طریقوں کا بھی ذکر ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ الزامات صرف فوجی مراکز تک محدود نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے نو آزاد ماہرین نے اس ہفتے کہا کہ سدی تیمان میں مبینہ تشدد اور جنسی تشدد صرف مسئلے کا ایک حصہ ہیں۔ اسرائیلی تنظیم بی تسلیم کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی جیلوں میں بدسلوکی اس حد تک معمول بن چکی ہے کہ اسے ادارہ جاتی شکل مل گئی ہے، اور جیلوں کو تشدد کے مراکز قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے دور میں حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے الزامات مسترد کر دیے

اسرائیلی جیل سروس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانون کے مطابق اور ریاستی نگرانی میں کام کرتی ہے اور کسی بھی شکایت کی جانچ کی جاتی ہے۔ فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک فلسطینی قیدی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں زیرِ حراست فوجیوں کی تفتیش جاری ہے اور شواہد نے ان پر شبہات کو مزید مضبوط کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button