جنرل

کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو کیسے تباہ کر رہا ہے؟

[ad_1]

کورونا، معیشت،تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

کورونا وائرس کی وجہ سے تیل کی عالمی طور پر طلب میں کمی ہوئی ہے

دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث اقتصادی کارکردگی میں شدید تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک یقینی طور پر اس کساد بازاری سے سخت متاثر ہوں گے جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 1930 کی دہائی کی گریٹ ڈپریشن کہلانے والی کساد بازاری سے اب تک کا سب سے بڑا اقتصادی بحران قرار دیا ہے۔

دنیا کا تقریباً ہر ملک اس سے متاثر ہوا ہے۔ آئئ ایم ایف کو خدشہ ہے کہ امیر و غریب 170 ممالک رواں سال فی کس اقتصادی سرگرمی میں تنزلی کا سامنا کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اوسط معیارِ زندگی میں گراوٹ آئے گی۔

ترقی پذیر ممالک کو یہ وبا مختلف طریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔

خام مال کی قیمتیں

کئی ممالک صنعتوں کے زیرِ استعمال مال برآمد کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں کئی فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے اس مال کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے چنانچہ ان کی قیمتیں گری ہیں، اور کچھ معاملوں میں تو یہ تنزلی انتہائی زیادہ ہے۔

تیل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کی طلب میں زبردست کمی ہوئی ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے لیے ایندھن کی طلب کم ہوئی ہے۔ اس ایندھن کا 90 فیصد سے زائد خام تیل سے بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس سے امریکہ کو معیشت میں ’بہتری کی امید‘

کورونا سے پاکستان میں ایک کروڑ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ

’کورونا وائرس انڈیا کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

تیل کے علاوہ تانبے کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے

یہ صورتحال تیل کے دو سب سے بڑے برآمد کنندگان روس اور سعودی عرب کے درمیان جاری قیمتوں کی جنگ کی وجہ سے مزید خراب ہوئی۔ ایسی غیر معمولی صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے جس میں تیل کی قیمتیں صفر سے گِر چکی ہیں۔

یہ تیل کی منڈی کی عمومی خاصیت نہیں ہے لیکن اس سے طلب اور رسد کے درمیان موجود زبردست عدم توازن کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔

دوسری چند چیزوں کی قیمتوں میں بھی زبردست کمی ہوئی ہے بھلے ہی یہ کمی تیل جتنی نہیں تھی۔ مثال کے طور پر تانبہ جنوری کے وسط سے اب تک 18 فیصد سستا ہوچکا ہے جبکہ زنک کی قیمت اب 20 فیصد تک گر چکی ہے۔

قیمتوں میں اس گراوٹ سے کاروبار اور ان حکومتوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے جو یہ اشیا برآمد کرتے ہیں۔

بین الاقوامی سرمایہ کاری

ترقی پذیر ممالک کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پیسہ نکالے جانے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اندر خطرہ مول لینے کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سرمایہ کاری کو فروخت کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک نسبتاً خطرناک ہے۔ اس میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بونڈز اور شیئرز شامل ہیں۔ اس کے بجائے وہ امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے نسبتاً محفوظ تصور کیے جانے والے ممالک میں اپنا پیسہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کا نتیجہ ‘دولت کے متضاد سمت میں بے مثال بہاؤ’ کی صورت میں نکلا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

جنوبی افریقی رینڈ دنیا کی ان کرنسیوں میں سے ہے جن کی قیمت کورونا وائرس کے سبب گری ہے

برسلز میں واقع تھنک ٹینک بروگل کے شائع کردہ ایک بلاگ میں میریک ڈومبروسکی اور مارٹا ڈومینگیز جیمینیز نے ان کئی مالیاتی اشاریوں کا تذکرہ کیا ہے جن سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش تناؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔

وہ روشنی ڈالتے ہیں کہ کیسے امریکہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بونڈز کی شرحِ منافع (جو کہ مالیاتی منڈیوں میں قرض لینے کی قیمت کی عکاسر کرتی ہے) میں خلیج وسیع ہوا ہے۔ یہ بسا اوقات علامت ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو یقین ہے کہ قرض لینے والوں بشمول حکومتوں کے لیے خطرہ زیادہ ہے اور وہ اپنے قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہوسکتے ہیں۔

اس کی ایک اور علامت دیوالیے پن کے خلاف انشورنس کی بلند قیمت ہے۔ اس کے بعد کئی ممالک کی کرنسی کی قدر میں زبردست کمی بھی اپنی جگہ ہے۔ یہ بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اپنی دولت نکالنا چاہ رہے ہیں۔

غیر ملکی قرضے

اس سے ایک اور مسئلہ بھی جنم لیتا ہے اور وہ ہے غیر ملکی قرضے۔ کسی ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی سے اس کے لیے دیگر کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی واپسی یا ان پر سود کی ادائیگی مہنگی ہوجاتی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں طبی بحران اور اس کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے دباؤ کی شکار ہیں تو قرضوں کی ادائیگی پہلے سے کم وسائل پر ایک سنگین بوجھ بن سکتی ہے۔

چنانچہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک تیز تر مہم جاری ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کرونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟

آئی ایم ایف اور دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں نے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے چند اقدامات اٹھائے ہیں جن میں اگلے چند ماہ میں قرضوں کے سود اور ان کی واپس ادائیگی میں کچھ آسانی کی جائے گی۔

آئی ایم ایف نے 25 ممالک (اکثریتی طور پر افریقی ممالک) پر واجب الادا رقوم کو اگلے چھ ماہ کے لیے رکن ممالک کی جانب سے عطیہ کیے گئے ایک ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے پورا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس میں برطانیہ کی جانب سے 18 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (15 کروڑ پاؤنڈ) کی رقم بھی شامل ہے۔ چنانچہ واقعتاً یہ ادائیگیاں اب منسوخ ہوچکی ہیں۔

جی 20 ممالک نے 77 ممالک سے متوقع قرضوں کی ادائیگیوں کو منسوخ کرنے کے بجائے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے جنھیں مئی میں موصول ہونا تھا۔ اب یہ سال کے آخر تک ادا کیے جا سکیں گے۔

اس مطلب یہ ہے کہ ادائیگیاں کرنے کے بجائے رقم کو آنے والے مہینوں میں بحران سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر انھیں آنے والے مہینوں میں پھر بھی رقم واپس ضرور کرنی ہوگی۔

چنانچہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں میں نرمی کی مہم چلانے والے افراد کا خیال ہے کہ جی 20 اور دیگران کو مزید کام کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے سماجی دوری اختیار کرنا یا گھر بیٹھنا مشکل ہو سکتا ہے

مثال کے طور پر جوبلی ڈیٹ کیمپین نے جی 20 کے اقدام کو پہلا قدم قرار دیا ہے مگر انھوں نے درخواست کی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی مکمل طور پر منسوخ کر دی جائے۔

انھوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ جی 20 کا یہ معاہدہ قرضے دینے والے نجی اداروں کا احاطہ نہیں کرتا۔ جی 20 نے صرف ان قرض خواہوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی غریب ترین ملکوں کو دیے گئے قرضوں کی ادائیگیاں ایسے ہی مؤخر کریں۔

جوبلی ڈیٹ کیمپین کی خواہش ہے کہ امیر ممالک قانون میں ایسی تبدیلیاں کریں جن کی رو سے نجی قرض خواہ ادائیگی نہ کر پانے والے ممالک کے خلاف قنونی چارہ جوئی نہ کر سکیں۔ یہ خاص طور پر نیویارک اور برطانیہ سے مناسبت رکھتا ہے جن کے قوانین زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کو دیے گئے قرضوں کی بنیاد بنتے ہیں۔

غیر رسمی کام

ترقی پذیر ممالک کے گنجان آباد علاقوں میں طبی مسائل سے نمٹنا بھی کئی مخصوص مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔ ان جگہوں پر سماجی دوری اختیار کرنا خاص طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی طرح غیر رسمی معیشت کہلانے والے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے گھر بیٹھ جانا مشکل ہو سکتا ہے۔

اوکسانا عبودہ سٹریٹ نیٹ انٹرنیشنل نامی ایک تنظیم چلاتی ہیں جو دنیا بھر کے ٹھیلوں اور پتھارے داروں کی نمائندگی کی دعوے دار ہے۔ انھوں نے حال ہی میں بی بی سی کے بزنس ڈیلی ریڈیو پروگرام میں اس حوالے سے گفتگو کی کہ ان کی تنظیم جن لوگوں کی نمائندہ ہے وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

‘ہمیں یہ خوفناک انتخاب کرنا ہوگا، یا تو ہم خود کو [انفیکشن کے] خطرے کی زد میں لائیں اور اپنی غیر رسمی ملازمت کرتے رہیں، یا اپنے خاندان کو بھوک کے خطرے کی زد میں چھوڑ دیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ دنیا بھر کے اربوں لوگوں کی حقیقت ہے، ترقی پذیر ممالک میں غیر رسمی ہی معمول ہے۔’

ترسیلاتِ زر

ترقی پذیر ممالک کو ممکنہ طور پر اس پیسے کی کمی کا بھی سامنا ہوگا جو تارکینِ وطن اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر اکثر امیر ممالک سے غریب ممالک کو بھیجی جاتی ہیں اور یہ کسی خاندان کے معیارِ زندگی کے لیے اہم سہارا ہوسکتی ہیں۔

عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے ان میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ بینک کے مطابق خاص طور پر تارکینِ وطن اپنی ملازمتیں اور آمدنی گنوانے کے خطرے کی زد میں ہیں۔

بینک کے مطابق ترسیلاتِ زر کی وجہ سے لوگ اچھا کھا سکتے ہیں، تعلیم پر زیادہ خرچ کر سکتے ہیں، اور اس سے بچوں سے مزدوری میں کمی آ سکتی ہے۔

[ad_2]
Source link

International Updates by Focus News

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button