
میجر محمد اکرم شہید نشانِ حیدر کا 54 واں یومِ شہادت— وطن کی خاطر جان نچھاور کرنے والے عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت
میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938ء کو ضلع گجرات کے قصبے ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں عسکری خدمات ایک روایت کی حیثیت رکھتی تھیں۔
مخدوم حسین.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
جہلم: مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے عظیم سپوت میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت آج نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور شہید کے مزار پر حاضری دے کر ان کی بہادری، شجاعت اور عظمت کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی — دلیری وراثت میں ملی
میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938ء کو ضلع گجرات کے قصبے ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں عسکری خدمات ایک روایت کی حیثیت رکھتی تھیں۔ خاندان کے کئی افراد پاک فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے چکے تھے، جس کے باعث ملک اور قوم کے لیے قربانی کا جذبہ ان کی گھٹی میں شامل تھا۔
فوج میں شمولیت اور پیشہ ورانہ سفر
انہوں نے 1961ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 4 فرنٹئیر فورس رجمنٹ کا حصہ بنے۔ جارحانہ حکمتِ عملی، غیر معمولی جرات اور قائدانہ صلاحیتوں کے باعث وہ جلد افسران میں نمایاں مقام حاصل کر گئے۔ 1970 میں آپ کو میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی، اور آپ مشرقی پاکستان میں جاری آپریشنز میں بھرپور کردار ادا کر رہے تھے۔
1971 کی جنگ — ہلی کا محاذ اور تاریخ ساز مزاحمت
1971 کی پاک بھارت جنگ میں میجر محمد اکرم نے ہلی کے محاذ پر اپنی کمپنی کی کمان سنبھالی۔ اس دوران بھارتی فوج کو توپ خانے، ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی برتری حاصل تھی، جبکہ پاکستانی دستے تعداد اور وسائل دونوں لحاظ سے محدود تھے۔ اس کے باوجود میجر اکرم کی قیادت میں ان کی کمپنی نے مسلسل پانچ دن اور پانچ راتوں تک بھارتی حملوں کو پسپا کیا۔
ہر حملے میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس نے بھارتی فوج کی پیش قدمی کو مکمل طور پر روک دیا۔ ان کی جرات اور حکمت عملی نے ہلی کے محاذ پر دشمن کی تمام پلاننگ کو ناکام بنا دیا۔
5 دسمبر 1971 — آخری معرکہ اور لازوال قربانی
5 دسمبر کو بھارتی فوج نے چاروں اطراف سے میجر محمد اکرم کی کمپنی کو گھیر لیا۔ اس نہایت مشکل صورتحال میں بھی انہوں نے آخری لمحے تک اپنی کمپنی کو منظم رکھا اور گولہ بارود کے محتاط استعمال کی ہدایت کی۔ اچانک بھرپور جوابی حملہ کر کے انہوں نے دشمن کو حیران کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارتی افواج کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے۔
دفاعِ وطن کی اس غیر معمولی لڑائی میں میجر محمد اکرم شدید زخمی ہونے کے باوجود ڈٹے رہے اور آخرکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ان کی بے مثال جرات کا اعتراف بھارتی کمانڈر اِن چیٖف نے بھی کیا، جو ان کی بہادری کی گواہی فراہم کرتا ہے۔
قومی اعزاز — نشانِ حیدر
ملک و قوم کے دفاع کے لیے ان کی عظیم قربانی اور شجاعت کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں نشانِ حیدر، جو کہ سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے، سے نوازا۔ وہ ہمیشہ پاکستانی تاریخ میں بہادری کی علامت کے طور پر زندہ رہیں گے۔
قوم کا اپنے ہیرو کو سلام
54 سال گزر جانے کے باوجود میجر محمد اکرم شہید کی یاد آج بھی قوم کے دلوں میں تازہ ہے۔ جہلم، گجرات، لاہور اور دیگر شہروں میں دعائیہ تقریب، قرآن خوانی اور شہید کے مزار پر سلامی پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ فوجی و سول افسران، طلبا، نوجوان اور شہری بڑی تعداد میں شہید کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔



