پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں شدت پسندوں کا کمرشل ڈرونز سے حملے: سکیورٹی ادارے شدید دباؤ کا شکار

ضلع بنوں اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں گزشتہ ڈھائی مہینوں کے دوران کم از کم آٹھ ڈرون حملے رپورٹ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ وائس آف جرمنی

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں دہشتگردی کے خطرناک رجحان میں ایک تشویشناک اور جدید تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں شدت پسند گروہ کمرشل ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ پیشرفت نہ صرف قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ شدت پسند اب جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر اپنی کارروائیوں میں جدت لا رہے ہیں۔

ڈھائی مہینوں میں آٹھ ڈرون حملے، ہلاکتیں اور زخمی

ضلع بنوں اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں گزشتہ ڈھائی مہینوں کے دوران کم از کم آٹھ ڈرون حملے رپورٹ ہو چکے ہیں۔
پولیس افسر محمد انور کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں ایک پولیس سٹیشن پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں قریبی مکان میں موجود ایک خاتون جاں بحق اور تین بچے زخمی ہو گئے۔
دو روز قبل ایک اور ڈرون پولیس سٹیشن کے قریب پرواز کرتا پایا گیا، جسے اہلکاروں نے رائفل فائر کر کے مار گرایا۔
ڈرون میں ایک مارٹر شیل نصب تھا، جو اگر گرایا جاتا تو تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔

ڈرونز میں نصب دیسی بم اور مارٹر شیلز

پانچ سکیورٹی اہلکاروں نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شدت پسند ڈرونز کے ذریعے آئی ای ڈیز (بم) اور مارٹر گولے ہدف پر گرا رہے ہیں۔
یہ بم عموماً بال بیرنگ، کیلوں اور دھات کے ٹکڑوں سے بھرے ہوتے ہیں تاکہ دھماکے کی شدت میں اضافہ ہو اور جانی نقصان زیادہ ہو۔

شدت پسند اب بھی "ٹریننگ موڈ” میں ہیں

علاقائی پولیس چیف سجاد خان کے مطابق شدت پسند ابھی تک ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کے تجرباتی مرحلے میں ہیں۔
ان کے الفاظ میں:

"انہوں نے یہ جدید ٹولز حاصل تو کر لیے ہیں، لیکن وہ ابھی درست نشانہ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ تاہم یہ خدشہ موجود ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔”

وسائل کی شدید کمی، پولیس بے بس

خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید نے اعتراف کیا کہ پولیس کے پاس ڈرونز کے خلاف کاؤنٹر ٹیکنالوجی موجود نہیں۔
انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:

"عسکریت پسند ہم سے بہتر ہتھیاروں اور وسائل سے لیس ہیں۔ ہمارے پاس نہ تو اینٹی ڈرون رادار سسٹمز ہیں اور نہ ہی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا کوئی مربوط نظام۔”

ٹی ٹی پی کی تردید، لیکن اشارے ان کی طرف

ابھی تک کسی شدت پسند گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جو خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں سب سے زیادہ متحرک گروہ ہے، نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
ٹی ٹی پی کے ترجمان نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا:

"ہم ابھی تک اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تردید کے باوجود ٹی ٹی پی کے ماضی اور حالیہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے یہ ممکنہ ذمہ دار تنظیم کے طور پر ابھرتی ہے۔

ملک بھر میں دہشتگردی کا رجحان تشویشناک

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (PIPS) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں شدت پسندوں نے ملک بھر میں 335 حملے کیے جن میں 520 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ حملے خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں زیادہ دیکھے گئے، جہاں سکیورٹی فورسز، پولیس، اور سرکاری عمارات کو ہدف بنایا گیا۔

ماہرین کا انتباہ: "ڈرون حملے خطرناک موڑ پر”

دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ شدت پسند گروہوں کی جانب سے ڈرونز کا استعمال پاکستان کے لیے ایک نیا سکیورٹی چیلنج ہے، کیونکہ یہ ہتھیار دور سے کنٹرول ہوتے ہیں، ان کی لاگت کم اور اثرات شدید ہوتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا ہے:

"یہی ٹیکنالوجی اگر دہشتگردوں کے ہاتھ مضبوط کرتی رہی تو سکیورٹی فورسز کے لیے زمینی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔”


نتیجہ: حکومتی ردعمل اور مستقبل کا لائحہ عمل

حکومت اور سکیورٹی اداروں کے سامنے اب نہ صرف ایک نیا تکنیکی چیلنج ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کی پالیسی پر نظرثانی کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی، ڈرون ڈیٹیکشن سسٹمز اور سکیورٹی فورسز کی تربیت پر فوری توجہ دینا ہوگی۔

اگر ریاستی ادارے اس ابھرتے ہوئے خطرے کا مؤثر جواب نہ دے سکے تو آنے والے مہینوں میں شدت پسند عناصر کے لیے مزید منظم اور مہلک حملے ممکن ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button