حیدر جاوید سیدکالمز

’’دیوانِ آشکار‘‘ سچل سرمستؒ……..حیدر جاوید سید

مگسی صاحب نے پھر سچل سرمستؒ کا ایک شعر سنایا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا ’’سچلؒ سے سوال ہوا، سچلؒ زندگی کیا ہے، خاک کی چٹکی ہوا کے دوش پہ رکھتے ہوئے سچل بولے یہ ہے زندگی‘‘۔

شاعر ہفت زباں سچل سرمستؒ سے پہلا تعارف کلاس نہم کے دوران اس دن ہوا جب ہمارے ایک معلم (استاد) مگسی صاحب نے سندھ کے تین صوفی شعراء سچلؒ، سامی اور شاہؒ کاایک ایک شعر سناکر ان اشعار کا سلیس اردو ترجمہ کیا۔
نصف صدی بعد یہ سطورلکھتے ہوئے مگسی صاحب کا پرجلال مگر شفیق چہرہ آنکھوں میں اتر آیا ہے۔ استاد مکرم کلاس میں پڑھاتے یا سکول میں کسی بچے (طالب علم) سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیشہ ’’میڈے بچو یا آئو فرزند‘‘ کہہ کر بات کرتے تھے۔
اس دن انہوں نے کہا میڈے بچوں میں تمہیں سندھ دھرتی کے تین صوفی شعراء کا ایک ایک شعر سناتا ہوں۔ مرشد شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا جو شعر انہوں نے سنایااس کا ترجمہ کچھ یوں تھا ’’سرمدی نغمہ وہی الاپتا ہے جس میں اپنے لہو سے غسل لینے کا حوصلہ ہو‘‘۔
سامی کا شعر تھا ’’دوست سندھو ندی کے ٹھنڈے اور میٹھے پانیوں کی طرح ہوتے ہیں‘‘ مجھے یاد پڑتا ہے کہ سامی کا یہ شعر سناکر استاد مکرم چند ساعتوں کے لئے خاموش ہوئے پھر بولے ’’میڈے بچو سچل سرمستؒ کہتے ہیں ’’شرط یہ ہے کہ دوست ہو‘‘۔ یعنی سامی کے اس خیال پر یا پھر دوست کی ذات بارے سچلؒ کہتے ہیں ’’جو دوست ہو وہی سندھو ندی کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی طرح ہوتا ہے۔
مگسی صاحب نے پھر سچل سرمستؒ کا ایک شعر سنایا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا ’’سچلؒ سے سوال ہوا، سچلؒ زندگی کیا ہے، خاک کی چٹکی ہوا کے دوش پہ رکھتے ہوئے سچل بولے یہ ہے زندگی‘‘۔
مجھے سچلؒ، سامی اور شاہؒ کچھ یوں یاد آئے کہ حیدر آباد میں مقیم میرے عزیز دوست اور سرائیکی زبان کے شاعر مدثر بھارا نے مجھ طالب علم کی درخواست پر ’’محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ‘‘ کے زیراہتمام سچل سرمستؒ کے فارسی دیوان ’’دیوانِ آشکار‘‘ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ تلاش اور حاصل کر کے بھجوایا ہے ۔
’’دیوانِ آشکار‘‘ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ قاضی علی اکبر درازی کی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نظرثانی اور مقدمہ سئیں ڈاکٹر مخمور بخاری نے تحریر کیا ہے۔ قاضی علی اکبر درازی اور ڈاکٹر مخمور بخاری سندھی دانش کے ماہتاب ہیں۔ ’’دیوانِ آشکار‘‘ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ متاثرین و محبینِ سچل سرمستؒ کے لئے تو ایک گراں قدر تحفہ ہے ہی یہ ادب اور بالخصوص تصوف کے طلباء کے لئے بھی روح کی غذا ہے۔
اپنے مطالعے کی بنیاد پر میری ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ سچل سرمستؒ صوفی ہیں ملامتی صوفی وہ خانقاہی نظام کے ان ’’صوفیاء‘‘ میں سے نہیں جن کا رزق مریدوں کے نذرانوں سے بندھا ہوا ہو بلکہ سچلؒ ان صوفیاء میں سے ہیں جنہوں نے جمع اور طمع کو تین سلام کرکے سفر حیات طے کیا۔
سچل وحدت الوجود کو زندگی کے لئے روشنی سمجھتے ہیں وہ ہمارے ممدوح و محبوب حسین بن منصور حلاجؒ کے عاشق صادق ہیں۔ حلاج کی فکر و فہم بارے ان کی تقریباً وہی رائے ہے جو شاہ حسینؒ اور مرشد کریم سید عبداللہ شاہ المعروف بابا بلھے شاہؒ کی ہے۔
ہمارے ہاں ہر صاحب مزار کو صوفی سمجھا کہا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہر صاحب مزار صوفی نہیں ہوتا۔ جمع اور طمع سے بچ کر سفر حیات طے کرنا صوفی ہونے کی پہلی شرط ہے۔ تُلسی داس کہتے ہیں ’’مورکھ اگر ایک چوتھائی روٹی سے زندہ رہا جاسکتا ہے تو پوری روٹی پیٹ کے دوزخ میں کیوں ٹھونستے ہو‘‘۔
سچل سرمستؒ کا نام عبدالوہاب ہے، اپنی صاف گوئی اور روشن فکروکلام کی بدولت سچل، سچو، سچیڈنہ کے ناموں سے پکارے گئے سچل سرمست کے نام سے چہار دانگ عالم مشہور ہوئے۔
تاریخ نویسوں کےبقول ان کے اجداد میں سے ایک صاحب، شیخ شہاب الدین فاروقی غازی ، محمد بن قاسم کے حملہ سندھ کے وقت اس کے ہمراہ آئے۔ سندھ کی فتح کے بعد یہیں کے ہورہے۔ یہ بھی بتایا جاتاہے کہ انہی شیخ شہاب الدین کو فتح سندھ کے بعد سیستان (سہون) کا حاکم بنایا گیا ۔
سچل سرمست ، شیخ شہاب الدین کی اولاد میں سے ایک بزرگ خواجہ محمد حافظ المعروف سائیں صاحبڈانہ کے فرزند خواجہ صلاح الدین کے نورنظر ہیں۔ سچل 1739عیسوی بمطابق 1152ہجری میں پیدا ہوئے۔ روایات کے مطابق ان کاشجرہ نسب 39 واسطوں سے خلیفہ دوئم حضرت عمرفاروقؓ سے جاملتا ہے۔ سچل سرمستؒ نے عربی، فارسی، اردو، ہندی، سرائیکی، سندھی اور پنجابی میں شاعری کی اسی لئے شاعر ہفت زبان کہلائے۔
’’دیوانِ آشکار‘‘ ان کے فارسی کلام کا دیوان ہے۔ قاضی علی اکبر درازی نے ’’دیوانِ آشکار‘‘ کی پہلی جلد کا ترجمہ کیا ہے۔ سچل سرمستؒ حسین بن منصور حلاجؒ کے عاشق صادق اور انہی کی فکروفہم کی دنیا کے آدمی تھے۔ ایک مرحلہ پر جب سچل سرمست نے یہ کہا:
ہر کجا یم جا بجایم من فدایم من خدا
ایں چہ شد پوشیدہ ام ازدور این خاکی قبا
تو اس وقت کے مولوی صاحبان ان کی جان کے درپے ہوگئے۔ سچلؒ ملاوں کی تعزیر سے بچ نکلے تو بولے، انا الحق کانعرہ میں نہیں وہ ذات پاک لگاتی ہے جو لازوال ہے۔
قاضی علی اکبر درازی نے پروفیسر ابراہیم خلیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’سچل سرمستؒ اسلامی تصوف کے فلسفہ ہمہ اوست کے عظیم مبلغ تھے۔ سچل سرمستؒ کہتے ہیں ’’عارفی اور عاشقی دونوں ہمارے یار کی شان ہوئے ہیں ۔ صبر کر یہ اسرار بیان نہ کر۔ لیکن کیا کروں، بے خود و بے بس ہوں‘‘۔
"دوست کے خطوط پڑھ کر دل بہت بے قرار ہے ، اور ہم نے اپنے پیراہن کا گریبان چاک کردیا‘‘۔ "دل کو اس کی محبت نے قید کردیا۔ دوست کے فراق میں آہ و زاری کررہا ہوں۔ یار کے بغیر صبح و شام کیسے ہو‘‘۔
’’اُسی‘‘ نے تو کہا تھا ’’انسان میرا راز ہے اور میں اس کاراز ہوں۔ میں نے اس کا یقین کرلیا۔ اس دنیا میں آشکار نام رکھ کر آیا ہوں‘‘۔ سچلؒ کہتے ہیں ’’شراب کا پیالہ آشکار (فارسی کلام میں سچلؒ نے آشکار تخلص استعمال کیاہے) کے سپرد کردیجئے۔ پیاسوں سے پیالہ شراب مت چھپایئے’’۔
’’دو جہاں میں عشق جلوہ گر ہوگا عقل تو نظر بھی نہیں آئے گی‘‘۔ ’’اے دل تو سمجھ لے جو تجھ سے باہر ہے وہ ہیچ ہے‘‘۔ ’’عقل گھوڑا ہے اور عشق شہسوار‘‘۔ ’’طالب عشق ہے تو اپنے دل میں جستگی اور شکستگی پیدا کر‘‘۔ ’’یار تو یاروں کو پوچھتا ہی نہیں ہے، اس کو بارش کی پروا نہیں ہے‘‘۔
’’عاشق کے دل میں گل لالہ کی طرح داغ ہے لیکن ان عشاق دل افگار کو کوئی پوچھتا نہیں‘‘۔ حاذق طبیب تو محبوب ہے‘‘۔ ’’یار کی پیچ در پیچ زلفیں دام کی طرح ہیں۔ جو اس دام میں گرفتار ہیں ان کو تو وہ پوچھتا ہی نہیں‘‘۔
"محبوب بے نیاز ہوتا ہے وہ عشاق کی بے قرار کو پوچھتا ہی نہیں‘‘۔ ’’ظاہری علم مٹ گیااور باطنی علم سطح پر ابھر آیا۔ عشق کی موجودگی کی وجہ سے باطنی علم ظاہر ہوگیا‘‘۔ ’’عشق نے میرے اوپر معنی (اصل حقیقت) کے دروازے کھول دیئے۔ سمندر کی طغیانی اندرونی حقیقت کو سطح پر لے آئیٔ‘‘۔
سچلؒ کہتے ہیں ’’میرے دل سے کعبہ اور بت خانے کا خیال مٹ گیا اور عاشقی ہم کو کفروایمان کے دائرہ سے کھینچ کر باہر لے آئی‘‘۔ ’’آشکار اگرچہ ایک مسکین، عاجز اور بے کس ہے لیکن اس کے باوجود شہنشاہِ عشق اس کے گھر میں جلوہ افروز ہوا ہے‘‘۔ ’’یہ جو جابجا محبوب جلوہ فرما ہے یہ تمام حسن یار ہی تو ہے‘‘۔ ’’جس کو یار کے عشق کا درد دامن گیر ہو اس کی آنکھیں ہمیشہ اشکبار رہتی ہیں”۔
"اے آشکار! میں نے عشاق سے سنا ہے کہ عاشق کا سرسولی پر ہوتا ہے‘‘۔ ’’عاشق اور معشوق میں کوئی فرق نہیں انسان سے سایہ جدا نہیں ہوتا ‘‘۔ ’’تو اپنے راز سے آگاہ ہوجائے تو کسی خوف و جھجک کے بغیر اناالحق کا نعرہ لگادے‘‘۔
’’اس کے راز کو ظاہر کرتا ہے لیکن سچ کہنا اچھی بات ہے۔ سچل سرمستؒ نے 11اپریل 1827ء بمطابق 14رمضان المبارک 1242 ہجری دنیاسرائے سے پڑائو اٹھایا اور یار سے ملاقات کے لئے روانہ ہوگئے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button