پیر مشتاق رضویکالمز

ضلع راجن پور کی الیکشن اپ ڈیٹ!!…. پیر مشتاق رضوی

این اے 188 راجن پور میں مرد ووٹرز حضرات کی تعداد 2 لاکھ 3760 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ71 ہزار ایک ہے راجن پور کے قومی حلقہ 188 میں کل 219 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں

ضلع راجن پور کے تین قومی اور چھ صوبائی حلقے ہیں ضلع راجن پور میں کل ووٹرز 11 لاکھ 46ہزار 304 ہیں جن میں مرد ووٹرزکی تعداد چھ لاکھ 19232 اور خواتین ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 27 ہزار 72 ہے ضلع بھر میں کل 667 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں 185 مرد ووٹرز کے لیے جبکہ 176 خواتین کے اور 306 کمبائنڈ پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں ان پولنگ سٹیشنز پر ایک ہزار 119 پولنگ بوتھ مردوں کے لیے جبکہ 899 پولنگ بوتھ خواتین کے لیے ہوں گے اور کل 2018 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گئے ہیں جام پور کے قومی حلقہ این اے 187 میں مرد ووٹرزکی تعداد 2- لاکھ 13839 ہے جبکہ خواتین کی تعداد ایک لاکھ 81 ہزار 398 ہے اور کل ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 95237 ہے اس قومی حلقہ این اے 187 میں ووٹرز کے لیے 237 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں 81 مرد حضرات کے لیے 77 خواتین کے لیے اور 79 کمبائنڈ پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور یہاں کل 710 کولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جن میں 399 مردوں کے لیے اور 311 خواتین کے لیے ہوں گے
این اے 188 راجن پور میں مرد ووٹرز حضرات کی تعداد 2 لاکھ 3760 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ71 ہزار ایک ہے راجن پور کے قومی حلقہ 188 میں کل 219 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں 60 مرد حضرات کے لیے 56 خواتین وٹرز کے لیے اور 103 کمبائنڈ قائم کیے گئے ہیں جبکہ یہاں پر 366 پولنگ بوتھ مردوں کے لیے 301 خواتین کے لیے اس طرح مجموعی طور پر 667 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں اسی طرح روجہان کے حلقہ این اے 189 میں مرد ووٹرزکی تعداد دو لاکھ ایک ہزار633 اور خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 74673 ہے اس طرح کل ووٹرز کی تعداد تین لاکھ 76 ہزار306 ہے قومی حلقہ این اے 89 راجن پور میں کل 211 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں 44 مردوں کے لیے 43 خواتین کے لیے اور 24 کمبائنڈ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں یہاں پر 354 پولنگ بوتھ مردوں کے لیے 287 پولنگ بوتھ خواتین کے لیے اور کل 641 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں
ضلع راجن پور کے صوبائی حلقوں میں پی پی 292 راجن پورنمبر 1جام پور کا علاقہ ہے اس میں کل ووٹرز کی تعداد 2- لاکھ پانچ ہزار 304 ہے جبکہ اس میں مرد ووٹرز ایک لاکھ 1245 ہیں اور خواتین ووٹرز کی تعداد 92855 ہے بی پی 292 کے صوبائی حلقے میں کل 117 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں 38 مردوں کے لیے ہے 35 خواتین کے اور 44 کمانڈ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر 204 مردوں کے پولنگ بوتھ اور 109 پولنگ بوتھ خواتین کے لیے مجموعی طور پر 353 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں صوبائی حلقہ پی پی 293 راجن پور نمبر2محمد پور کا علاقہ ہے اس میں کل ووٹرز ایک لاکھ 89ہزار937 ہیں جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ 1394 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 86543 ہے پی پی 293 کے حلقے میں 120 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جس میں مرد حضرات کے لیے 43 خواتین کے لیے 42 اور کمبائنڈ 35 پولنگ اسٹیشنز ہیں اور یہاں 195 بوتھ مردوں کے اور 162 خواتین کے مجموعی طور پر 357 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں صوبائی حلقہ پی پی 294 راجن پور نمبر3 فاضل پور کا علاقہ ہے اس میں کل ووٹرز کی تعداد لاکھ 94392 ہے جس میں مرد ایک لاکھ 6749 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 87 ہزار 643 ہے اس انتخابی حلقہ میں کل 111 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں 29 مردوں کے لیے 28 خواتین کے لیے اور 54 کمبائنڈ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے جہاں پر 185 پولنگ بوتھ مرد حضرات کے لیے 153 پولنگ بوتھ خواتین کے لیے اور کل 388 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں صوبائی حلقہ پی پی 295 راجن پور میں ووٹرز کی کل تعداد ایک لاکھ 80369 ہے جبکہ مرد حضرات 97 ہزار 11 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 83 ہزار 358 ہے صوبائی حلقہ 295 میں کل 108پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں 31 پولنگ اسٹیشنز مردوں کے لیے، 28 خواتین کے لیے اور 49 کمبائڈ پولنگ اسٹیشن ہوں گے جہاں پر 181 پولنگ بوتھ مردوں کے لیے 48 خواتین کے لیے اور کل 329 بوتھ بنائے جائیں گے صوبائی حلقہ پی پی 296 راجن پور 5 کوٹ مٹھن کا علاقہ ہے اس میں مرد ووٹرز کی تعداد 99ہزار 59 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 86 ہزار 71 ہے اور کل ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 86 ہزار 130 ہے پی پی 296 میں کل 109 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جن میں 26 26 خواتین و مردوں کے لیے اور کمبائنڈ 57 پولنگ اسٹیشن ہوں جہاں پر 331 پولنگ بوت بنائی جائیں گے جن میں 150 مردوں کے لیے اور 146 خواتین کے پولنگ بوتھ شامل ہوں گے صوبائی حلقہ پیپی 297 راجن پور6 روجھان کل انتخابی حلقہ ہے اس میں ووٹرز کی کل تعداد ہے ایک لاکھ 91 ہزار 176 جس میں مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 2574 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 88602 ہے اس حلقے میں 102 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے 18 مرد حضرات کے لیے 17 خواتین ووٹرز کے لیے اور 67 کمبائنڈ ووٹرز کے لیے ہوں گے جہاں پر 129 مردوں کے لیے اور 141 بوتھ خواتین کے لیے کل 310 بوتھ بنائے جائیں گے
راجن پور کے قومی حلقہ این اے 187 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار عمار خان لغاری پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار اطہر حسن گورچانی ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سردار عاطف خان دریشک اور تحریک لبیک کے سردار غلام یاسین خان کھوسہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے سردار عمار خان لغاری کی پوزیشن مستحکم نظر آتی ہے جبکہ این اے 188 راجن پور میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر حفیظ خان دریشک کا تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار دریشک قبائل کے چیف سردار احمد علی خان دریشک سے کانٹے دار مقابلہ ہوگا جبکہ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عرفان اللہ ملک ،تحریک لبیک کے سہیل انور جٹ بھی اس نشست پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیںاین اے 188 راجن پور سے سابق ایم پی اے سردار احمد علی خان دریشک امیدوار ہیں جبکہ انہی کے ساتھ پی پی 294 سے ان کے بھائی سردار عاطف علی دریشک امیدوار ہیں پی پی. 295 سے فاروق امان اللہ دریشک اور پی پی. 296 سے محمد اویس خان دریشک امیدوار ہیں۔یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں دوسری جانب انکے مد مقابل بھی انہی کے خاندان کے امیدوار مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر مدمقابل ہیں احمد علی خان دریشک کے مقابلے میں سابق ایم این اے ڈاکٹر حفیظ الرحمان خان دریشک فاروق امان اللہ خان دریشک کے مقابلے میں سابق چئیرمین ضلع کونسل اور حفیظ الرحمان دریشک کے فسٹ کزن عبدالعزیز المعروف جگن خان دریشک اور اویس خان دریشک کے مقابلہ میں ڈاکٹر حفیظ خان دریشک کے بھائی محمد یوسف خان دریشک امیدوار ہیں ۔ این اے 189 روجہان پر مسلم لیگ ن کے سردار ریاض محمود خان مزاری، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سردار شمشیر خان مزاری کے علاوہ تحریک لبیک کے قاری غلام اکبر صادقی اور دو خواتین امیدوار جس میں جماعت اسلامی کی محترمہ عفیفہ اطہر اور تحریک نظام مصطفیٰ کی امیدوار محترمہ سنگیتا مریم الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں مسلم لیگ ن کے سردار ریاض محمود مزاری اور تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سردار شمشیر خان مزاری کے درمیان سخت انتخابی معرکہ ہوگا
تحصیل جام پور کے علاقہ تمن گورچانی لال گڑھ سے باپ اپنے دو بیٹوں سمیت میں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔
پی پی 292 راجن پور سے شیر افگن گورچانی پی پی 293 سے ان کے بھائی سابق ڈپٹی اسپیکر شیر علی گورچانی اور پی پی 294 سے ان کے والد پرویز اقبال گورچانی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔
واضح رہے کہ 2018 میں بھی باپ بیٹا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر تھے مگر اچانک نشانات کی الاٹمنٹ کے وقت پارٹی ٹکٹ چھوڑ کر جیپ کے نشان پر آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا اور پی ٹی آئی کے امیدواروں سے شکست کھا گئے تھے ۔۔راجن پور کے صوبائی حلقہ پی پی 292 جامپور پر مسلم لیگ ن کے سردار شیر افگن گورچانی، آزاد امیدوار احمد نواز گلفاد اور ذوالفقار علی احمدانی کے علاوہ پی پی کے امیدوار اسد امین گوپانگ ، تحریک لبیک کے غلام یاسین کھوسہ ،جماعت اسلامی کے عبدالغفار کورائی بھی الیکشن لڑ رہے ہیں کہا جاتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سردار شیر افگن گورچانی بآسانی صوبائی سیٹ پر کامیاب ہو جائیں گے پنجاب اسمبلی کا حلقہ پی پی 293 جام پور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سردار شیر علی گورچانی اور آزاد امیدوار مرزا شہزاد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار اور سابق ایم پی اے محترمہ شازیہ عابد بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں راجن پور کے صوبائی حلقہ پی پی 294 نمبر 3 پر جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عرفان اللہ ملک, پاکستان مسلم لیگ ن کے سردار پرویز خان گورچانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری اختر علی ارائیں اور پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ سردار عاطف خان دریشک الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اس صوبائی نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار پرویز خان گورچانی کی پوزیشن مستحکم نظر آتی ہے جبکہ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عرفان اللہ ملک اور پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ سردار عاطف خان دریشک بھی تگڑے امیدوار ہیں
راجن پور کے صوبائی حلقہ کا 295 پر مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار عبدالعزیز خان عرف جگن خان دریشک ،آزاد امیدوار چودری مسعود اختر اور سابق ایم پی اے ،پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ سردار فاروق امان اللہ خان دریشک کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے اس نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار یوسف خان گبول جماعت اسلامی کے ڈاکٹر رانا راشد لطیف اور تحریک لبیک کے سردار زاہد محمود مزاری بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں پی پی 296 راجن پور میں سردار یوسف خان دریشک اور سابق ایم پی اے سردار اویس دریشک کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا جبکہ تحریک لبیک کے سردار زاہد محمود مزاری ، آزاد امیدوار چوہدری ماجد مسعود اختر بھی اس نشست پر الیکشن لڑ رہے ہیں آزاد امیدوار سردار اویس خان دریشک کو تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے صوبائی حلقہ پی پی 297 روجھان پر سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے سردار دوست محمد مزاری اور تحریک کے انصاف کی حمایت یافتہ سردار خضر خان مزاری کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا اس نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سلیم جان بھٹو اور تحریک لبیک کے علامہ اکبر صادقی بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں
189 راجن پور روجہان سے سابق نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر خان مزاری کے صاحبزادے سابق ایم این اے ریاض محمود مزاری مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں جبکہ ,2018 کے انتخابات میں پی ٹئ آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے اور عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران باغی ہوگئے تھے ان کے مد مقابل سردار شمشیر علی خان مزاری کی حمایت ان کے حقیقی اور بڑے بھائی سابق صوبائی وزیر زاہد محمود خان مزاری کررہے ہیں اور یہ مقابلہ بھی سخت نظر آرہا ہے اسی طرح ان کے بھتیجے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست محند خان مزاری جوکہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ہی کامیاب ہوکر ڈپٹی اسپیکر بنے تھے اور عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کے تحریک کے موقع پر منحرف ہوگئے تھے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر ہیں جبکہ انہی کے خاندان سے ان کے انتہائی قریبی عزیز حمزہ خان مزاری ان کے مد مقابل ہیں.

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button