انٹرٹینمینٹ

چوتھی بار ’البم آف دی ایئر‘، ٹیلر سوئفٹ نے گریمی ایوارڈز میں تاریخ رقم کر دی

امریکی شہر لاس ایجنلس میں اتوار کو ہونے والی تقریب ایوارڈز کی تقریب میں زیادہ تر انعامات خواتین فنکاروں کے حصے میں آئے ہیں۔

مشہور امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے موسیقی کی دنیا کا ایک نیا اعزاز حاصل کر لیا ہے اور ان کے البم کو ’البم آف دی ایئر‘ کا گریمی ایوارڈ چوتھی بار مل گیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔امریکی شہر لاس ایجنلس میں اتوار کو ہونے والی تقریب ایوارڈز کی تقریب میں زیادہ تر انعامات خواتین فنکاروں کے حصے میں آئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹیلر سوئفٹ آج کل اپنے کنسرٹس کے سلسلے میں ایک ایسے دورے کے وسط میں ہیں، جس میں وہ مختلف ممالک میں پرفارم کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اپریل میں اپنا نیا البم بھی ریلیز کریں گی۔34 سالہ گلوکارہ کے البم ’مڈ نائٹس‘ سال کے بہترین البم کا انعام دیا گیا ہے، جس سے موسیقی کی دنیا کے لیجنڈز فرینک سیناترا، پال سائمن اور سٹیو ونڈر کے اس اعزاز کی چمک کم ہوئی ہے جو ان میں سے ہر ایک کو تین، تین بار ملا تھا۔جس وقت ان کے نام کا اعلان کیا گیا اس وقت وہ سٹیج پر موجود تھیں، اس وقت وہ جھوم اٹھیں اور کہا کہ گانے لکھتی اور گاتی رہیں گی۔’اس سے مجھے خوشی ملی ہے، میں اس سلسلے کو جاری رکھوں گی۔‘اس سے قبل ٹیلر سوئفٹ کے لیے جب بہترین پاپ گلوکارہ کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا، اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’دی ٹارچرڈ پوئٹس ڈیپارٹمنٹ‘ 19 اپریل کو ریلیز کریں گی۔انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں فینز کا شکریہ یہ راز بتا کر ادا کرنا چاہتی ہوں جو کہ میں نے پچھلے دو سال سے چھپا رکھا تھا۔‘بیلے ایلش کے گانے ’واٹ واز آئی میڈ فار‘ کو سال کا بہترین گانا قرار دیا گیا، جو انہوں نے فلم ’باربی‘ کے لیے لکھا تھا۔اسی طرح مائلی سائرس کے’فلاورز‘ نے سال کے بہترین ترانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔اسی طرح نئے آنے والے فنکاروں میں آر اینڈ بی اور پاپ سنگر وکٹوریو مونیٹ کو قرار دیا گیا۔فاتحین کے ناموں کا انتخاب جس جیوری نے کیا اس میں موسیقار، پروڈیوسرز، انجینیئرز اور موسیقی کے شعبے سے وابستہ دیگر ماہرین شامل تھے۔اکیڈمی نے اس میں گزرے چند سال کے دوران نئے ناموں اور خواتین کو شامل کر کے تنوع پیدا کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button