طیبہ بخاریکالمز

اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے ۔۔۔طیبہ بخاری

ہم کس طرح کے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔۔۔ یہ کیسی درندگی ہے۔۔۔ کیسی بے حسی کا عالم ہے

منیر نیازی نے کہا تھا کہ
منیراس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
ہم کس طرح کے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔۔۔ یہ کیسی درندگی ہے۔۔۔ کیسی بے حسی کا عالم ہے
معلوم نہیں یہ کیسی غیرت ہے؟۔۔۔ جعلی غیرت
کیا کچھ جعلی اور کتنا جعلی ہے معاشرے میں۔۔۔
جعلی مینڈیٹ۔۔ جعلی دعوے۔۔ جعلی ادارے۔۔ جعلی افسر۔۔جعلی وکیل۔۔گھوسٹ یعنی جعلی سکولز۔۔جعلی طلباء۔۔ جعلی ڈگری۔۔جعلی کرنسی۔۔ جعلی ڈاکٹر۔۔جعلی ادویات۔۔جعلی رجسٹریاں۔۔جعلی ویزے۔۔ اور اب تو رشتے ناطے بھی جعلی
کیا ہے اصلی۔۔؟اردگرد نظر دوڑائیں ڈھونڈیں اپنے اردگرد۔۔۔ہے کوئی خوش۔۔؟ ہے کوئی مطمئن۔۔؟حکمران طبقے، چند خاندانوں اور کچھ فیصد طبقے کے علاوہ سبھی کسی نہ کسی شکل میں ناراض ہیں۔۔نا خوش ہیں۔۔غیر مطمئن ہیں۔
گیلپ سروے کے مطابق پاکستان میں غیر مطمئن افراد کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ ا س بات کا پتہ سروے سے چلا، جس میں پاکستان سمیت دنیا کے 45ممالک میں جمہوری نظام پر عوام کی رائے لی گئی،پاکستان 44ممالک کے مقابلے میں غیر مطمئن افراد کی شرح میں سر فہرست ہے۔سروے میں ان ممالک کے 46ہزار سے زائد افراد نے اکتوبر سے دسمبر 2023کے درمیان حصہ لیا۔ جمہوریت بہترین نظام ہے یا نہیں؟ اس سوال پر پاکستانیوں کی رائے منقسم نظر آئی اور 38 فیصد نے تمام خامیوں کے باوجود جمہوریت کو بہترین نظام قرار دیا، لیکن 38 فیصد نے اختلاف کیا اور کہا کہ جمہوریت بہترین نظا م نہیں ہے، 10فیصد نے اس پر درمیانہ مؤقف اختیار کیا، جبکہ 14فیصد نے اس سوال پر کوئی جواب نہیں دیا۔ گیلپ پاکستان کے مطابق ملک میں جمہوری نظام کی حمایت میں بتدریج کمی آئی ہے، 2005 میں 67فیصد،2014میں 73فیصد، جبکہ حالیہ سرو ے میں صرف 38فیصد نے جمہوریت کی حمایت کی،صنفی بنیادوں پردیکھا جائے تو جمہوریت سے سب سے زیادہ غیر مطمئن 42 فیصد خواتین نظر آئیں جبکہ مردوں میں یہ شرح34فیصد نظر آئی۔
حبیب جالب نے شاید انہی دنوں کیلئے لکھا تھا کہ
کبھی جمہوریت یہاں آئے
یہی جالب ہماری حسرت ہے
خواتین نظام حکومت یا جمہوریت سے ہی نہیں نظام انصاف سے بھی ناراض ہیں، غیر مطمئن ہیں، غیر محفوظ ہیں۔۔وراثت میں حق نہیں ملتا، مل جائے تو قبضہ گروپ چھین لیتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال گذشتہ دنوں ٹی وی اور سوشل میڈیاپر کراچی کی ایک خاتون کے پلاٹ پر عدالت سے ضمانتوں پر رہا ہونیوالے قبضہ گروپ کے ارکان نے جس طرح قبضہ کیا اور خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا سب کے سامنے ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان غنڈوں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا لیکن سب کچھ صرف خبر کی حد تک محدود رہا۔
دوسری مثال لے لیجیے۔۔۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 22سالہ ماریہ کیساتھ جو کچھ ہوا اس سے تو ایسے لگتا ہے کہ بیٹیوں پر زندگی کے دروازے اب گھروں میں بھی بند ہو چکے ہیں ان کی عزتیں اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی محفوظ نہیں۔۔ ظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قتل کی ویڈیو بنائی گئی، ایک قاتل کو دوسرے قاتل نے پانی پلایا،یہ واقعہ نہیں سانحہ ہے جس کی مذمت نہیں عبرتناک سزا ہونی چاہیے، انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے اور وہ بھی جلد سے جلد۔۔
رمضان کا مہینہ ہے اور کون ہے محفوظ۔۔۔لیہ ہسپتال میں 9سالہ ذہنی معذور بچی بھی نہیں۔۔۔میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی آیا بھی نہیں ۔۔۔حکومتیں ان واقعات کاصرف نوٹس نہ لیں آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے تو ان سے نمٹیں۔
شادی بیاہ، ملازمت کی جگہ، چوک چوراہوں میں جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل خواتین ہر جگہ تشدد کا سامنا کررہی ہیں۔صرف ایک بڑے صوبے کا ذکر کریں تو2024 میں اب تک صرف پنجاب میں خواتین پر تشدد کے 12 ہزارکے قریب مقدمات درج ہوچکے ہیں اور جو مقدمات درج نہیں کروائے گئے وہ الگ ہیں۔
23مارچ کے اخبارات اور ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ سے اندازہ لگا لیں کہ لاہور میں 3 دن میں خواتین سے زیادتی اور تشدد کے 28 واقعات رپورٹ ہوئے جو رپورٹ نہیں ہوئے وہ الگ ہیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 3 دنوں میں لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں یونیورسٹی طالبہ کو کلاس فیلو نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ہنجروال میں نوکری کا جھانسہ دیکر خاتون سے زیادتی کی گئی۔ مناواں میں لڑکی کو ورغلاء کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تمام واقعات کے مقدمات درج ہیں کہا جا رہا ہے کہ ملزمان کو جلدگرفتار کرلیا جائیگا۔
پنجاب میں خواتین اور بچوں کیخلاف تشدد اور اغواء کے واقعات میں ہولناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جولائی 2023میں سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی تحقیق کے مطابق ملک کی بڑی آبادی والے صوبے پنجاب میں 4 ماہ کے دوران خواتین اوربچوں پرتشددکے 12 ہزارسے زائد مقدمات درج ہوئے تھے۔ پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے مقدمات کی ایف آئی آرز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا یکم جنوری تا 30 اپریل 2023 تک خواتین پر تشدد کے کل 10,365 کیسز پولیس کو رپورٹ ہوئے جبکہ اسی عرصے میں بچوں پر تشدد کے 1768 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ سماجی بدنامی کے خوف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے ایسے کیسز کی پولیس کو رپورٹ نہیں کرتے۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں خواتین کے تحفظ کی انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2587 خواتین نے گھریلو تشدد کے لئے کالز کیں جبکہ 2023 میں خواتین پر تشدد کے واقعات کے لئے 5465 کالز موصول ہوئیں۔
ور اب ایک نظر صوبہ سندھ پر ڈالیں تو رمضان کے 18 روز میں سٹریٹ کرائمز کی 4 ہزار 450 وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، کئی خاندان اجڑ چکے ہیں،کچرا کنڈی وں سے تشدد زدہ گلا کٹی لاشیں مل رہی ہیں۔
اسمبلیوں میں سیاسی لڑائیاں بند ہوں تو کوئی کام ہو۔ 2022میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 3 برسوں کے دوران خواتین پر تشدد کے 63 ہزار سے زائد واقعات رونما ہوئے جن میں گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات شامل ہیں۔اس وقت کے انسانی حقوق کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے قومی اسمبلی کو تحریری طور پربتایا تھا کہ پورے ملک سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق 2019، 2020 اور 2021 میں مجموعی طور پر خواتین کے ساتھ زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے 11 ہزار سے زائد کیس درج کیے گئے تھے۔اس عرصے میں خواتین کے قتل کے لگ بھگ 4 ہزار اور غیرت کے نام پر قتل کے1 ہزار سے زائد واقعات ہوئے۔
پاکستان کی وزارتِ صحت کے 2017 اور 2018 میں کرائے گئے ’پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے‘ کے مطابق 28 فی صد خواتین کو 15 سال کی عمر سے کسی نہ کسی مرحلے پر جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انسانی حقوق کی کارکنوں کے مطابق پاکستان میں نہ صرف عورتوں بلکہ بچوں اور معاشرے کے محروم طبقات کے خلاف بھی تشدد کا رجحان بڑھا ہے۔ اسی لیے صنف کی بنیاد پر بھی تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ جب تک ملک میں صنفی عدم مساوات ہے اور معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو سماجی اور ثقافتی طور پر کم تر سمجھنے کی پدرشاہی سوچ موجود ہے خواتین پر تشدد کے اس رجحان کی روک تھام نہیں ہو گی۔ عورتوں کی اکثریت گھر کے اندر ہوں یا باہر، بااختیار نہیں بن سکی ہے۔۔
خواتین پرتشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے کئی قوانین موجود ہیں لیکن ان پر مؤثرعمل درآمد ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
صنف نازک دکھوں کے بوجھ تلے دبی ہے۔۔۔ معاشرے میں غیرت ہے تو یہ بوجھ کم کرے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button