اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

خواتین کی ’فوری مدد‘، لاہور میں پینِک بٹن 15 نصب

اس حوالے سے ویمن سیفٹی ایپ بھی متعارف کرائی گئی اور شہر بھر میں پینک بٹنز بھی لگائے گئے تاکہ خواتین با آسانی اپنی شکایات درج کرا سکیں۔

پنجاب حکومت نے حال ہی میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے ہیں جن میں ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن اور پینک بٹنز قابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں پراجیکٹس پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے شروع کیے گئے تھے۔
اس پراجیکٹ کے تحت خواتین کو ریپ، ہراسانی، اور دیگر جرائم کے خلاف تحفظ فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اس حوالے سے ویمن سیفٹی ایپ بھی متعارف کرائی گئی اور شہر بھر میں پینک بٹنز بھی لگائے گئے تاکہ خواتین با آسانی اپنی شکایات درج کرا سکیں۔
حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کے پہلے ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن ’میری آواز، مریم نواز‘ کا افتتاح کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں 100جدید ایمرجنسی پینک 15 بٹنز بھی بحال کروائے جبکہ لاہور کے 50 مقامات پر فری وائی فائی پراجیکٹ کا بھی افتتاح کیا۔
’تھانے کے غیرضروری چکر لگانے کی ضرورت نہیں‘
مارچ 2024 میں لاہور کے 10 مقامات پر ورچوئل پولیس سٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جن کے ڈیسک چھ ایس پیز کے دفاتر، ڈولفن ہیڈ کوارٹرز، پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ اور تھانہ ریس کورس میں قائم کیے گئے تھے۔
اس وقت سیف سٹی اتھارٹی میں ورچوئل پولیس سٹیشن باقاعدہ فنکشنل ہوچکا ہے جہاں خواتین اپنا نام اور پتا ظاہر کیے بغیر مکمل رازداری اور اعتماد کے ساتھ اپنا مسئلہ خواتین پولیس اہلکار کو بتا سکتی ہیں۔ اب خواتین کو غیر ضروری طور پر تھانے کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں۔
انچارج ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن اقصیٰ فیاض نے اُردو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’خواتین روایتی تھانوں میں جانے سے ہچکچاتی ہیں۔ یہاں ایک فون کال کے ذریعے وہ شکایات بھی درج کروا سکتی ہیں اور عدالتی فیصلے تک تمام ضروری معلومات سے با خبر رہ سکتی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن میں لائیو ویڈیو کال فیچر بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ خواتین ویڈیو کال کے ذریعے بھی اپنی لوکیشن سمیت درپیش مشکلات کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔‘
اقصیٰ فیاض کے مطابق ورچوئل پولیس سٹیشن میں تمام اہلکار خواتین ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔
’بعض اوقات خواتین ہراسانی یا تشدد کے خلاف شکایات درج کرانا چاہتی ہیں تو سب سے پہلے انہیں تسلّی دی جاتی ہے اور پھر ان کی کونسلنگ بھی ہوتی ہے۔ جن خواتین کو ایمرجنسی صورت حال کا سامنا ہو تو یہیں سے اُن کا رابطہ قریبی تھانے سے کرایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے ذہنی مسائل میں مبتلا خواتین کی کونسلنگ کی جاتی ہے۔ ’ہمارے ہاں تمام خواتین اہلکار آئی ٹی گریجویٹ ہیں اور ان کی باقاعدہ ٹریننگ ہوئی ہے۔‘
’ایک بٹن دبانے سے شکایت کا ازالہ‘
سنہ 2015 میں سابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور حیدر اشرف کی ہدایت پر پینیک بٹنز کنٹونمنٹ بورڈ کے تعلیمی اداروں اور مختلف مقامات پر پینک بٹنز لگائے گئے تھے جہاں شہری ایک بٹن کے ذریعے پولیس سے رابطہ کر سکتے تھے۔
2020 میں شہریوں کی غیر ضروری کالز کا سلسلہ بڑھ گیا اور لاہور شہر میں نصب 254 پینک بٹنز غیر فعال ہو گئے۔
2021 میں پنجاب پولیس نے غیرملکی سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے نیا پروٹول ترتیب دینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس کے تحت ایک ایپ تیار کی جا رہی تھی۔
اُس وقت پولیس نے کہا تھا کہ ’اس ایپ میں ایک ’پینک بٹن‘ دیا جا رہا ہے جسے دبانے سے پولیس کی مدد فوری دستیاب ہو گی۔ پینک بٹن دبانے سے خود کار طریقے سے پولیس کے مرکزی کنڑول روم سے متعلقہ لوکیشن پر بغیر کسی تاخیر کے قریب ترین پولیس سٹیشن سے ٹیم روانہ کر دی جاتی تھی۔
شہریوں کی لاعلمی کی وجہ سے یہ غیرفعال ہو گئے تھے تاہم اب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں 100 پینک بٹنز دوبارہ بحال کروا دیے ہیں۔
لاہور شہر میں جگہ جگہ کھمبوں پر سُرخ رنگ کے ڈبے دکھائی دے رہے ہیں جن پر جلّی حروف میں 15 لکھا ہے۔ ان ڈبوں پر ایک بٹن اور سپیکر دیا گیا ہے۔
بٹن دبانے پر خودکار آواز کے ذریعے شکایت کنندہ کو بتایا جاتا ہے کہ اُس کی کال متعلقہ تھانے کو ملائی جا رہی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد قریبی تھانے سے پولیس اہلکار کی آواز آتی ہے اور وہ شکایت کنندہ سے سوال جواب کرتا ہے۔
ان بٹنز کا استعمال خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی کر سکتے ہیں۔ شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پینک بٹن کے ذریعے تھانے جائے بغیر پولیس سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
یہ پینک بٹنز اُن مقامات پر لگائے گئے ہیں جہاں سیف سٹی اتھارٹی کے کیمرے نصب ہیں۔ اس طرح سیف سٹی اتھارٹی کے مرکزی دفتر سمیت ورچوئل پولیس سٹیشن میں بھی شکایت کندہ کو براہ راست ویڈیو پر دیکھا جا سکتا ہے جس سے اس کی لوکیشن معلوم ہو سکتی ہے۔
آصفہ وحید(فرضی نام) نے اس بٹن کا پہلی بار استعمال کیا تو اُنہیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ ان کے ایک بٹن دبانے سے پولیس متحرک ہو گئی اور اُن کی شکایت سنی گئی۔
انہوں نے اُردو نیوز کو اپنا تجربہ کچھ اس طرح بتایا کہ ’حیرانی کی بات ہے کہ بیلنس، موبائل اور انٹرنیٹ کے بغیر ہمارا رابطہ فوراً پولیس سے ہو گیا لیکن مجھے افسوس ہوا کہ میں بطور خاتون اس سے بے خبر تھی حالانکہ یہ ہمارے لیےہی نصب کیا گیا ہے۔‘
آصفہ وحید کہتی ہیں کہ خواتین تھانے جانا اور پھر پولیس اہلکار سے گفتگو کرنا مناسب نہیں سمجھتیں اس لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔
اب اس بات کی ضرورت ہے کہ خواتین بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں کیونکہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس طرح پینک بٹن ایسے واقعات کی روک تھام میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button