بین الاقوامی

غزہ جنگ پر احتجاج، کولمبیا یونیورسٹی میں طلبہ کی معطلی شروع

امریکہ میں کالج انتظامیہ نے فلسطین کے حامی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی کیمپوں کو ختم کر دیں۔

امریکہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف فلسطین کی حمایت میں مظاہروں کے دوران یونیورسٹی آف ٹیکساس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ کولمبیا یونیورسٹی نے طلبہ کی معطلی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق غزہ جنگ کے نتیجے میں بڑھنے والی ہلاکتوں کی تعداد اور کلاس کے اختتامی دنوں کے ساتھ ہی ملک بھر میں کیمپس میں ایک ہزار طلبہ کی گرفتاریوں کی وجہ سے مظاہرین مشتعل ہیں۔
امریکہ میں کالج انتظامیہ نے فلسطین کے حامی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی کیمپوں کو ختم کر دیں۔
احتجاجی مظاہرے یورپ تک بھی پھیل چکے ہیں، فرانسیسی پولیس نے فلسطینی حامی مظاہرین کے یونیورسٹی کے مرکزی میدان پر قبضہ کرنے کے بعد سوربون یونیورسٹی سے درجنوں طلبہ کو نکال دیا۔
کینیڈین پریس کے مطابق کینیڈا میں یونیورسٹی آف اوٹاوا، مونٹریال کی میک گل یونیورسٹی اور وینکوور میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں طلبہ کے احتجاجی کیمپوں کا آغاز ہوا۔
اٹارنی نے بتایا کہ آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں پیر کو کم از کم 40 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین کے ایک اور گروپ نے پولیس اور گرفتار افراد سے بھری ایک وین کو عمارتوں کے درمیان پھنسا دیا، جس سے ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا اور افسران کو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کالی مرچ کے سپرے اور فلیش بینگ ڈیوائسز کا استعمال کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پر ریپبلکن گورنمنٹ گریگ ایبٹ نے ریاستی فوجیوں کی آمد کی ویڈیو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی کیمپ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینکڑوں پولیس اہلکارون نے یونیورسٹی میں مظاہرین کو دھکیلتے ہوئے 50 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔
پیر کو کولمبیا میں طلبہ نے سکول کے مین ہٹن کیمپس میں تقریباً 120 احتجاجی کیمپوں کو چھوڑنے کے لیے دی جانے والی دوپہر دو بجے کی ڈیڈلائن کی مخالفت کی۔
ییل میں مظاہرین نے پولیس کی جانب سے 50 افراد کی گرفتاری کے بعد اتوار کو ایک نیا کیمپ قائم کیا۔ انہیں ییل کے ایک اہلکار نے مطلع کیا ہے کہ اگر انہوں نے مظاہرے جاری رکھے تو انہیں معطلی اور ممکنہ گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ییل نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ پُرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار رائے کی حمایت کرتا ہے لیکن کیمپ لگانے جیسی پالیسی کی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کرتا۔ سکول کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ احتجاج رہائشی کالجوں کے قریب ہو رہا ہے جہاں بہت سے طلبہ فائنل امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے طلبہ اور فیکلٹی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت یکم جون کو موسم بہار کی کلاسوں کے اختتام تک پُرامن مظاہروں کی اجازت ہے۔
رہوڈ آئی لینڈ کی براؤن یونیورسٹی میں سکول کی صدر کرسٹینا ایچ پیکسٹن نے احتجاجی رہنماؤں کو ایک کیمپ کو ختم کرنے کے بدلے میں اسرائیل سے منسلک کمپنیوں کے انخلا کے معاملے پر اپنے موقف پر بات چیت کے لیے حکام سے ملاقات کی پیشکش کی ہے۔
کولمبیا میں طلبہ مظاہرین کو لکھے گئے خط میں سکول کے حکام نے کہا ہے کہ امتحانات شروع ہو رہے ہیں اور گریجویشن شروع ہونے والا ہے۔
’ہم آپ سے کیمپ کو ہٹانے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ ہم آپ کے ساتھی طلبہ، ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو اس اہم موقع سے محروم نہ کریں۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button