صحت

رنگت یا خوبصورتی؟ نوجوانوں میں جلد گورا کرنے کا بڑھتا رجحان، ماہرین صحت اور سماجیات کی وارننگ

جب ایک بچہ بچپن سے یہ سنتا ہے کہ گورا ہونا خوبصورت ہونا ہے، تو وہ اپنی فطری رنگت سے شرمندہ ہونے لگتا ہے

رپورٹ: سماجی و صحت فیچر ڈیسک:

خوبصورتی کی تعریف وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے، مگر برصغیر پاک و ہند میں گوری رنگت کو تاحال خوبصورتی، عزت، کامیابی اور اعلیٰ سماجی رتبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل، بالخصوص لڑکیاں اور اب لڑکے بھی، اپنی قدرتی رنگت سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں اور جلد کو سفید کرنے والی کریموں، انجکشنز اور ادویات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔


رنگت کو خوبصورتی کا پیمانہ کیوں؟

سماجی ماہرین کے مطابق نوآبادیاتی اثرات، اشتہارات، میڈیا اور فلم انڈسٹری نے دہائیوں تک "گوری رنگت = خوبصورتی” کے تاثر کو تقویت دی ہے۔ یہی تاثر اب بھی نوجوان ذہنوں میں راسخ ہے۔

ڈاکٹر شائستہ نقوی، ماہرِ نفسیات، کہتی ہیں:

"جب ایک بچہ بچپن سے یہ سنتا ہے کہ گورا ہونا خوبصورت ہونا ہے، تو وہ اپنی فطری رنگت سے شرمندہ ہونے لگتا ہے۔ یہی احساس کمتری اسے غیر ضروری اور خطرناک راستوں کی طرف دھکیلتی ہے۔”


بازار میں زہریلی کریمیں اور غیر منظور شدہ ادویات کی بھرمار

مارکیٹ میں درجنوں ایسی اسکِن وائٹننگ کریمیں، سیریمز، گولیاں اور انجیکشنز موجود ہیں جن میں ہائیڈروکینون، اسٹیرائیڈز اور مرکری جیسے مضرِ صحت کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء وقتی طور پر رنگت کو ہلکا کر سکتے ہیں، لیکن ان کے طویل مدتی اثرات میں جلد کی باریکی، مہاسے، دانے، سیاہ دھبے، اور بعض صورتوں میں جلد کا سرطان بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر فواد چیمہ، ماہر امراضِ جلد، کے مطابق:

"ہم روزانہ کلینک میں ایسے مریض دیکھتے ہیں جنہوں نے رنگ گورا کرنے کی کوشش میں اپنی جلد مستقل طور پر خراب کر لی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی دوا یا کریم قدرتی رنگت کو مستقل طور پر نہیں بدل سکتی — یہ صرف وقتی اور خطرناک کھیل ہے۔”


ادویات کا غیر ضروری استعمال: لورین فیر، گلوٹا تھائیون، وٹامن سی انجیکشنز

حالیہ برسوں میں گلوٹا تھائیون (Glutathione) جیسے اینٹی آکسیڈنٹ انجیکشنز اور کیپسولز کا استعمال بھی عام ہو گیا ہے، جو اصل میں کینسر کے مریضوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ لیکن اب سوشل میڈیا پر اسے "اسکن وائٹننگ انجیکشن” کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے — بغیر کسی میڈیکل سپروژن کے۔

پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق ان میں سے کئی مصنوعات غیر رجسٹرڈ، درآمد شدہ یا جعلی ہوتی ہیں۔


معاشرتی دباؤ اور رنگت کی بنیاد پر امتیاز

یہ مسئلہ صرف طبی نہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اسکولوں میں بچے "کالا” کہہ کر مذاق کا نشانہ بنتے ہیں، رشتوں میں "گوری لڑکی” کی تلاش ہوتی ہے، اور نوکریوں میں ظاہری شکل پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سماجی کارکن عائشہ اسلم کے مطابق:

"ہم نے خوبصورتی کا معیار اس حد تک محدود کر دیا ہے کہ نوجوان اپنی اصل شناخت سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ ہمیں رنگت کو خوبصورتی کے بجائے تنوع کی علامت بنانا ہوگا۔”


میڈیا کا کردار: اشتہارات میں گوری ماڈلز اور ‘فیئرنس’ پر زور

ٹی وی اشتہارات، سوشل میڈیا اور فلم انڈسٹری میں گوری رنگت کو اب بھی ترجیح دی جاتی ہے۔ "رنگ گورا کریں، خوداعتمادی بڑھائیں” جیسے جملے نوجوانوں میں خود سے نفرت کا بیج بوتے ہیں۔

تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں کچھ برانڈز اور شخصیات نے "میرے رنگ میں بھی خوبصورتی ہے” جیسے پیغامات کو فروغ دینا شروع کیا ہے، لیکن یہ کوششیں اب بھی محدود ہیں۔


حل کیا ہے؟ خوداعتمادی، تعلیم اور میڈیا کی ذمہ داری

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل تعلیم، بیداری، والدین کی تربیت اور مثبت میڈیا کردار میں پوشیدہ ہے۔ تعلیمی اداروں اور والدین کو چاہیے کہ بچوں کو خوداعتمادی، شناخت اور تنوع کی قدر سکھائیں۔

ڈاکٹر شائستہ کہتی ہیں:

"اگر ہم بچوں کو یہ سکھا دیں کہ ہر رنگ خوبصورت ہے اور خود کو قبول کرنا سب سے بڑی خوبصورتی ہے، تو وہ کبھی ان جعلی وعدوں کے پیچھے نہیں بھاگیں گے۔”


گوری رنگت نہیں، صاف دل اور سچائی خوبصورتی کی اصل علامت ہے

رنگت خوبصورتی کی شرط نہیں، بلکہ معاشرے کے ذہنوں میں پیدا کی گئی ایک مصنوعی حد ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مصنوعی سوچ کو توڑیں اور نوجوانوں کو بتائیں کہ خوبصورتی خود کو قبول کرنے، دوسروں کا احترام کرنے اور اپنی انفرادیت پر فخر کرنے کا نام ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button