
احسان احمد.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ داخلہ نے جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں نہ صرف پروٹیکٹر کے اجراء کے نظام کو فول پروف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے بلکہ جنوری سے اسلام آباد ایئرپورٹ پر جدید اے آئی بیسڈ ایپ کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے، جو مسافروں کی جانچ پڑتال اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ فیصلے جمعے کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیر برائے سمندر پار پاکستانیوں چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں کیے گئے، جس میں تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑی کارروائی— تمام ایئرپورٹس پر زیرو ٹالرنس
اجلاس میں ملک بھر کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر جعلی ویزوں، جھوٹے ورک پرمٹس، اور جعلی پاسپورٹس کے ذریعے باہر جانے کی کوشش کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ہدایات جاری کی گئیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق:
جعلی دستاویز بنانے والوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی
بیرونِ ملک جانے والے ہر مسافر کے کاغذات کی استاندردائزڈ اسکریننگ کی جائے گی
پروٹیکٹر کے اجرا کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل اور محفوظ بنایا جائے گا
جدید اے آئی بیسڈ ایپ — غیر قانونی امیگریشن روکنے میں سنگِ میل
وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2025 میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر
▶️ اے آئی بیسڈ امیگریشن اسیسمنٹ ایپ
▶️ ڈیٹا اینالیٹکس پر مبنی فیصلہ ساز نظام
▶️ خودکار سیکیورٹی الرٹ
کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کر دیا جائے گا۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق:
"یہ ایپ سفر سے قبل بتا دے گی کہ کون سا مسافر سفر کا اہل ہے اور کون نہیں۔ اس سے جعلی دستاویزات کے حامل افراد کی بروقت نشاندہی ممکن ہو جائے گی۔”
ایپ کس طرح کام کرے گی؟— ایف آئی اے اور آئی ٹی ماہرین کی وضاحت
ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈی جی عمار جعفری— جن کے دور میں IBMS سسٹم تیار ہوا— نے بتایا کہ یہ ایپ:
✔ عام شہری بھی استعمال کر سکیں گے
✔ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے عملے کے پاس بھی دستیاب ہوگی
✔ فیشل ریکگنیشن، رویوں کے تجزیے، اور ٹریول ہسٹری کے ذریعے مشکوک افراد کو فلیگ کرے گی
✔ کسی بھی فراڈ یا ایجنٹ کے دھوکے کی صورت میں شہری براہ راست ایف آئی اے کو اطلاع دے سکیں گے
ان کے مطابق:
"ایف آئی اے کے پاس پچھلے 15 سال کا ٹریول ڈیٹا موجود ہے۔ ایپ الگورتھم کی مدد سے بتا سکے گی کہ کوئی شخص غیر معمولی سامان یا افراد کے ساتھ سفر کیوں کر رہا ہے۔”
ہیومن اسمگلنگ اور ٹریفکنگ کی روک تھام— ایپ کا نیا کردار
سائبر سیکیورٹی ماہر ڈاکٹر عاطف کے مطابق ایپ میں ایسے جدید ٹولز شامل ہیں جو:
انسانی رویوں کے باریک تجزیے
امیگریشن کاؤنٹر پر غیر معمولی حرکات
فوری رسک اسیسمنٹ
فیشل ریکگنیشن
جیسی صلاحیتیں رکھتی ہیں، جو ٹریفکنگ کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے کہا:
"یہ نظام یہ تعین کرے گا کہ کوئی فرد زبردستی سفر کر رہا ہے، ایجنٹ کے دباؤ میں ہے یا کسی مجرمانہ گروہ کا شکار بن رہا ہے۔ دنیا بھر میں اسی طرح کے اے آئی ماڈلز ٹریفکنگ کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔”
ڈی پورٹ افراد کے خلاف سخت فیصلہ — دوبارہ ویزا نہیں ملے گا
وفاقی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ:
جو افراد ڈی پورٹ ہو جاتے ہیں، ان کے پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد
انہیں دوبارہ کبھی بھی ویزا جاری نہیں کیا جائے گا
وزیرِ داخلہ کے مطابق:
"جو ملک کی ساکھ خراب کرتے ہیں، انہیں دوبارہ بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
پروٹیکٹر سسٹم میں بڑی اصلاحات — لیبر برآمدات کی شفاف نگرانی
وزیرِ اوورسیز پاکستانی چوہدری سالک حسین کے مطابق:
پروٹیکٹر کا شفاف اور جدید نظام وقت کی اہم ضرورت ہے
لیبر ویزا پر جانے والوں کے پاس مستند اور مکمل دستاویزات ہونا ضروری ہے
وزارتِ اوورسیز، وزارتِ داخلہ کے ساتھ مل کر سسٹم کی بہتری کے لیے مکمل تعاون کرے گی
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ:
یکساں انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس اب نیشنل پولیس بیورو جاری کرے گا
ای-ڈرائیونگ لائسنس، پروٹیکٹر اسٹیمپ اور امیگریشن امور میں ڈیجیٹل اصلاحات لائی جائیں گی
اعلیٰ سطحی اجلاس — تمام متعلقہ اداروں کی شرکت
اجلاس میں شریک اہم شخصیات میں شامل تھے:
سیکریٹری داخلہ
اسپیشل سیکریٹری داخلہ
چیئرمین نادرا
ڈی جی ایف آئی اے
ڈی جی پاسپورٹس
سیکریٹری اوورسیز پاکستانی
امیگریشن اور ٹیکنالوجی ماہرین
تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جعلی دستاویزات اور ایجنٹ مافیا پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔
نتیجہ — پاکستان امیگریشن سسٹم کو تیزی سے جدید دور میں داخل کر رہا ہے
وفاقی حکومت کے یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ:
جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک جانے کی راہیں بند ہو رہی ہیں
امیگریشن نظام جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے
اے آئی کی مدد سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہوگی
یہ فیصلہ پاکستان کے عالمی امیج، گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی اور لاکھوں بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کی حفاظت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔


