
سید عاطف ندیم-پاکستان:
پاکستان میں بجلی کے صارفین اکثر و بیشتر بھاری بھرکم بلوں کی شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر موسمِ گرما میں جب بجلی کی طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ محض صارفین کی شکایت تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی تہ در تہ مسائل چھپے ہوئے ہیں جن میں خراب میٹرز، بجلی چوری، لائن لاسز اور غیر مؤثر بلنگ سسٹم شامل ہیں۔ ان تمام مسائل کا بوجھ بلا واسطہ یا بالواسطہ عام صارف پر ڈال دیا جاتا ہے۔
خراب میٹرز، ایوریج بل اور صارفین پر اضافی بوجھ
پاکستان میں موجودہ بجلی کے ترسیلی نظام میں سب سے بڑا مسئلہ خراب یا غیرمعیاری میٹرز کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی مختلف بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے پاس ایک محتاط اندازے کے مطابق 70 ہزار سے زائد ایسے میٹرز ہیں جو خراب یا ناقص ریڈنگ فراہم کر رہے ہیں۔ ان خراب میٹرز کے باعث صارفین کو درست بجلی استعمال کا حساب لگانا ممکن نہیں ہوتا، نتیجتاً انہیں ایوریج بل بھیجا جاتا ہے، جو اکثر اوقات ان کے اصل استعمال سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) نے اس حوالے سے ڈسکوز کو ہدایت دی ہے کہ خراب میٹرز کے درست اعداد و شمار فراہم کیے جائیں اور ان کی جلد از جلد تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم، یہ عمل سست روی کا شکار ہے جس کا خمیازہ براہ راست عام صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ بھی عوام پر؟
توانائی کے شعبے پر گہری نظر رکھنے والے ماہر ڈاکٹر شعیب احمد کے مطابق پاکستان کے بجلی کے نظام کو فول پروف بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی علاقے میں بجلی چوری ہو رہی ہو یا لائن لاسز زیادہ ہوں، تو اس کا بوجھ بھی بلآخر عام صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسے صارفین جو ایمانداری سے اپنا بل ادا کرتے ہیں، انہیں بھی اضافی سرچارج یا ایڈجسٹمنٹ کی مد میں زیادہ رقم چکانی پڑتی ہے۔
ڈاکٹر شعیب احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے تمام نقصانات کو اس کھاتے میں شامل کرے جس کی وجہ سے وہ ہوئے، بجائے اس کے کہ ان کا بوجھ ہر صارف پر یکساں ڈال دیا جائے۔
’میٹر خراب نہیں، جان بوجھ کر خراب کیے جاتے ہیں‘
دوسری طرف کراچی میں مقیم توانائی کے ماہر انیل ممتاز اس صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق میٹرز حقیقت میں خراب نہیں ہوتے بلکہ انہیں جان بوجھ کر "خراب” ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ اضافی آمدنی حاصل کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے اہلکار خود میٹرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور پھر صارفین کو ایوریج یا اضافی بل بھیجتے ہیں۔
انیل ممتاز نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں میٹر کی کیلیبریشن یعنی اس کی درستگی کو جانچنے کی سہولت صرف مخصوص لیبارٹریز میں موجود ہے، جو کہ بیشتر ڈسکوز کے پاس دستیاب نہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ کوئی میٹر خراب ہے یا نہیں، خود ایک مبہم بات بن جاتی ہے۔
سمارٹ میٹرز: حل یا نیا مسئلہ؟
حکومت نے حالیہ برسوں میں بجلی کی بلنگ کو مؤثر بنانے کے لیے سمارٹ میٹرز یعنی AMI (Advanced Metering Infrastructure) میٹرز کے استعمال کا آغاز کیا ہے۔ ان میٹرز کا مقصد یہ تھا کہ بجلی کے استعمال کی درست نگرانی کی جا سکے اور ریئل ٹائم ڈیٹا کی مدد سے بلنگ کو شفاف بنایا جائے۔
تاہم انیل ممتاز کے مطابق ان سمارٹ میٹرز کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ ممکن ہے، اور ان کی درستگی پر کئی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ اگرچہ یہ میٹر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، لیکن جب تک ان کی تنصیب سے پہلے جانچ پڑتال کا کوئی مضبوط نظام موجود نہ ہو، یہ بھی مکمل حل فراہم کرنے سے قاصر رہیں گے۔
نظام کی خامیاں اور صارف کا اعتماد
عام صارف کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے یہ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اس کا بل اصل کھپت پر مبنی ہے یا کسی اور وجہ سے بڑھا ہوا ہے۔ بلنگ کی پیچیدگی، لائن لاسز، خراب میٹر، بجلی چوری، اور ایڈجسٹمنٹ چارجز جیسے عوامل صارفین کے اعتماد کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔
ممکنہ حل کیا ہیں؟
توانائی کے ماہرین کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
خراب میٹرز کی جلد تبدیلی اور ان کی جگہ تصدیق شدہ، درستگی سے کیلیبریٹ شدہ میٹرز کی تنصیب۔
بلنگ کے نظام کو شفاف بنانا اور صارفین کو واضح انداز میں بتایا جائے کہ ان کا بل کس بنیاد پر بنایا گیا ہے۔
لائن لاسز اور بجلی چوری کا بوجھ صرف ان علاقوں یا افراد تک محدود رکھا جائے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔
سمارٹ میٹرز کی تنصیب سے پہلے مکمل ٹیسٹنگ اور تقسیم کار کمپنیوں کے عملے کی نگرانی کا نظام متعارف کروایا جائے۔
صارفین کے لیے شکایات کا مؤثر نظام تاکہ وہ غیر منصفانہ بلنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کر سکیں۔
پاکستان میں بجلی کی ترسیل اور بلنگ کا موجودہ نظام سنگین مسائل سے دوچار ہے، اور اس کا سب سے بڑا نقصان ان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے جو ایمانداری سے بل ادا کرتے ہیں۔ جب تک حکومت اور بجلی تقسیم کار کمپنیاں اس نظام کو شفاف، قابلِ اعتبار اور ٹیکنالوجی سے لیس نہیں بناتیں، تب تک صارفین کو غیر ضروری بوجھ اٹھاتے رہنا پڑے گا۔
ایسا نہ ہو کہ سمارٹ میٹرز کا خواب بھی، ایک اور ناقابلِ اعتبار تجربہ بن کر رہ جائے۔



