سائنس و ٹیکنالوجی

نو ماہ خلا میں پھنسے رہنے کے بعد ناسا کے خلاباز زمین پر واپس

ناسا کے خلاباز بیری "بچ" ولمور اور بھارتی نژاد سنیتا ولیمز نو ماہ سے بھی زائد عرصے سے خلا میں پھنسے ہوئے تھے، جو منگل کے روز زمین پر واپس پہنچ گئے۔

بوچ ولمور اور سنیتا ولیمز اسپیس ایکس کے کیپسول میں سوار ہو کر زمین پر واپس آ گئے ہیں۔ دونوں خلاباز تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے قیام کو وسعت دیتے رہنے پر مجبور تھے۔

منگل کے روز شام کے وقت اسپیس ایکس کیپسول فلوریڈا کے ساحل پر آہستہ آہستہ نمودار ہوا اور پھر اترنے کے لیے پیراشوٹ فضا میں تعینات کیے گئے۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زمین تک 17 گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز خلیج میکسیکو کی لہروں سے ٹکرایا، تو گراؤنڈ پر موجود ٹیمیں خوشی سے جھوم اٹھیں۔

اس عملے میں امریکہ کے خلاباز نک ہیگ اور روس سے تعلق رکھنے والے الیگزینڈر گوربونوف بھی شامل ہیں، جنہیں اترنے کے بعد صحت کی جانچ کے لیے ہیوسٹن میں ناسا کے خلائی مرکز لے جایا جائے گا۔

سنیتا ولیمز
سنیتا ولیمز ناسا کی بھارتی نژاد خلا باز ہیں، جنہوں نے نو ماہ سے بھی زیادہ وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گزارا۔ ان کی واپسی پر بھارت میں جشن منایا جا رہا ہے

ناسا کے خلابازوں نے آخر کار خلائی اسٹیشن کو الوداع کہا

اس سے متعلق لائیو فوٹیج میں خلابازوں کو ہنستے، گلے لگاتے اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے روانہ ہونے سے پہلے اسٹیشن پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ تصویریں بناتے ہوئے دکھایا گیا۔

اس کے بعد انہیں اسپیس ایکس کے ایک کیپسول کے اندر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے دوبارہ داخل ہونے والے سوٹ، بوٹ اور ہیلمٹ پہنے اور پھر دو گھنٹے تک آخری پریشر کے لیے کمیونیکیشن اور سیل کا ٹیسٹ کیا گیا۔

چار افراد پر مشتمل عملہ باضابطہ طور پر ناسا کے کریو 9 گردش خلاباز مشن کا ایک حصہ تھا۔

کیپسول کے اندر سے کمانڈر نک ہیگ نے کہا، "کریو-9 اب گھر جا رہا ہے۔”

ہیگ نے مزید کہا کہ "انسانیت کے فائدے” کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے حصے کے طور پر "اسٹیشن کو گھر کہنا ایک اعزاز کی بات ہے۔”

ناسا کے واپس لوٹنے والے چاروں خلا باز

ناسا کے دو تجربہ کار خلابازوں اور امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ٹیسٹ پائلٹس کو گزشتہ جون میں اسٹار لائنر کے پہلے عملے کے طور پر خلا میں بھیجا گیا تھا

طویل مشن جو سیاسی تماشے میں بدل گیا

ناسا کے دو تجربہ کار خلابازوں اور امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ٹیسٹ پائلٹس کو گزشتہ جون میں اسٹار لائنر کے پہلے عملے کے طور پر خلا میں بھیجا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ مشن صرف چند دن پر ہی محیط تھا۔ تاہم اسٹار لائنر کے ایندھن سسٹم میں مسائل کی وجہ سے ان کی وطن واپسی متعدد بار التوا کا شکار ہوئی، جس کی وجہ سے ناسا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اب اسپیس ایکس کے ایک کرافٹ کے ذریعے زمین پر واپس آئیں گے۔

اس کی وجہ سے خلا باز ولمور اور سنیتا ولیمز کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر معیاری چھ ماہ طویل قیام زیادہ دیر تک کھنچتا رہا اور ان دونوں کو نو ماہ سے زیادہ وہاں رکنا پڑا۔

مشن میں اس تاخیر کے سبب ناسا کی ہنگامی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ بوئنگ کے اسٹار لائنر خلائی جہاز کی ناکامیاں بھی نمایاں ہو گئیں۔

یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب ان خلابازوں کی جلد واپسی کا مطالبہ کیا تو یہ مشن سیاسی تماشے کا بھی شکار ہوا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں آئی ایس ایس پر چھوڑ رکھا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button