مشرق وسطیٰ

امریکہ کا طالبان رہنماؤں کے سروں پر انعام ختم کرنے کا اعلان

امریکہ نے جن طالبان رہنماؤں کے سروں کی مقرر کردہ لاکھوں ڈالر قیمت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی شامل ہیں

(مدثر احمد-امریکا):‌امریکی محکمہ خارجہ اور طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے عسکریت پسند حقانی نیٹ ورک کے کئی اہم رہنماؤں کے سروں کی مقرر کردہ لاکھوں ڈالر قیمت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں موجودہ وزیر داخلہ بھی شامل ہیں۔
افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین کنی نے کہا، "امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی، عبدالعزیز حقانی اور یحییٰ حقانی کے سروں کے لیے مقرر کردہ انعامی رقم کو ختم کردیا ہے۔”
واضح رہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں دہائیوں سے جاری جنگ کے دوران کچھ مہلک ترین حملوں کا ذمہ دار تھا۔ اور امریکہ کی جانب سے سراج الدین حقانی کے سر کی قیمت 10 لاکھ ڈالر مختص کی گئی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، "یہ تینوں افراد عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد رہیں گے۔ تاہم ان کے سروں کی قیمت ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ حقانی نیٹ ورک کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اور عالمی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزدگی برقرار رہے گی۔”
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بدھ کے روز کہا ہے "امریکہ کی پالیسی ہے کہ انصاف کے لیے انعامات کی پیشکش کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو بہتر بنایا جائے۔”
طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمت کی منسوخی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد ہونے والے امریکی حکام کے دورہ افغانستان اور طالبان حکام کے ایک امریکی شہری کو رہا کرنے سے متعلق اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
خیال رہے کہ چند ہفتے قبل ایک طالبان رہنما نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ان کے ایک بیان پر متنبہ کیا تھا۔ روبیو نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکی شہریوں کو رہا نہ کیا گیا تو افغان حکمرانوں کے سروں کی قیمت طے کردی جائے گی۔
‘سروں کی قیمت کا خاتمہ علامتی ہے’
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکہ میں مقیم افغان سیاسی تجزیہ کار عبدالوحید فقیری نے کہا، "سروں کی قیمت کا خاتمہ علامتی ہے۔ امریکہ نے سراج الدین حقانی کو کریڈٹ دینے کے طریقے کے طور پر ایسا کیا ہے۔ جنہیں اعتدال پسند متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔”
واضح رہے سراج الدین حقانی امریکہ کی جانب سے سر کی مقرر کردہ انعامی رقم کے باوجود افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد سے کئی مرتبہ ملک سے باہر سفر کرچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں میں "عملی” حقانی شخصیات اور طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے قریب ایک زیادہ سخت گیر حلقے کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی بات کی گئی ہے، جو حکومت کے اندر اپنے اپنے اثر و رسوخ کے لیے کوشاں ہیں۔
کابل کی طالبان حکومت کو اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا اور نئی پیش رفت کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ "ایک نئے باب” کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلاء اور ان کی اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button