مشرق وسطیٰ

میانمار زلزلے کی تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے متجاوز: رپورٹ

زلزلے سے 4,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 440 ابھی تک لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں جنرل نے کہا کہ انہیں بھی شاید مردہ ہی برآمد کیا جائے گا۔

رپورٹ (وائس آف جرمنی): میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 2719 تک پہنچ گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 500 مسلمان بھی شامل ہیں، جو مساجد میں تھے۔ دوسری جانب سڑتی لاشوں کی بدبو شہروں میں پھیل رہی ہے۔
میانمار کی حکمران فوجی جنتا کے مطابق جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے تباہ کن زلزلے کے چار دن بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2,719 تک پہنچ گئی ہے۔ جنتا کے سربراہ جنرل من آنگ لائنگ نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد 3000 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں ابھی مواصلات سے کٹے ہوئے قصبوں اور دیہاتوں تک پہنچ رہی ہیں۔
زلزلے سے 4,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 440 ابھی تک لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں جنرل نے کہا کہ انہیں بھی شاید مردہ ہی برآمد کیا جائے گا۔
زلزلے کا مرکز میانمار کے شہروں ساگائنگ اور مندالے کے قریب تھا اور اس نے سڑکیں تباہ کر دیں جبکہ بنکاک تک عمارتیں منہدم ہوئیں۔ آج بروز منگل میانمار میں متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ آج صبح بالکل اسی وقت سائرن بجائے گئے، جس وقت پر چار روز قبل زلزلہ آیا تھا۔ یہ خاموشی اس قومی سوگ کے ایک ہفتے کا حصہ تھی، جس کا اعلان جنتا نے کیا تھا۔ میانمار میں چھ اپریل تک سرکاری عمارتوں پر لگے قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
مندالے میں بدترین تباہی
مندالے میانمار کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ تقریباً 17 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ شہر زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پیر کو جنتا نے 2,056 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 3,900 سے زائد افراد زخمی جبکہ 270 لاپتہ ہیں۔
سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 500 مسلمان بھی شامل ہیں، جو جمعہ کی نماز کے دوران مساجد میں تھے۔
مندالے کے سینکڑوں رہائشی چوتھی رات بھی کھلے آسمان تلے سوئے، یا تو ان کے گھر تباہ ہو چکے تھے یا وہ آفٹر شاکس کے خوف سے واپس نہیں گئے۔ ایک گھڑی ساز متاثرہ شخص سوئے ٹنٹ نے بتایا، ”میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ میرے گھر کے پاس چھ یا سات منزلہ عمارتیں جھکی ہوئی ہیں، جو کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔‘‘
ان میں سے کچھ کے پاس خیمے تھے لیکن بہت سے لوگوں، بشمول بچوں اور شیر خواروں کے، نے سڑکوں پر کمبل بچھا کر رات گزاری تاکہ وہ تباہ شدہ عمارتوں سے دور رہ سکیں۔
لاشوں کی بدبو پھیل رہی ہے
اس شہر میں درجنوں اپارٹمنٹ کمپلیکس منہدم ہو چکے ہیں جبکہ ایک بدھ مذہبی کمپلیکس کے ساتھ ساتھ متعدد ہوٹلوں کے ڈھانچے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ میانمار پہنچنے والی ایک بھارتی امدادی ٹیم بھی اسی شہر میں ملبہ ہٹانے کا کام سر انجام دے رہی ہے۔ ایک بھارتی افسر نے بتایا، ”بو بہت تیز ہے۔ شہر کے کئی تباہ حال مقامات پر گرمی میں سڑتے جسموں کی بدبو ناقابل برداشت ہے۔‘‘ مندالے کے مضافات میں واقع ایک شمشان گھاٹ میں سینکڑوں لاشوں کو ٹھکانے لگایا گیا ہے اور ابھی وہاں مزید لاشیں لائی جا رہی ہیں۔
امدادی کوششیں اور پیش رفت
میانمار میں 1000 سے زائد غیر ملکی امدادی کارکن مدد کے لیے پہنچ چکے ہیں جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق ملک بھر سے تقریباً 650 افراد کو تباہ شدہ عمارتوں سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔ قبل ازیں جنتا کے سربراہ من آنگ لائنگ نے غیر ملکی امداد کی غیر معمولی اپیل کی تھی، جو کہ اس ملک میں بڑی آفات کے بعد غیر ملکی مدد مانگنے سے گریز کی روایت سے انحراف ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے متاثرین کے لیے 100 ملین ڈالر کی ایمرجنسی اپیل شروع کی ہے۔
بنکاک میں نقصانات
میانمار سے سینکڑوں کلومیٹر دور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ہلاکتوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے اور ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں ایک 30 منزلہ زیر تعمیر اسکائی اسکریپر کے گرنے سے ہوئیں۔

جنگ اور قدرتی آفت کا دوہرا بحران
زلزلے سے پہلے ہی میانمار کے 50 ملین لوگ مصائب میں تھے، جہاں سن 2021 میں فوج نے آنگ سان سوچی کی سول حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور پھر وہاں چار سالہ شورش کا آغاز ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے پہلے ہی تقریباً 35 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے تھے، جن میں سے بہت سے بھوک کے خطرے سے دوچار تھے۔
جنتا کا کہنا ہے کہ وہ آفت سے نمٹنے کی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن حالیہ دنوں میں فوج مخالف مسلح گروہوں پر فضائی حملوں کی بھی متعدد رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی جولی بشپ نے تمام فریقین سے دشمنی روکنے اور شہریوں کی حفاظت اور امداد پر توجہ دینے کی اپیل کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button