بین الاقوامی

ایرانی جوہری ڈھانچے پر حملوں کے نتائج ’تباہ کن‘ ہوں گے، روس

ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی ضرورت ہے اور وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا

(نمائندہ وائس آف جرمنی-ماسکو):‌روس نے امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کرنے کی دھمکی کی شدید مذمت کی ہے۔ روس نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملوں کے ’تباہ کن‘ نتائج ہوں گے، جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے منگل کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں روسی جریدے ”انٹرنیشنل افیئرز‘‘ کو بتایا، ”دھمکیاں سنائی دے رہی ہیں، الٹی میٹم بھی سنائی دے رہے ہیں۔ ہم ایسے طریقوں کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں، ہم ان کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے امریکی طریقہ کار کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘
یہ بیانات ایک اس وقت سامنے آئے ہیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران واشنگٹن کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہیں کرتا تو اسے بمباری اور ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا تھا، ”اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو بمباری ہو گی۔ یہ ایسی بمباری ہوگی، جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘‘
ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں، سن 2015 کے اس معاہدے سے امریکہ کو دستبردار کر لیا تھا، جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا اور بدلے میں ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں نرمی کر دی گئی تھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی ضرورت ہے اور وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ تاہم، ایران نے حال ہی میں واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے یہ دھمکی دی۔
روس، جو عام طور پر ٹرمپ کے بارے میں سخت تنقید سے گریز کرتا آیا ہے، نے اس معاملے پر سخت موقف اپنایا ہے۔ روس نے جنوری میں ایران کے ساتھ ایک ”اسٹریٹیجک شراکت داری معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے اور اب خود کو ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
روس کا انتباہ اور ثالثی کی پیشکش
ریابکوف نے کہا کہ ٹرمپ کے تازہ بیانات سے ایران کے حوالے سے صورتحال ”مزید پیچیدہ‘‘ہو گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا، ”اس کے نتائج، خاص طور پر اگر جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، تو پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ”جب تک وقت ہے اور ٹرین روانہ نہیں ہوئی، ہمیں معقول بنیادوں پر معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو دگنا کرنا چاہیے۔ روس واشنگٹن، تہران اور ہر دلچسپی رکھنے والے فریق کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے۔‘‘
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے عالمی برادری میں تشویش کو جنم دیا ہے، خاص طور پر اس وقت، جب ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ تاہم ابھی تک نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے روس کی ثالثی کی پیشکش پر کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button