
(سید عاطف ندیم-پاکستان): ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی طالبان اور بلوچستان کے علیحدگی پسند عسکریت پسندوں نے مارچ میں پاکستان میں 100 سے زائد مہلک حملے کیے اور اس طرح یہ مہینہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ میں عسکریت پسندوں نے 105 حملے کیے، جن کے نتیجے میں 228 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اگست 2015 کے بعد سے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان کارروائیوں میں 73 سکیورٹی اہلکار، جن میں فوجی اور پولیس افسران شامل ہیں، 67 شہری اور 88 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ان حملوں میں کم از کم 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سکیورٹی اہلکار اور اتنے ہی شہری شامل ہیں۔
نمایاں حملہ: ٹرین ہائی جیک
مہینے کا سب سے ہائی پروفائل واقعہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے 28 گھنٹے تک ایک ٹرین کو یرغمال بنانا تھا، جس میں دو درجن سے زائد مسافر ہلاک ہوئے۔ اس حملے نے تشدد کی شدت کو واضح کیا۔
تشدد میں اضافے کی وجوہات
رپورٹ میں تشدد میں اضافے کا تعلق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے جوڑا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے زیادہ تر حملوں کی منصوبہ بندی، خواہ وہ پاکستانی طالبان کے ہوں یا بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے، افغانستان میں کی جاتی ہے۔ اسلام آباد نے افغانستان کے حکمران طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں کے مبینہ ذمہ دار عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں لیکن کابل حکومت افغانستان میں ان کی موجودگی سے انکار کرتی ہے۔
اس معاملے نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کے سیاسی اور فوجی رہنماؤں نے افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو ان دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) مہلک ترین دہشت گرد
بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) 2024 میں پاکستان میں مہلک ترین دہشت گرد حملے کی ذمہ دار تھی، جب بلوچستان کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ایک خودکش بمبار نے کم از کم 25 شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر دیا تھا۔
بی ایل اے اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسے بلوچ عسکریت پسند گروہ پاکستان کے اندر جاری عدم استحکام کا فائدہ اٹھارہے ہیں، ان گروہوں کے حملے 2023 میں 116 سے بڑھ کر 2024 میں 504 ہو گئے ہیں جبکہ اموات کی تعداد چار گنا بڑھ کر 388 ہو گئی جو گزشتہ سال 88 تھی۔
مزید برآں، بلوچ عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے نے 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی سطح میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، بی ایل اے نے وسائل نکالنے سے متعلق حکومتی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کا استحصال مقامی آبادی کے لیے مساوی ترقی یا معاوضے کے بغیر کیا جا رہا ہے۔
گروپ نے غیر ملکی سرمایہ کاری، خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چینی اقدامات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بلوچ عوام کو پسماندہ رکھ رہا ہے۔