پاکستان پریس ریلیز

پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے گورننگ باڈی اجلاس میں اہم فیصلے: صاف پانی کی فراہمی، ادارے کی توسیع اور گرین فنانسنگ پر زور

اجلاس میں پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے سٹاف اور ادارے کی توسیع سے متعلق ورکنگ پیپر منظور کر لیا گیا

لاہور (خصوصی رپورٹ) – پنجاب صاف پانی اتھارٹی کی گورننگ باڈی کا دوسرا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت گورننگ باڈی کے چئیرمین چوہدری زاہد اکرم نے کی۔ اجلاس میں ادارے کی موجودہ کارکردگی، جاری منصوبوں، اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید احمد نے اجلاس میں گورننگ باڈی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے پنجاب بھر میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق موجودہ منصوبوں پر روشنی ڈالی اور مستقبل کی حکمت عملی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی مضبوطی، مؤثریت، اور پائیداری کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جس کے تحت ریونیو جنریشن کے نئے ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔

اجلاس میں پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے سٹاف اور ادارے کی توسیع سے متعلق ورکنگ پیپر منظور کر لیا گیا۔ اس فیصلے کے تحت اتھارٹی کی استعداد کار کو بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ عوام کے لیے جدید واٹر ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے گی تاکہ پانی کے معیار کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جا سکے۔ بورڈ اجلاس میں یہ بات بھی زیرِ غور آئی کہ واٹر لائسنسنگ کے ذریعے پانی کے معیار کو بہتر اور پائیدار بنایا جائے گا۔

مزید برآں، مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گرین فنانسنگ اور کاربن کریڈٹس جیسے جدید مالیاتی تصورات کو ادارے کی مالی مضبوطی کے لیے متعارف کروانے کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام سے نہ صرف ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھیں گے۔

اجلاس میں گورننگ باڈی کے تمام سات ارکان نے شرکت کی، جن میں ایم پی اے ملک خالد محمود وارن، ایم پی اے حمیدہ میاں کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، لوکل گورنمنٹ اور فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان بھی شامل تھے۔

اجلاس کے اختتام پر چئیرمین چوہدری زاہد اکرم نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اور اس مشن میں شفافیت، جدیدیت اور پائیداری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

یہ اجلاس نہ صرف صاف پانی کے جاری منصوبوں کے جائزے کا موقع تھا بلکہ مستقبل کی پالیسیوں کے لیے ایک ٹھوس سمت کا تعین بھی ثابت ہوا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button