
نیپالی شہر سیمارا میں مخالف سیاسی کارکنوں کے مابین پرتشدد جھڑپوں کے بعد کرفیو کا نفاذ
یہ جھڑپیں سیاسی کارکنوں کے دو ایسے حریف گروپوں کے ارکان کے مابین ہو رہی ہیں، جن میں سے ایک گروپ ستمبر میں ہونے والے ہلاکت خیز احتجاجی مظاہروں کے دوران اقتدار سے محروم کر دی گئی
نیپال میں ایک دوسرے کے حریف سیاسی گروپوں کے کارکنوں کے مابین پرتشدد جھڑپوں کے بعد جمعرات 20 نومبر کے روز ضلع باڑا کے شہر سیمارا میں صورت حال پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
کھٹمنڈو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملکی دارالحکومت سے جنوب کی طرف واقع ضلع باڑا کے شہر سیمارا میں حریف سیاسی دھڑوں کے مابین یہ جھڑپیں بدھ کے روز شروع ہوئی تھیں اور وہاں نافذ کیے جانے والے کرفیو کا آج دوسرا دن ہے۔
اس سے پہلے کل بدھ 19 نومبر کو بھی وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا لیکن حالات میں کوئی بہتری نہ ہونے کے باعث سکیورٹی دستوں کی طرف سے آج جمعرات کو اس کرفیو کا پوری طاقت سے نفاذ کیا جا رہا ہے۔

یہ جھڑپیں سیاسی کارکنوں کے دو ایسے حریف گروپوں کے ارکان کے مابین ہو رہی ہیں، جن میں سے ایک گروپ ستمبر میں ہونے والے ہلاکت خیز احتجاجی مظاہروں کے دوران اقتدار سے محروم کر دی گئی سیاسی جماعت کے حامیوں کا ہے اور دوسرا اس پارٹی کے سیاسی مخالفین کا۔
نیپال میں یہ بدامنی اس وقت شروع ہوئی تھی جب اقتدار سے محروم ہو جانے والے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی جماعت کیمونسٹ پارٹی آف نیپال متحدہ مارکسسٹ لیننسٹ (CPN-UML) کی طرف سے ایک سیاسی اجتماع کا اہتمام کیا گیا تھا مگر ساتھ اس پارٹی کے مخالف نوجوان سیاسی کارکنوں نے ایک ریلی کی صورت میں اس اجتماع کے خلاف اپنا احتجاج بھی شروع کر دیا تھا۔

بھارت کے ہمسایہ ملک نیپال کے شہر سیمارا میں شروع ہونے والے یہ پرتشدد مظاہرے اور جھڑپیں پھیل کر شہر کے ہوائی اڈے کے قریب تک پہنچ گئے تھے۔
اس بارے میں باڑا کی ضلعی انتظامیہ کے سربراہ دھرمیندر کمار مشرا نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آپس میں مکالمت کریں۔ اس صورت حال میں شہر میں آج بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔‘‘



