پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے صوبے پنجاب میں پیرا فورسز کی کارروائیاں: تجاوزات کے خلاف آپریشن یا بازاروں میں خوف؟

"دکاندار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لاکھوں روپے کرایہ دیتے ہیں، اور باہر سے گاہکوں کو ہتھ ریڑھی والے لے جاتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے فٹ پاتھ پر کاروبار کو بند کروانے کے لیے اقدامات کیے۔"

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی کے ساتھ

پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں تجاوزات کے خاتمے اور سرکاری زمینوں کی واگزاری کے لیے تشکیل دی گئی نئی پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) فورس ان دنوں نہ صرف بازاروں کی گلیوں میں متحرک ہے، بلکہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔

پیرا فورس کی کارروائیوں پر تاجر برادری بظاہر خوش نظر نہیں آتی

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی سربراہی میں گزشتہ مہینے اس فورس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا، اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ فورس صوبے کو غیر قانونی قبضوں، دکانوں کے باہر پھیلے ہوئے سامان، اور فٹ پاتھوں پر کاروبار سے نجات دلانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ تاہم، پیرا فورس کی کارروائیوں کا اثر صرف تجاوزات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب اس کا انداز، طریقہ کار، اور عوامی ردِعمل خود حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔


حکومتی مؤقف: "ہم صرف قانون نافذ کر رہے ہیں”

پیرا فورس کے انسپکٹر کا کہنا ہے کہ:

"ہم صرف اور صرف قانون پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر لوگ غیر قانونی طریقے سے کاروبار کر رہے ہیں، اس لیے عمل درآمدگی کا کوئی بھی طریقہ ان کے لیے ناگوار محسوس ہوتا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ بازاروں میں شولڈر سیلنگ یعنی کندھے پر سامان رکھ کر بیچنے کا عمل ایس او پیز کے خلاف ہے اور اس پر کارروائی پہلے وارننگ کے بعد کی جاتی ہے۔

"دکاندار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لاکھوں روپے کرایہ دیتے ہیں، اور باہر سے گاہکوں کو ہتھ ریڑھی والے لے جاتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے فٹ پاتھ پر کاروبار کو بند کروانے کے لیے اقدامات کیے۔”


عوامی و تاجر برادری کا مؤقف: "یہ دہشت ہے، انفورسمنٹ نہیں”

تاجر برادری اور مقامی دکاندار پیرا فورس کے طریقہ کار سے سخت نالاں نظر آتے ہیں۔ لاہور کے ایک معروف بازار کے نمائندے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:

"ہم حکومت کے ساتھ ہیں، ہم تجاوزات کے خلاف کارروائی کے مخالف نہیں۔ مگر بازاروں میں ہوٹر والی گاڑیاں، گالی گلوچ اور بدتہذیبی کا ماحول ناقابلِ برداشت ہے۔”

انہوں نے ایک انتہائی افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

"میں خود اس جگہ پر گیا جہاں چار لوگ جان سے گئے۔ وہ صرف اپنا بورڈ ہٹا رہے تھے، جب شور مچا کہ ‘پیرا والے آ گئے’، تو گھبراہٹ میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔”

تاجروں کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں:

  • تقریباً ایک لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں

  • کاروباری ماحول بُری طرح متاثر ہو چکا ہے

  • بازاروں میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے


انسانی جانیں، نوکریاں، اور اعتماد: کون ذمہ دار؟

سوشل میڈیا پر ایسے درجنوں واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں پیرا فورس کے اہلکار دکانوں کے سامنے سے بورڈ، چھتریاں، اسٹالز اور یہاں تک کہ ویل چیئرز تک اُٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر ان اہلکاروں کے ہاتھوں خواتین سے بدتمیزی اور بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز بھی وائرل ہو چکی ہیں۔

فیس بک اور ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ہزاروں صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ:

  • کیا فٹ پاتھ پر سامان رکھنے والوں کو اتنی سخت سزا دی جا سکتی ہے؟

  • کیا دکان کے سامنے لگا ہوا سائن بورڈ "تجاوزات” میں آتا ہے؟

  • اور کیا بے روزگاری کو مزید بڑھانا حکومتی اصلاحات کا حصہ ہے؟


وزیراعلیٰ مریم نواز کے وژن پر سوالات

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیرا فورس کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ:

"ہم پنجاب کو صاف، قانون کے دائرے میں، اور منظم صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ پیرا فورس بلا امتیاز کام کرے گی اور سرکاری زمین کا ایک انچ بھی قبضے میں نہیں رہنے دے گی۔”

تاہم، حالیہ واقعات نے ان کے اس وژن کو عملدرآمد کے لحاظ سے مشکل بنا دیا ہے۔ تاجر برادری اب حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ:

  • پیرا فورس کے اہلکاروں کی اخلاقی تربیت کی جائے

  • چھوٹے کاروباریوں کے لیے متبادل روزگار کا بندوبست کیا جائے

  • قوانین پر عمل درآمد انسانی احترام اور وقار کے ساتھ ہو


ماہرین کا تجزیہ: بیلنس کیسے رکھا جائے؟

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ روزگار کے مواقع چھین لیے جائیں۔ ایکسپرٹس کے مطابق:

  • چھوٹے تاجروں اور ہاکرز کے لیے متبادل مقامات مختص کیے بغیر ایسی کارروائیاں "معاشی ناانصافی” کہلائیں گی

  • فورسز کی کارروائیوں کو معاشرتی حساسیت کے دائرے میں لانا ضروری ہے

  • قانون کی عملداری اور عوامی اعتماد ایک ساتھ چلنے چاہیے


نتیجہ: قانون یا لاٹھی؟

پیرا فورس کا قیام ایک اہم قدم ہے، جو اگر درست طریقے سے چلایا جائے تو پنجاب میں صاف ستھرا اور منظم ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر اس فورس کا عملہ خود قانون کی دھجیاں اڑاتا رہا، اور لوگوں کے کاروبار، روزگار، اور جان کو نقصان پہنچاتا رہا تو یہ اقدام حکومت کے خلاف عوامی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔

تجاوزات کے خاتمے اور عوام کے تحفظ میں توازن ہی وہ راستہ ہے جو حکومت کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ورنہ سڑکوں پر صرف قانون نہیں، لاٹھی کا راج ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button