
کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سنیچر کے روز واضح الفاظ میں کہا کہ ان کا ملک کسی بھی امن معاہدے کے بدلے روس کو اپنی زمین نہیں دے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور روس نے جنگ کے خاتمے کے لیے الاسکا میں سربراہی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان یہ ملاقات آئندہ جمعہ کو ہوگی۔ ٹرمپ نے اعلان کے دوران اشارہ کیا کہ "دونوں اطراف کے مفاد میں کچھ علاقوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔” لیکن انہوں نے کوئی تفصیلی خاکہ پیش نہیں کیا۔
یوکرین کی سخت وارننگ
ٹرمپ کے ریمارکس کے چند گھنٹے بعد زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا، "یوکرینی باشندے اپنی زمین قابضین کو نہیں دیں گے۔ ہمارے خلاف کوئی بھی فیصلہ، یوکرین کے بغیر کوئی بھی فیصلہ امن کے خلاف ہوگا۔” انہوں نے زور کے ساتھ کہا کہ جنگ کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے جب یوکرین اس فیصلے میں شامل ہو اور روس اپنی جارحیت بند کرے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ بات چیت میں زیلنسکی نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ دیرپا اور منصفانہ امن قائم کرنے کے لیے "واضح اقدامات” کریں۔
یورپ اور اتحادیوں کا موقف
امریکہ، یورپی یونین اور دیگر اتحادیوں کے قومی سلامتی کے مشیر الاسکا کانفرنس سے قبل برطانیہ میں جمع ہوئے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے زیلنسکی، سٹارمر اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ "یوکرین کے مستقبل کا فیصلہ یوکرینیوں کے بغیر نہیں کیا جا سکتا” اور یورپ کو بھی مذاکرات میں شامل ہونا ہوگا۔
روس کے حالات اور فوجی پیش رفت
امن کے لیے ماسکو کی پیشگی شرائط کافی سخت ہیں۔ اس کے مطابق کیف کو متنازع علاقوں سے فوجیں واپس بلانی ہوں گی اور دیرپا امن معاہدے کا عہد کرنا چاہیے۔ سنہ 2022 میں روس نے ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوریجھیا اور کھیرسن کے انضمام کا اعلان کیا، جب کہ ان علاقوں پر اس کا مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ اس سے قبل 2014 میں روس نے کریمیا بھی کو ضم کر لیا تھا۔
دریں اثنا، سنیچر کے روز روس اور یوکرین نے درجنوں ڈرون حملوں کا تبادلہ کیا۔ یوکرین کے شہر کھیرسن میں ایک بس پر روسی حملے میں دو افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے۔ اس دوران روس نے ڈونیٹسک کے یابلونوکا گاؤں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سفارتی سرگرمیاں اور دباؤ کی حکمت عملی
الاسکا سربراہی اجلاس سے قبل پوتن نے اتحادی ممالک برازیل، چین اور بھارت کے رہنماؤں سے رابطہ کیا۔ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے بات چیت اور "پرامن حل” کی کوششوں کی حمایت کی۔
دوسری جانب ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر اضافی ڈیوٹی عائد کر دیا ہے اور چین پر بھی ایسا ہی ٹیکس لگانے کا انتباہ دیا ہے، حالانکہ یہ قدم ابھی تک نہیں اٹھایا گیا۔



