
سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی کے ساتھ:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، NI (M) HJ کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع سوات، بونیر، شانگلہ اور صوابی کا دورہ کیا، جہاں انہیں جاری ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم اور آرمی چیف نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متاثرین سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اور پاک فوج ان کی مکمل بحالی تک انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود تھے۔
سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ریلیف آپریشنز کا جائزہ
دورے کے دوران وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ براہ راست ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
"یہ وقت دکھ، صبر اور ہمدردی کا ہے۔ وفاقی حکومت پاک فوج کے ساتھ مل کر ہر متاثرہ خاندان تک پہنچنے اور ان کی مکمل بحالی تک خدمات انجام دیتی رہے گی۔”

وزیراعظم نے متاثرین کو مکمل تعاون، خوراک، ادویات، عارضی رہائش، اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریسکیو 1122، پاک فوج، پولیس اور سول انتظامیہ کی ریلیف سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات "قومی فخر کا باعث” ہیں۔
بحالی کے لیے قومی وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت
وزیراعظم نے حکام کو ہدایت دی کہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ:
"یہ قومی بحران ہے جس میں ہر ادارے کو قومی جذبے سے کام لینا ہوگا۔ تمام دستیاب وسائل فوری طور پر متحرک کیے جائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں جلد از جلد معمولاتِ زندگی بحال کیے جا سکیں۔”
وزیراعظم نے مختلف اضلاع میں قائم ریلیف کیمپوں کا دورہ بھی کیا، متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا اور مقامی رہنماؤں و انتظامیہ سے تفصیلی مشاورت کی۔
غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں آفاتِ سماوی سے ہونے والے نقصانات میں غیر قانونی تجاوزات، ٹمبر مافیا، اور غیر قانونی کرشنگ و کان کنی کی سرگرمیوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ:
"یہ انسانی غفلت اور قانونی کمزوریوں کا نتیجہ ہے کہ آبی گزرگاہوں پر قبضے، بے ہنگم کان کنی اور ٹمبر مافیا کی حرکتوں نے سیلاب کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور پاکستان کو ایک "سخت ریاست” کے طور پر کردار ادا کرنا ہوگا جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو۔
چیف آف آرمی اسٹاف کی ہدایت: عوام کی مدد اولین ترجیح
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورے کے دوران ریلیف سرگرمیوں میں مصروف فوجی جوانوں، پولیس اور سول انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی قربانیوں اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا:
"سیلاب سے متاثرہ ساتھی شہریوں کی مدد ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہر سپاہی، افسر اور رضاکار کو اس قومی فریضے کو عبادت سمجھ کر انجام دینا ہے۔”
فیلڈ مارشل نے زمینی فارمیشنز کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ علاقوں میں مکمل جانفشانی سے امدادی خدمات جاری رکھیں اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔
سیلاب میں جاں بحق افراد کے لیے فاتحہ خوانی
وزیراعظم، آرمی چیف، وفاقی وزراء اور دیگر شرکاء نے دورے کے دوران سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
ریاستی اداروں کی مربوط کاوشوں کا عزم
یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے تمام ریاستی ادارے، خصوصاً پاک فوج، سول انتظامیہ اور وفاقی حکومت، ملک کے کسی بھی حصے میں پیش آنے والی آفات سے نمٹنے اور متاثرہ عوام کی خدمت میں پوری طرح متحد اور سرگرم ہیں۔
وزیراعظم نے اس موقع پر ایک بار پھر قوم سے اتحاد، ہمدردی، قانون کی پاسداری اور اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیا۔




