پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے لیے واپسی کی مہلت ختم، سمز کی بندش اور بے دخلی کا عمل تیز

جن افغان شہریوں کی سمز قانونی دستاویزات پر رجسٹرڈ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)
پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے دی گئی 31 اگست 2025 کی مہلت ختم ہونے کے بعد، واپسی اور بے دخلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اس عمل کا مقصد غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی، ڈیجیٹل رسائی محدود کرنا اور ان کی وطن واپسی کو یقینی بنانا ہے۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اب تک 5 لاکھ سے زائد موبائل فون سمز بلاک کر دی ہیں، جو افغان پناہ گزینوں کے زیر استعمال تھیں۔ یہ سمز مرحلہ وار کارروائی کے تحت بند کی جا رہی ہیں۔


درست دستاویزات رکھنے والے افغان شہری مستثنیٰ

پی ٹی اے کے مطابق ایسی تمام سمز کو بلاک کیا جا رہا ہے جن کا اندراج درست شناختی کاغذات (شناختی کارڈ، افغان پاسپورٹ یا ویزا) کے بغیر کیا گیا تھا۔
البتہ، جن افغان شہریوں کی سمز قانونی دستاویزات پر رجسٹرڈ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ سمز کی بندش کا مقصد ڈیجیٹل نیٹ ورک کا غلط استعمال روکنا، سیکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنانا اور حکومت کی ہدایت کے مطابق غیرقانونی افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔


اسلام آباد اور راولپنڈی میں افغان پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ

اسلام آباد اور راولپنڈی میں افغان پناہ گزینوں کے لیے حالات مزید دشوار ہو چکے ہیں۔ ایسے افغان باشندے جن کے پی او آر (Proof of Registration) کارڈز، ویزے یا دیگر قانونی دستاویزات کی معیاد ختم ہو چکی ہے، انہیں نہ صرف کرائے پر مکان لینے سے روکا جا رہا ہے بلکہ موجودہ مکانات سے بھی بےدخل کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں اسلام آباد کے سیکٹر G-6 میں واقع ارجنٹائن پارک کے قریب درجنوں افغان خاندانوں نے عارضی کیمپ لگا کر رہائش اختیار کر لی ہے۔ یہ افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور کھلے آسمان تلے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔


سمز کی بندش نے رابطوں کا نظام مفلوج کر دیا

بند کی گئی سمز کے باعث افغان پناہ گزینوں کی اپنے رشتہ داروں، سفارتی نمائندوں، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
افغان باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ اب پاکستانی دوستوں یا جاننے والوں کے نام پر عارضی سمز استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف قانونی خطرات بڑھ رہے ہیں بلکہ ان کی نجی معلومات بھی غیرمحفوظ ہو گئی ہیں۔


وزارتِ داخلہ کی ہدایت: تمام افغان پناہ گزین ملک چھوڑنے کے پابند

یاد رہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ نے چند ماہ قبل واضح کیا تھا کہ ملک میں مقیم تمام افغان شہری، خواہ ان کے پاس پی او آر کارڈ ہو یا نہ ہو، 31 اگست 2025 تک پاکستان چھوڑنے کے پابند ہوں گے۔
یہ مہلت غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کے قومی منصوبے کے تحت دی گئی تھی، جس کا مقصد ملک میں سیکیورٹی، معاشی بوجھ میں کمی اور نظامِ قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق اس تاریخ کے بعد ایسے تمام افغان باشندوں کو باقاعدہ قانونی کارروائی کے بعد ملک بدر کیا جائے گا۔


انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغان مہاجرین کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ خواتین، بچوں اور بیمار افراد کے لیے ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ غیرقانونی قیام پر کارروائی حکومت کا حق ہے، تاہم اس عمل میں انسانی وقار اور بین الاقوامی اصولوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔


معاشی و سیکیورٹی خدشات پسِ پشت

حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف معاشی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ بعض عناصر سیکیورٹی خدشات کا باعث بھی بنے ہوئے ہیں۔
لہٰذا افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور ان کے ڈیجیٹل، رہائشی، اور معاشرتی نیٹ ورک کو محدود کرنا ضروری ہو چکا ہے۔


مستقبل کی حکمت عملی: نادرا، پی ٹی اے اور وزارت داخلہ کا اشتراک

ذرائع کے مطابق نادرا، پی ٹی اے اور وزارت داخلہ کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور تصدیقی عمل کے ذریعے افغان شہریوں کی درست نشاندہی کا عمل جاری ہے۔
اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف شہروں میں سپیشل ریویو یونٹس تشکیل دیے جا رہے ہیں جو دستاویزات کی جانچ پڑتال، رہائش گاہوں کی نگرانی اور سرحدی نگرانی جیسے اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔


خلاصہ: قانون پر عملدرآمد اور انسانی ہمدردی کے درمیان توازن کی تلاش

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف حکومتی اقدامات نے ایک بار پھر قانونی عملداری اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
جہاں حکومت قومی مفادات، سیکیورٹی اور وسائل کے تحفظ کی خاطر سخت اقدامات اٹھا رہی ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کو انسانی وقار، بین الاقوامی اصولوں اور مہاجرین کے تحفظ کی عالمی ذمہ داریوں کے تناظر میں متوازن انداز میں نافذ کیا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button