
پنجاب میں سیلاب سے ہلاکتیں 60 تک پہنچ گئیں، کراچی میں اربن فلڈنگ کا خطرہ، ملک بھر میں ہنگامی صورتحال
مظفر گڑھ، رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، بنڈہ اسحاق، ویلاں والی اور عظمت پور جیسے علاقوں میں درجنوں دیہات ڈوب چکے ہیں
اسلام آباد/لاہور/کراچی (خصوصی نمائندہ)
پاکستان میں مون سون بارشوں کے تسلسل اور بھارت کی جانب سے دریاوں میں پانی چھوڑے جانے کے باعث ملک بھر میں سیلابی صورتحال انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ پنجاب میں اب تک 60 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، ہزاروں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ کراچی میں شدید بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کا سخت خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پنجاب میں تباہ کن صورتحال، لاکھوں افراد متاثر
پنجاب کے مختلف اضلاع، خصوصاً جنوبی پنجاب کے علاقے شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔
دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جس کی وجہ سے مظفر گڑھ، رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، بنڈہ اسحاق، ویلاں والی اور عظمت پور جیسے علاقوں میں درجنوں دیہات ڈوب چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے (محکمہ برائے قدرتی آفات) پنجاب کے مطابق:
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
اب تک 4,335 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔
سیلاب سے 42 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
18 لاکھ 581 ایکڑ زرعی رقبہ تباہ ہوا، جس سے دالیں اور سبزیاں مہنگی ہو گئی ہیں۔
21 لاکھ افراد اور 15 لاکھ 50 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
حکومتی ردعمل: ’وزیراعلیٰ مریم نواز ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گی‘
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ:
"حکومت نے اتنی بڑی قدرتی آفت کے باوجود بروقت اقدامات کیے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف جلد ہی ایک بڑا ریلیف پیکیج جاری کریں گی تاکہ متاثرین کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"جن علاقوں میں پانی کی سطح کم ہوئی ہے، وہاں لوگ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر واپس نہ جائیں۔ پانی کے قریب جا کر ویڈیوز بنانا یا سیلاب کو تفریح سمجھنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔”
کراچی میں خطرے کی گھنٹی، شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کا امکان
کراچی میں بھی شدید بارشوں کا نیا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق:
شہر میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر سے زائد موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔
اربن فلڈنگ، بجلی کے بریک ڈاؤن، اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
ہوائیں 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔
بارش کا نظام ’ڈیپ ڈپریشن‘ کی سطح پر پہنچ چکا ہے، جو سمندری طوفان سے قبل کی خطرناک اسٹیج سمجھی جاتی ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے:
"سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور پانی کریک ایریاز سے نہر خیام کی طرف بہہ رہا ہے، جو شہریوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔”
ملک بھر میں موسمی صورتحال: مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کا امکان ہے:
پیر (آج):
وسطی و جنوبی پنجاب
سندھ
شمال مشرقی بلوچستان
خیبر پختونخوا
گلگت بلتستان
کشمیر
منگل (کل):
سندھ
جنوبی پنجاب
شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان
بعض مقامات پر تیز ہوائیں، گرج چمک اور موسلا دھار بارش متوقع ہے۔
بالائی علاقوں میں بھی دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری
ریسکیو 1122، پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور فلاحی ادارے مسلسل:
نقل مکانی میں مدد دے رہے ہیں
کیمپ قائم کر رہے ہیں
ادویات، خوراک اور خیمے فراہم کر رہے ہیں
جانوروں کے لیے چارہ اور ویکسین کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے
سیلاب سے تعلیمی ادارے بند، فصلیں تباہ، سڑکیں منقطع، اور بجلی و مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔
💬 ماہرین کی رائے: یہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہے
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق:
"پاکستان کو بار بار کی قدرتی آفات، بالخصوص سیلابوں کا سامنا ماحولیاتی تبدیلی، ناقص انفراسٹرکچر، اور غیر منصوبہ بندی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی، زرعی اور معاشی نقصانات ناقابلِ تلافی ہوں گے۔”
خلاصہ: ملک بھر میں ہنگامی صورتحال، حکومت اور عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا
اس وقت پاکستان میں سیلاب اور شدید بارشوں نے ملک بھر میں ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
پنجاب میں لاکھوں افراد متاثر، سندھ میں اربن فلڈنگ کا خطرہ، اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
عوام سے اپیل ہے کہ:
سیلابی علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں
ریسکیو ٹیموں سے تعاون کریں
مصدقہ اطلاعات پر عمل کریں
افواہوں سے بچیں اور سوشل میڈیا پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں



