پاکستاناہم خبریں

بیجنگ میں صدرِ پاکستان اور خاتونِ اوّل سے چائنا-افریقہ چیمبر آف کامرس کی نائب صدر کی ملاقات، پاکستان میں چیمبر قائم کرنے پر تبادلہ خیال

"پاکستان اور چین کی دوستی بے مثال ہے اور یہ چیمبر نہ صرف دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، اور صنعتی اشتراک کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔"

بیجنگ (نمائندہ خصوصی) — صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری سے چائنا-افریقہ چیمبر آف کامرس کی نائب صدر مس ہاؤ نے بیجنگ میں اہم ملاقات کی، جس میں دو طرفہ اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری کے فروغ، اور نجی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر مس ہاؤ نے پاکستان میں چائنا-افریقہ چیمبر آف کامرس کی طرز پر ایک "چائنا-پاکستان چیمبر آف کامرس” کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط کرنے کے لیے یہ ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں چیمبر کے قیام کی تجویز، صدر اور خاتونِ اوّل کی مکمل حمایت

صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری نے مس ہاؤ کی تجویز کو نہایت قابلِ تحسین قرار دیا اور پاکستان میں اس نوعیت کے چیمبر کے قیام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

صدرِ مملکت نے کہا:

"پاکستان اور چین کی دوستی بے مثال ہے اور یہ چیمبر نہ صرف دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، اور صنعتی اشتراک کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ کسی بھی معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ایسے پلیٹ فارمز باہمی روابط کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔

مس ہاؤ کا عزم: پاکستان میں اقتصادی مواقع کی بھرپور صلاحیت

مس ہاؤ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک اہم اقتصادی اور جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے اور چین کی بہت سی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، خصوصاً توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت، ٹیکسٹائل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔

انہوں نے کہا:

"پاکستان میں چائنا-پاکستان چیمبر آف کامرس کے قیام سے دونوں ممالک کے تاجروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آئے گا، جہاں وہ نہ صرف باہمی رابطے قائم کر سکیں گے بلکہ سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔”

چین میں پاکستانی قیادت کی موجودگی کا فائدہ

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری سرکاری دورے پر چین میں موجود ہیں، جہاں وہ متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتوں، تجارتی معاہدوں اور دو طرفہ تعاون کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں اس نوعیت کی کاروباری اور تجارتی ملاقاتیں سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے منصوبوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ چین کے ساتھ نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ نجی شعبے میں بھی شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔

تجارتی سفارتکاری کا نیا باب

تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے پاکستان کی قیادت کی پالیسیوں میں تبدیلی واضح ہے۔ صدرِ مملکت اور خاتونِ اوّل کی چینی کاروباری برادری سے براہِ راست ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست روابط اور مؤثر سفارتکاری کو اہمیت دے رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک مربوط اور فعال چیمبر آف کامرس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جو دوطرفہ کاروباری روابط میں سہولت فراہم کر سکے۔


اختتامیہ:
چائنا-پاکستان چیمبر آف کامرس کا قیام بظاہر ایک تجویز ہے، مگر اگر اسے عملی جامہ پہنایا جائے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو ایک نئی بلندی پر لے جا سکتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان کی تجارتی سفارتکاری میں جو نئی روح پھونکی جا رہی ہے، وہ مستقبل قریب میں مثبت نتائج دے سکتی ہے — بشرطیکہ اسے مؤثر عملدرآمد اور پالیسی استحکام کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button