
دوحہ میں عرب-اسلامک ہنگامی اجلاس: قطر پر اسرائیلی حملے کے خلاف مذمتی قرارداد زیر غور، اسرائیل کو عالمی سطح پر جوابدہ ٹھہرانے کی کوششیں تیز
"یہ اجلاس صرف قطر کے دفاع کے لیے نہیں، بلکہ یہ پیغام دینے کے لیے ہے کہ قطر تنہا نہیں ہے۔ عرب اور اسلامی دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے۔"
دوحہ / اسلام آباد (بین الاقوامی ڈیسک + نمائندہ خصوصی) — قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آج اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور عرب لیگ کے مشترکہ زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا عرب-اسلامک ہنگامی اجلاس فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم اور حالیہ قطر پر حملے کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم سفارتی موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ اجلاس میں مسلم دنیا کے سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم اور اعلیٰ سفارتی حکام شرکت کر رہے ہیں، جس کا مقصد اسرائیل کے خلاف متحدہ اسلامی موقف اختیار کرنا ہے۔
اجلاس کا پس منظر: قطر پر اسرائیلی حملہ اور فلسطینی بحران
یہ اجلاس ایسے وقت پر منعقد ہو رہا ہے جب نو ستمبر کو اسرائیل نے قطر پر فضائی حملہ کیا، جسے مبینہ طور پر حماس کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا بلکہ اس نے خلیجی خطے کی سلامتی اور خودمختاری پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ قطر، جو عرصہ دراز سے فلسطین اور غزہ کے معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اب خود اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی ہے کہ اجلاس میں "قطر پر اسرائیلی حملے سے متعلق قرارداد کے مسودے” پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں اس حملے کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان، ترکی، ایران، عراق، فلسطین اور دیگر ممالک کی فعال شرکت
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی، ترک صدر رجب طیب ایردوان (متوقع)، اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی شرکت تاحال غیر یقینی ہے، تاہم وہ اجلاس سے قبل قطر کا دورہ کر کے اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس میں او آئی سی کے 50 سے زائد رکن ممالک کی نمائندگی موجود ہے، جو فلسطین میں اسرائیلی بربریت، مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع، اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جیسے معاملات پر متفقہ مؤقف اپنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
متفقہ قرارداد: الفاظ سخت، مگر عملی اقدامات غیرواضح
اجلاس میں پیش کی گئی ابتدائی قرارداد کے مسودے میں اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کو "خطے کو غیر مستحکم کرنے والا اقدام” قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ مسلم دنیا "اسرائیل کی جانب سے خطے پر نئے حقائق مسلط کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے گی۔”
تاہم، روئٹرز کے مطابق، اس مسودے میں فی الحال اسرائیل کے خلاف کسی سفارتی یا اقتصادی پابندی کا واضح ذکر موجود نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ الفاظ میں سختی ہے، مگر اس میں کوئی عملی اقدامات درج نہیں کیے گئے، اور حتمی قرارداد میں مزید رد و بدل بھی متوقع ہے۔
عرب لیگ کا مؤقف: قطر تنہا نہیں
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیث نے مشرقِ وسطیٰ کے مؤقر اخبار الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"یہ اجلاس صرف قطر کے دفاع کے لیے نہیں، بلکہ یہ پیغام دینے کے لیے ہے کہ قطر تنہا نہیں ہے۔ عرب اور اسلامی دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جن کا مؤثر اور متحد جواب وقت کی ضرورت ہے۔
قطری وزیرِاعظم کا بیان: اسرائیل کو جوابدہ بنانا ہو گا
قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اجلاس سے ایک روز قبل واضح کیا کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات نہ صرف دوحہ کی ثالثی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ پورے خطے کو ایک نئے بحران میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:
"بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور دوہرے معیار ہی وہ عوامل ہیں جو اسرائیل کو بار بار جرائم کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کو اس کے جرائم پر جوابدہ بنایا جائے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"اسرائیل کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ جو جنگ فلسطینی عوام کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد انہیں ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔”
امریکہ کا کردار اور اسرائیلی دباؤ
یاد رہے کہ قطر میں خطے کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ واقع ہے۔ اس تناظر میں قطر پر اسرائیلی حملہ نہ صرف خلیجی ریاست کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے بلکہ امریکہ کی خطے میں موجودگی پر بھی کئی سوالات اٹھا رہا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر پر دباؤ بڑھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود حماس کے رہنماؤں کو یا تو ملک بدر کرے یا انہیں اسرائیل کے حوالے کرے، ورنہ "اسرائیل اپنے اقدامات جاری رکھے گا۔”
اجلاس سے ممکنہ نتائج: فلسطین کو عالمی فورمز پر لے جانے کی تیاری
سفارتی ذرائع کے مطابق، دوحہ اجلاس میں شریک رہنما اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے مسئلے کو مزید مؤثر انداز میں اٹھانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے مشترکہ سفارتی حکمت عملی بنانے پر بات چیت جاری ہے، جس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے اور اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
اختتامیہ: اسلامی دنیا کا امتحان
دوحہ میں منعقد ہونے والا یہ ہنگامی اجلاس اسلامی دنیا کے لیے ایک بڑے سفارتی امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ اجلاس صرف مذمتی قرارداد تک محدود رہا، تو عالمی برادری اور اسرائیل پر دباؤ کے اثرات محدود رہیں گے۔ تاہم اگر عملی اقدامات، سفارتی یا اقتصادی سطح پر سامنے آئے، تو یہ نہ صرف فلسطین بلکہ قطر جیسے ممالک کے لیے بھی سفارتی و اخلاقی فتح تصور کیا جائے گا۔
اجلاس کے نتائج آنے والے دنوں میں عالمی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں — خاص طور پر اگر مسلم دنیا متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف ایک عملی اور پائیدار حکمتِ عملی اپنائے۔



