پاکستان اور افغانستان کے استنبول مذاکرات میں ڈیڈلاک، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق،پاکستان کا افغان طالبان سے وعدوں پر عمل کرنے کا مطالبہ
پاکستان اور افغانستان کے استنبول مذاکرات میں ڈیڈلاک، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق،پاکستان کا افغان طالبان سے وعدوں پر عمل کرنے کا مطالبہ
افغان طالبان کی حکومت کی ترجمان نے بھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا، جس سے مذاکرات کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنا اور ایک پائیدار امن کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنا تھا۔ اس بات چیت کا آغاز گزشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے فوجی ہلاک ہوئے۔ اس جھڑپ کے بعد قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس کے بعد ترکیہ میں مذاکرات کا آغاز ہوا تاکہ جنگ بندی کے لیے ایک میکانزم تیار کیا جا سکے اور اس کے نتائج کو مؤثر بنایا جا سکے۔
پاکستان کا موقف یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد، افغان طالبان نے دہشت گردی کے خلاف اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس سے پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کی سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، اور اس کے لیے افغان حکومت کو جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔
پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ خیر سگالی رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پرامن مستقبل کی خواہش رکھتا ہے، لیکن دہشت گردوں کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنے پر افغانستان کی حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو مرتب کرتا ہے، اور وہ اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستانی مفادات کے خلاف استعمال ہو۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں مکمل ڈیڈلاک کا سامنا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مذاکرات کا اگلا مرحلہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس ڈیڈلاک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی اور پاکستانی وفد اب وطن واپس روانہ ہو چکا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے اس دور میں نہ تو کوئی نیا پروگرام ہے اور نہ ہی اس بات کی کوئی امید ہے کہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچ سکے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی وفد اس وقت استنبول ایئرپورٹ روانہ ہو چکا ہے، اور مذاکرات کا موجودہ دور غیر متوقع طور پر ختم ہو گیا ہے۔
استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات میں ڈیڈلاک، پاکستان کا افغان طالبان سے وعدوں پر عمل کرنے کا مطالبہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے، جس میں پاکستان نے افغانستان سے افغان سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے کی ذمہ داری لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر ثابت قدم ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔
استنبول میں ہونے والی یہ ملاقاتیں ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہوئیں، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان دونوں ممالک کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن واضح ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، افغان طالبان نے 2021 میں دوحہ امن معاہدے کے تحت جو وعدے کیے تھے، انہیں پورا کرنے میں اب تک ناکامی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر اپنے وعدوں کو نظرانداز کیا ہے بلکہ دو طرفہ سطح پر بھی وہ اپنے عہدوں کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں۔
پاکستان نے اس موقع پر افغان عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پرامن مستقبل کی خواہش رکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ پاکستان طالبان حکومت کے کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو پاکستان کے قومی مفاد میں نہ ہو۔
پاکستان نے یہ بھی کہا کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کا شکار ہے، اور ان حملوں میں اکثر پاکستانی شہریوں کی جانیں جاتی ہیں۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
افغان طالبان کی جانب سے ابھی تک ان مطالبات پر واضح جواب نہیں آیا ہے۔ افغان حکومت کی ترجمان نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور میں اس معاملے پر بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا، اور افغان طالبان کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں۔
ترکی اور قطر کے حکام نے مذاکرات کے دوران دونوں طرف کے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن اس بات کا کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس ڈیڈلاک کو کس طرح ختم کیا جائے گا۔
پاکستان کا موقف یہ ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے، اور اسی وجہ سے وہ افغان عوام کے لیے پرامن مستقبل کے خواہاں ہیں۔ تاہم، دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تعلقات کی پیچیدگیاں مذاکرات میں مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔
اس صورتحال میں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک اپنے مفادات کے متوازن حل تک کیسے پہنچتے ہیں۔
افغان طالبان کی خاموشی اور مذاکرات کا مستقبل
افغان طالبان کی جانب سے ابھی تک اس ڈیڈلاک پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان کو اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا، لیکن اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں مل سکا کہ طالبان اس پر عمل کریں گے یا نہیں۔ افغان طالبان کی حکومت کی ترجمان نے بھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا، جس سے مذاکرات کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ افغان حکومت کو دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے برعکس، افغان طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والی کارروائیوں سے غیر متعلق ہیں، اور ان کے مطابق افغانستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کی تمام ذمہ داری دیگر ممالک پر عائد ہوتی ہے۔
آگے کا منظر
استنبول مذاکرات کے ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے افغان حکومت کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے، بصورت دیگر پاکستان اپنے دفاعی اقدامات میں مزید شدت لا سکتا ہے۔ تاہم، اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں ممالک اس ڈیڈلاک کو کیسے ختم کریں گے اور آیا مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکے گا یا نہیں۔
مجموعی طور پر، استنبول میں ہونے والے مذاکرات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پیچیدگیاں برقرار ہیں اور ان میں کوئی فوری حل نظر نہیں آ رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تعلقات کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اپنے اپنے مفادات کو کس طرح متوازن کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں پر عمل کرتے ہیں۔