کھیل

اعظم خان کا انکشاف: “وسیم اکرم نے ٹریننگ کے دوران میرا ہاتھ توڑ دیا تھا!”

“وسیم انکل کراچی میں نوجوان بولرز کو ٹریننگ دے رہے تھے۔ شام کے وقت وہ بیٹسمینوں اور وکٹ کیپرز کو بھی بلاتے تھے تاکہ فاسٹ بولرز کے خلاف پریکٹس ہو سکے۔ میں بھی وہاں بیٹنگ کرنے گیا تھا۔”

مخدوم حسین-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستانی کرکٹر اعظم خان نے ایک دلچسپ مگر تکلیف دہ واقعہ بیان کر کے شائقینِ کرکٹ کو حیران کر دیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اعظم خان نے انکشاف کیا کہ ماضی کے عظیم فاسٹ بولر اور سابق کپتان وسیم اکرم کے ایک ٹریننگ سیشن کے دوران ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا — مگر یہ حادثہ اتنا غیر متوقع اور دلچسپ تھا کہ وسیم اکرم اور معین خان دونوں اس پر ہنسی نہیں روک پائے۔


واقعہ کیسے پیش آیا؟

اعظم خان نے یادوں کے اس سفر کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ان دنوں کا ہے جب وہ محض 15 سال کے تھے اور کراچی میں وسیم اکرم نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے ایک خصوصی ٹریننگ کیمپ چلا رہے تھے۔

“وسیم انکل کراچی میں نوجوان بولرز کو ٹریننگ دے رہے تھے۔ شام کے وقت وہ بیٹسمینوں اور وکٹ کیپرز کو بھی بلاتے تھے تاکہ فاسٹ بولرز کے خلاف پریکٹس ہو سکے۔ میں بھی وہاں بیٹنگ کرنے گیا تھا۔”

اعظم خان کے مطابق، ابتدائی طور پر وہ اچھی بیٹنگ کر رہے تھے جس پر وسیم اکرم نے مسکراتے ہوئے کہا:

“پندرہ سال کا لڑکا سب کو مار رہا ہے؟ اچھا، اب گیند مجھے دو!”

اسی لمحے، وسیم اکرم نے خود بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا — اور یہیں سے مزاح اور تکلیف کی ملاوٹ شروع ہوئی۔


“انہوں نے کہا آؤٹ سوئنگ ہوگی، مگر گیند میرے بازو پر لگی”

اعظم نے بتایا کہ وسیم اکرم نے انہیں کہا کہ وہ "آؤٹ سوئنگ” کروائیں گے، مگر جب گیند ڈلیور ہوئی تو وہ سیدھی آ کر ان کے دائیں بازو پر جا لگی۔

“گیند بازو پر اتنی زور سے لگی کہ میں سمجھا معمولی چوٹ ہے، مگر جب رکشے میں گھر جا رہا تھا اور پیسے نکالنے لگا تو ہاتھ سیدھا ہی نہیں ہو رہا تھا۔ تب اندازہ ہوا کہ معاملہ سنگین ہے۔”


“میں نے ابو کو فون کیا — میرا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے!”

اعظم خان نے مزید بتایا کہ درد بڑھنے پر انہوں نے فوری طور پر اپنے والد، سابق وکٹ کیپر معین خان کو فون کیا اور صورتحال بتائی۔

“میں نے ابو کو کہا کہ جلدی آ جائیں، میرا ہاتھ نہیں ہل رہا۔ جب وہ پہنچے تو سیدھا اسپتال جانے کے بجائے بولے: پہلے کھانا کھاتے ہیں!”


“پہلے سینڈوچ کھا لیتے ہیں، پھر اسپتال چلتے ہیں”

اعظم خان کے مطابق، معین خان نے بیٹے کی تکلیف کے باوجود مزاحیہ انداز اپنایا اور انہیں ایک ریسٹورنٹ لے گئے۔

“میں نے کہا ابو، ہاتھ ٹوٹ گیا ہے! وہ بولے، کوئی بات نہیں، پہلے سینڈوچ کھا لیتے ہیں، پھر اسپتال چلتے ہیں۔”

یہ سن کر انٹرویو میں شریک تمام لوگ ہنس پڑے، اور اعظم نے کہا کہ “آج سوچتا ہوں، اُس وقت درد سے رو رہا تھا مگر اب وہ لمحہ یاد کر کے مسکراہٹ آتی ہے۔”


وسیم اکرم کا ردِعمل: “میں نے تو آرام سے بال کرائی تھی”

واقعے کے بعد جب معین خان نے وسیم اکرم سے بات کی تو ان کا ردِعمل حسبِ توقع ہنسی سے بھرپور تھا۔

“ابو نے وسیم انکل سے کہا کہ آپ نے میرے بیٹے کا ہاتھ توڑ دیا۔ وہ ہنسنے لگے اور بولے، نہیں یار، میں نے تو آرام سے بال کرائی تھی!”

یہ مکالمہ کرکٹ کی دنیا میں سینئر اور جونیئر کرکٹرز کے دوستانہ تعلقات کی ایک مثال بن گیا ہے۔


“یہ حادثہ نہیں، ایک سبق تھا”

اعظم خان نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ دن ان کے لیے جسمانی طور پر مشکل تھا، مگر وسیم اکرم کے ساتھ وہ سیشن ان کی کرکٹ زندگی میں نیا موڑ ثابت ہوا۔

“میں نے اس دن سیکھا کہ بڑے بولرز کے سامنے کھیلنے کے لیے صرف ہمت نہیں بلکہ تیاری بھی ہونی چاہیے۔ وسیم انکل نے کبھی برا نہیں چاہا، بلکہ اُن کی ایک گیند نے مجھے یہ سکھایا کہ کرکٹ میں جسمانی درد بھی تربیت کا حصہ ہے۔”


کرکٹ فینز کا ردِعمل

سوشل میڈیا پر یہ واقعہ وائرل ہونے کے بعد فینز نے مختلف ردِعمل دیے۔
کچھ مداحوں نے مزاحیہ تبصرے کیے کہ “وسیم اکرم کی آؤٹ سوئنگ آج بھی ہاتھ توڑ دیتی ہے!”
جبکہ کچھ نے اعظم خان کی مثبت سوچ اور مزاحیہ اندازِ بیان کو سراہا۔

ایک صارف نے لکھا:

“یہی اصل کرکٹ اسپِرٹ ہے — چوٹ میں بھی مزاح، حادثے میں بھی سبق!”


وسیم اکرم اور اعظم خان — دو نسلوں کا دلچسپ رشتہ

وسیم اکرم پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے لیجنڈز میں سے ہیں، اور معین خان ان کے ہم عصر وکٹ کیپر۔ اب اُن کے بیٹے اعظم خان بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک "چوٹ” نہیں بلکہ پاکستانی کرکٹ کی خاندانی وراثت کی خوبصورت جھلک بھی ہے، جہاں سینئرز اور جونیئرز کے درمیان احترام، تربیت اور ہنسی مذاق ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔


نتیجہ

اعظم خان کی کہانی ایک یاد دہانی ہے کہ کرکٹ صرف کامیابیوں کا کھیل نہیں، بلکہ ایسے لمحوں کا مجموعہ ہے جو درد میں بھی خوشی، اور غلطی میں بھی سبق چھوڑ جاتے ہیں۔
وسیم اکرم کی ایک "آؤٹ سوئنگ” نے اگرچہ اعظم کا ہاتھ توڑا، مگر شاید اسی نے ان کے حوصلے کو مضبوط کر دیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button