انٹرٹینمینٹ

انزیلہ عباسی کا انکشاف: “22 سال کی عمر میں خودمختار زندگی کا فیصلہ کیا، ماں نے میرا ساتھ دیا”

امی اکثر میرے گھر آتیں، کھانا بناتیں، ہم باتیں کرتے اور ساتھ وقت گزارتے

ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستانی اداکارہ، ماڈل اور گلوکارہ انزیلہ عباسی نے حال ہی میں اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ سفر کے حوالے سے ایک کھرا اور متاثرکن انٹرویو دیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے محض 22 سال کی عمر میں خودمختار زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا — اور اس مشکل مگر بہادرانہ فیصلے میں ان کی والدہ جویریہ عباسی نے ان کا غیر معمولی ساتھ دیا۔


"میں نے خود پر اعتماد کرنا سیکھا — ماں نے مجھے مضبوط بنایا”

ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں انزیلہ عباسی نے کھل کر اپنی زندگی کے اہم فیصلے، چیلنجز اور خاندانی تعلقات پر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ جوانی کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے اپنا الگ گھر لے کر اکیلے رہنے کا فیصلہ کیا، جو اس عمر میں ایک غیر روایتی قدم تھا۔

“جب میں نے خودمختار ہونے کا فیصلہ کیا تو سب کو لگا کہ یہ وقتی جذبہ ہے، مگر میں نے دل سے چاہا کہ خود پر بھروسہ کرنا سیکھوں۔ ابتدا میں بہت مشکل وقت تھا، مگر امی نے کبھی مجھے اکیلا محسوس نہیں ہونے دیا۔”

انزیلہ نے مزید کہا کہ ماں کے ساتھ ان کا تعلق وقت کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط ہوا۔

“امی اکثر میرے گھر آتیں، کھانا بناتیں، ہم باتیں کرتے اور ساتھ وقت گزارتے۔ وقت کے ساتھ ان کا اعتماد مجھ پر بڑھتا گیا۔ ایک دن انہوں نے خود کہا کہ اب تم زندگی میں سیٹ ہو چکی ہو، واپس گھر آ جاؤ — اور میں واپس ان کے ساتھ چلی گئی۔”


جویریہ عباسی — ماں اور باپ دونوں کا کردار

انزیلہ عباسی نے اپنی والدہ جویریہ عباسی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے طلاق کے بعد انہیں تنہا پالا اور ہر مشکل گھڑی میں ڈھال بنیں۔

“امی بہت کم عمر تھیں جب میں پیدا ہوئی۔ انہوں نے زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں، مگر مجھے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہمارے گھر میں باپ کا سایہ نہیں۔ وہ میری ماں بھی ہیں اور باپ بھی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ماں نے ہمیشہ انہیں خود مختار، پراعتماد اور محنتی بننے کی تربیت دی۔

“میں نے ان سے سیکھا کہ عورت کے لیے خود پر یقین سب سے بڑا ہتھیار ہے۔”


“والد بہترین اداکار ہیں، مگر رول ماڈل نہیں”

انزیلہ نے اپنے والد شمعون عباسی کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی۔ ان کے مطابق، وہ اپنے والد کو بطور فنکار بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، لیکن بطور رول ماڈل نہیں۔

“میرے والد بہت اچھے اداکار ہیں، ان کے کام کی میں ہمیشہ قدردان رہی ہوں۔ مگر میں نے ان سے صرف ایک چیز سیکھی — اپنے فن پر پوری محنت کرو۔ میرے لیے رول ماڈل وہی ہیں جو زندگی میں خود کے لیے اور دوسروں کے لیے سہارا بنیں، جیسے میری ماں۔”


“ڈرامہ انڈسٹری کو بدلنے کی ضرورت ہے”

گفتگو کے دوران انزیلہ نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے مواد پر بھی کھل کر تنقید کی۔ ان کے مطابق، ہماری ٹی وی اسکرینز پر ساس بہو اور رشتوں کے جھگڑوں کی کہانیاں بار بار دکھائے جانے سے ناظرین کا ذہنی فریم محدود ہو گیا ہے۔

“ہمیں ڈراموں میں بار بار ایک ہی طرح کی کہانیاں ملتی ہیں — ساس بہو کی لڑائیاں، مرد کی بے وفائی، عورت کا ظلم سہنا۔ یہ سب ہمارے معاشرے کی اصل نمائندگی نہیں کرتے۔ ہمیں ایسے موضوعات پر ڈرامے بنانے چاہییں جو شعور پیدا کریں، مثبت سوچ کو فروغ دیں اور نئی نسل کو مضبوط بنائیں۔”

انزیلہ کا کہنا تھا کہ کہانی کاروں اور پروڈیوسرز کو چاہیے کہ وہ سماجی، نفسیاتی اور خواتین کے بااختیار ہونے جیسے موضوعات پر توجہ دیں تاکہ پاکستانی ڈرامہ عالمی معیار کے مطابق ترقی کرے۔


“میں ایک فنکارہ ہوں — اداکارہ، ماڈل اور گلوکارہ”

انزیلہ عباسی نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رکھنا چاہتیں۔

“میں ایکٹر بھی ہوں، ماڈل بھی اور گلوکارہ بھی۔ مجھے تخلیقی کام پسند ہے۔ ہر فیلڈ میں کچھ نیا آزمانا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا کام میرے جذبے کو ظاہر کرے، نہ کہ صرف کسی ایک شناخت تک محدود رہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں گلوکاری اور ڈائریکشن کے میدان میں بھی قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔


انزیلہ عباسی — فنی سفر کی جھلک

انزیلہ عباسی نے ڈراموں “لال عشق”, “گلہ” اور “حقیقت” میں اپنی بہترین کارکردگی سے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔
ان کے قدرتی اندازِ اداکاری اور مضبوط مکالمہ ڈلیوری نے انہیں نئی نسل کی باصلاحیت اداکاراؤں میں نمایاں کر دیا ہے۔

اگست 2023 میں انزیلہ نے تشفيٰ انصاری کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو کر اپنی زندگی کا نیا باب شروع کیا۔ ان کی شادی کی تقریب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور مداحوں نے انہیں خوشیوں بھری زندگی کی دعائیں دیں۔


شائقین کا ردِعمل

انزیلہ کے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں نے ان کی خودمختاری، ہمت اور خلوص کو سراہا۔
کئی صارفین نے لکھا کہ وہ “نئی نسل کی عورت کی علامت ہیں جو اپنی راہ خود چنتی ہے اور اپنی منزل خود بناتی ہے۔”

ایک صارف نے لکھا:

“انزیلہ عباسی آج کی وہ لڑکی ہے جو خواب دیکھتی ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیے کھڑی بھی ہوتی ہے۔ ان کی کہانی ہر بیٹی کے لیے ایک سبق ہے۔”


اختتامی پیغام

انزیلہ عباسی کی کہانی صرف ایک شوبز ستارے کی نہیں، بلکہ ایک خوددار اور مضبوط عورت کی ہے جس نے کم عمری میں خود مختاری کا فیصلہ کیا، اپنے خوابوں کے لیے راستہ بنایا، اور اپنی ماں کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔

ان کا پیغام آج کی نسل کے لیے واضح ہے:

“زندگی کسی کے سہارے کی منتظر نہیں — اگر آپ خود پر یقین کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں روک سکتی۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button