
غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود حملے جاری؛ پاکستان کو مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ — شجاع الدین شیخ
جنگ بندی کے باوجود غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں تشویشناک ہیں، جن کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان وائس آف جرمنی اردو نیوز،رضاء الحق کے ساتھ
غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود علاقے میں تشدد کا سلسلہ رک نہ سکا ہے، جس پر پاکستان سمیت مسلم دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تنظیمِ اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی عالمی قوانین اور سفارتی اقدار کے منافی ہے، جس پر بین الاقوامی برادری خصوصاً مسلم ممالک کو مؤثر ردِعمل دینا چاہیے۔
شجاع الدین شیخ کا کہنا تھا کہ تنظیمِ اسلامی نے ہمیشہ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کی نگرانی اور تحفظ ضروری ہے تاکہ خلاف ورزی کی صورت میں فوری جواب دیا جا سکے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں تشویشناک ہیں، جن کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
مسلم ممالک کی ذمہ داری پر زور
تنظیم اسلامی کے سربراہ نے ترکیہ، مصر اور قطر جیسے ممالک — جو جنگ بندی معاہدے کے ضامن ہیں — سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں پر عالمی فورمز پر آواز بلند کریں اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ "اگر امن معاہدوں کو سنجیدگی سے لینا ہے تو ذمہ دار ریاستوں کو وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔”
پاکستانی حکام پر تنقید
اپنے بیان میں شجاع الدین شیخ نے پاکستان کی سیاسی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کچھ مقتدر طبقات نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف میں غیرضروری مبالغہ آرائی کی، حالانکہ امریکی پالیسیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستانی ٹی وی چینلز نے ٹرمپ کا وہ خطاب براہِ راست نشر کیا جس میں انہوں نے غزہ پر طویل بمباری کے دوران اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی کا ذکر کیا تھا۔ شجاع الدین شیخ کے مطابق ایسے واقعات پاکستان کی سفارتی آزادی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر اعتراض
شجاع الدین شیخ نے کہا کہ غزہ کی تباہی، عام شہریوں کی ہلاکتوں اور جاری انسانی بحران کے پس منظر میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کا عالمی سطح پر جائزہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کا احترام نہ کرنا نہ صرف امن عمل کو متاثر کرتا ہے بلکہ خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
امتِ مسلمہ کے اتحاد کی اپیل
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اگر فلسطینیوں کے حقوق کا حقیقی دفاع کرنا ہے تو مسلم دنیا کو سفارتی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ "کسی بھی قوم یا ملک کی اندھی تقلید کے بجائے امت کو متحد ہو کر ظلم کے خلاف عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔”



