
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،آئی ایس پی آر کے ساتھ
آٹھویں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ (MARSEW-8) کے شرکاء نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان کی میری ٹائم سیکیورٹی کی اہمیت، عالمی سمندری چیلنجز، اور بحر ہند کی جغرافیائی سیاسی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف، NI, NI (M) نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کیا اور پاکستان کی بلیو اکانومی کی بے پناہ صلاحیتوں، پاکستان کے سمندری مفادات کے تحفظ اور علاقائی امن کے لیے پاک بحریہ کی کوششوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔
نیول چیف کا خطاب:
ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے میری ٹائم چیلنجز اور میری ٹائم ڈومین میں پائے جانے والے نئے مواقع پر نظر ڈالنا ضروری ہے، تاکہ پاکستان اپنے سمندری مفادات کو محفوظ بنا سکے اور اپنی بلیو اکانومی کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکے۔ انہوں نے میری ٹائم سیکیورٹی کے لیے پاکستان کے عزم اور پاک بحریہ کے کردار کو اجاگر کیا، اور خاص طور پر پاک بحریہ کی ناقابل تسخیر ڈیٹرنس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جو پاکستان کی علاقائی سیکیورٹی اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت کا ایک مظہر ہے۔
ایڈمرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی میری ٹائم فورسز عالمی سطح پر سیکیورٹی کو برقرار رکھنے میں فعال طور پر شریک ہیں، خاص طور پر کمبائنڈ میری ٹائم فورسز اور ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کے ذریعے، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک اہم اقدام ہیں۔
ورکشاپ کا مقصد اور اہمیت:
یہ گیارہ روزہ ورکشاپ سمندری سلامتی اور بحر ہند کی جغرافیائی سیاسی اہمیت کے بارے میں تفہیم کو بڑھانے کے لیے منعقد کی گئی، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس بات کا شعور دیا گیا کہ پاکستان کے سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر کتنا اہم ہے کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔ ورکشاپ کا مقصد پاکستان کے اہم قومی سمندری چیلنجز اور اس سے جڑے مواقع پر غور و فکر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
ایڈمرل نوید اشرف نے بتایا کہ پاک بحریہ جدید ترین ٹیکنالوجیز اور وسائل کی مدد سے سمندری خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے، اور بحر ہند میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی ترقی اور وہاں کی برادریوں کو مستحکم کرنے کے لیے بھی پاک بحریہ کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ورکشاپ کے شرکاء کی جانب سے اظہار خیال:
اس ورکشاپ میں اراکین پارلیمنٹ، سیاستدانوں، بیوروکریٹس، مسلح افواج کے اعلیٰ افسران، میڈیا کے نمائندوں، کاروباری شخصیات، کاروباری رہنماؤں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے شرکاء نے پاکستان کے سمندری مفادات کے تحفظ اور میری ٹائم سیکیورٹی کے حوالے سے پاک بحریہ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے MARSEW کے کردار کو پاکستان میں میری ٹائم پالیسی سازی میں اہمیت دی اور اس کی کارکردگی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو اپنی بلیو اکانومی کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کے سمندری وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کیسے پاکستان کی ساحلی برادری کی ترقی اور ان کے مسائل کا حل میری ٹائم سیکیورٹی سے جڑا ہوا ہے، اور کس طرح پاک بحریہ ان برادریوں کے لیے ایک طاقتور فورس بن کر سامنے آ رہی ہے۔
پاکستان کی بلیو اکانومی کی اہمیت:
ورکشاپ کے دوران ایڈمرل نوید اشرف نے خاص طور پر پاکستان کی بلیو اکانومی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحر ہند میں موجود پاکستان کے سمندری علاقے دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہیں، اور پاکستان کو ان علاقوں کی بہتر حفاظت اور ترقی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ بلیو اکانومی کے تحت پاکستان اپنے سمندری وسائل جیسے ماہی گیری، بندرگاہوں کی تجارت، اور سمندری توانائی کے ذرائع سے اپنی معیشت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کریں، تاکہ پاکستان نہ صرف اپنے ساحلی علاقوں کی ترقی کر سکے بلکہ بحر ہند میں اپنے کردار کو بھی مستحکم کر سکے۔
فنی اور سیکیورٹی سے متعلق چیلنجز:
ورکشاپ کے شرکاء کو عصری میری ٹائم خطرات، میری ٹائم ڈومین آگاہی اور ساحلی برادری کی ترقی کے لیے پاک بحریہ کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے میری ٹائم خطرات جیسے بحری قزاقی، غیر قانونی ماہی گیری، اور سمندری آلودگی کے مسائل پر کس طرح قابو پایا جا رہا ہے۔ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی بحری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور مختلف عالمی فورسز کے ساتھ مل کر میری ٹائم سیکیورٹی کو بہتر بنایا ہے۔
آگے کا لائحہ عمل:
ایڈمرل نوید اشرف نے ورکشاپ کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کو اپنی میری ٹائم سیکیورٹی کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کی مستقبل کی حکمتِ عملی میں سمندری خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کیا جائے گا، اور ساحلی برادری کی ترقی کو مزید ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو میری ٹائم سیکیورٹی کی اہمیت اور بحر ہند کے جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے آگاہ کرنا تھا، اور یہ کہ پاکستان کو اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانا چاہیے۔
اختتامیہ:
آٹھویں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ (MARSEW-8) نے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا جس پر پاکستان اور عالمی برادری کے درمیان میری ٹائم سیکیورٹی اور ترقیاتی اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میری ٹائم سیکیورٹی پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک اہم ستون ہے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے پاک بحریہ کی کوششوں کو سراہا۔ اس کے ذریعے سمندری خطرات سے نمٹنے اور پاکستان کی بلیو اکانومی کے ترقی کے لیے حکمتِ عملی تیار کی گئی، جو ملکی ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔



