اہم خبریںپاکستان

پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعیناتی اور اہم فوجی تقررات

"صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرر کی سمری کو منظور کر لیا ہے۔"

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کرنے کی سمری منظور کر لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد، فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے آرمی چیف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دیں گے، اور ان کی تقرری 2030 تک جاری رہے گی۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق، "صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرر کی سمری کو منظور کر لیا ہے۔” وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کو پاکستان کی دفاعی پالیسی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مبارک باد دی ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعیناتی:

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو ایک جدید جنگی تناظر میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے تقرر سے پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کو ایک نئی سمت ملے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر دفاعی ضروریات اور تکنیکی چیلنجز میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعیناتی:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعیناتی:

وزیرِ اعظم کا بیان:

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ "چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی عصری اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، اور اس سے پاکستان کا دفاع مزید بہتر ہو گا۔” وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ "فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہماری بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک شکست دی، اور معرکۂ حق میں شاندار کامیابی سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔”

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں توسیع:

اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع کی منظوری بھی دی، جس کے بعد ایئر چیف مارشل کی نئی مدت 19 مارچ 2026 تک ہو گی۔ اس فیصلے کا مقصد پاکستان فضائیہ کی قیادت میں تسلسل برقرار رکھنا اور جدید فضائی جنگی تقاضوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

وزیرِ اعظم نے ایئر چیف مارشل سدھو کو بھی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ "ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستانی فضائیہ نے معرکۂ حق میں شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے جنگی جہاز تباہ کیے اور اپنی دھاک بٹھائی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کے دفاع، ترقی اور خوشحالی کے لیے ملک کے تمام ادارے مل کر کام کریں گے۔”

چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفیکیشن کی قانونی وضاحت:

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس تقرری کے نوٹیفیکیشن کے حوالے سے قانونی وضاحت دی اور کہا کہ اس میں کوئی پیچیدگی یا ابہام نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "آرٹیکل 243 پر کوئی ابہام نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان نیول ایکٹ اور پاکستان ایئرفورس ایکٹ میں ترامیم پر کوئی ابہام ہے۔” ان کے مطابق 2024 میں کی گئی ترامیم کے بعد، ایئر چیف مارشل، نیول چیف اور آرمی چیف کے عہدوں کی مدت پانچ برس کر دی گئی تھی تاکہ یہ دیگر اعلیٰ ترین عہدوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔

پاکستان کے دفاعی شعبے میں اہم تبدیلی:

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا چیف آف ڈیفنس فورسز کی حیثیت سے تقرر ایک بڑی تبدیلی ہے جو پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ وزیرِ قانون نے کہا کہ "چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت کے ذریعے کی جائے گی، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اس میں کوئی قانونی پیچیدگی نہیں ہے۔”

صدر اور وزیرِ اعظم کی مبارک باد:

صدر آصف علی زرداری نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل سدھو کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی تعیناتی کو ایک اہم قدم قرار دیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایئر چیف مارشل سدھو کو بھی مدتِ ملازمت میں توسیع پر مبارک باد دی اور کہا کہ "ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستانی فضائیہ نے دشمن کے جنگی جہاز تباہ کرکے اپنی برتری کو ثابت کیا۔”

آئندہ کا لائحہ عمل:

پاکستان کے نئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تقرر دفاعی شعبے میں مزید پیش رفت اور جدید جنگی حکمت عملیوں کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے عہدے کا پانچ سالہ دور ملک کی دفاعی ضروریات اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں فضائیہ کا اہم کردار بھی پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی میں اہمیت رکھتا ہے، اور ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ پاکستان کا دفاعی اتحاد مزید مضبوط ہو گا۔

نتیجہ:

یہ فیصلے پاکستان کے دفاعی اداروں میں اہم تبدیلیاں لانے کی طرف ایک اور قدم ہیں اور ان کا مقصد ملک کی افواج کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان کا دفاع مزید مستحکم ہو گا اور عالمی سطح پر ملک کی طاقتور افواج کا تاثر مزید پختہ ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button