
محکمہ لٹریسی و نان فارمل ایجوکیشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ: 2025 میں تعلیمی انقلاب
محکمہ نے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 1750 نئے تعلیمی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا، جس میں 490 مڈل ٹیک سکول اور 1260 اڈلٹ لٹریسی سنٹرز شامل ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
محکمہ لٹریسی و نان فارمل ایجوکیشن نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2025 جاری کر دی ہے، جس میں تعلیمی شعبے میں اہم پیشرفت اور کامیاب منصوبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، محکمہ نے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 1750 نئے تعلیمی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا، جس میں 490 مڈل ٹیک سکول اور 1260 اڈلٹ لٹریسی سنٹرز شامل ہیں۔ ان اقدامات سے تعلیمی معیار میں بہتری کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر خواندگی کی شرح میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔
نئے داخلوں میں ریکارڈ اضافہ
سیکرٹری لٹریسی سید حیدر اقبال نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 2025 میں اڈلٹ لٹریسی سنٹرز میں 91,974 نئے طلباء کا داخلہ ہوا۔ اسی طرح، پرائمری نان فارمل سکولوں میں 66,580 اور مڈل نان فارمل سکولوں میں 9,570 نئے داخلے ہوئے۔ اڈلٹ لٹریسی سنٹرز میں 15,824 نئے داخلے کیے گئے، جس سے تعلیمی اداروں میں مجموعی طلباء کی تعداد 6 لاکھ 87 ہزار 544 تک پہنچ گئی۔
نان فارمل ایجوکیشن اور فنی تربیت پر زور
سیکرٹری لٹریسی نے مزید کہا کہ نان فارمل تعلیمی اداروں میں صرف تعلیم نہیں دی جا رہی بلکہ سکلز پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان اداروں کے ذریعے فنی تربیت فراہم کرنے کی غرض سے مختلف پروگرامز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ طلباء کو معاشی سرگرمیوں میں فعال حصہ لینے کے لیے تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نان فارمل تعلیمی ادارے ناخواندگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فارمل اور نان فارمل تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں تعلیم کا دائرہ وسیع کیا جا سکے اور ہر طبقے کے افراد کو تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
تعلیمی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے 2025 کے لئے تعلیمی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے غیر ترقیاتی بجٹ کا 24 فیصد حصہ تعلیم کے لئے مختص کیا گیا ہے، جس میں اربوں روپے کی سکالرشپ فراہم کی گئیں اور 40 ہزار سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پہلی مرتبہ تاریخ میں 148 ارب روپے کا بجٹ تعلیم کے لیے مختص کیا گیا، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 135 فیصد زیادہ ہے۔
تعلیمی اصلاحات اور انفراسٹرکچر کی بہتری
رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ 2025 میں سرکاری سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے 40 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ سکولوں میں صاف پانی، بجلی، کلاس رومز، واش رومز اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھرپور توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں میں جدید سٹیم (STEM) لیبز قائم کی جا رہی ہیں تاکہ طلباء کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
گوگل سرٹیفیکیشن پروگرام
وزیر تعلیم نے یہ بھی بتایا کہ 2025 میں 2 لاکھ اساتذہ اور طلباء کو گوگل سرٹیفیکیشن کے مرحلے سے گزارا گیا، جس سے تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید بڑھایا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد اسکولوں میں ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دینا اور طلباء کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی سے روشناس کروانا ہے۔
انرولمنٹ اور اساتذہ کی کمی کا حل
وزیر تعلیم نے بتایا کہ 2025 میں حکومت نے "گھوسٹ انرولمنٹ” کو ختم کر دیا اور لاکھوں طلباء کو اصل تعلیمی اداروں میں رجسٹرڈ کیا۔ اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے ہزاروں اساتذہ کی ریشنلائزیشن کی گئی، جس سے تدریسی عمل میں بہتری آئی اور ٹیچر شارٹیج پر قابو پایا گیا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ اقدامات تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔
کرکولم اور امتحانات میں اصلاحات
رانا سکندر حیات نے اس بات پر زور دیا کہ 2025 میں کرکولم اور امتحانی نظام میں تاریخی اصلاحات کی گئیں۔ ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن (ECCE) پر بھی توجہ دی گئی اور اسکولوں میں 10 ہزار سے زائد ای سی ای رومز قائم کئے گئے۔ ان اصلاحات کا مقصد چھوٹے بچوں کے لیے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا اور انہیں ابتدائی تعلیم کی بنیاد فراہم کرنا تھا۔
نیوٹریشن پروگرام اور دیگر اقدامات
وزیر تعلیم نے بتایا کہ 2025 میں روزانہ 11 لاکھ طلباء کو نیوٹریشن پروگرام سے مستفید کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کی صحت اور تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، 268 سکولوں کی اپ گریڈیشن بھی کی گئی ہے، جس میں نئی سہولتوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
2026 کی توقعات
وزیر تعلیم نے 2026 کے آغاز پر اپنے محکمے کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال تعلیمی انقلاب کے حوالے سے مزید بہتر نتائج حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی معیار میں مزید بہتری لائی جائے گی اور لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اپنی بیٹے کو بھی ایک سرکاری سکول میں داخل کروا کر ایک نئی روایت قائم کی ہے۔



