
کہاوت ہے،، ا بیل مجھے مار،،
ڈاکٹر زین العابدین نے پریس کانفرنس کے ذریعے غلط الزامات لگائے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اے ایس پی شہر بانو نے رقم زبردستی دلوائی ہے
رپورٹ ۔۔۔انصار زاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
کے مصداق ایک ڈاکٹر کی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کی جانے والی پریس کانفرنس خود ان کیلئے وبال جان بن گئی ابھی سوشل میڈیا پر اس پر بحث چل رہی تھی کہ زیادتی کس کی ہے مریضہ کی یا ڈاکٹر کی یا اے،ایس پی شہر بانو کی اسی دوران ڈاکٹر کے خلاف متعدد مریض میڈیا کے سامنے آگئے جنہوں نے الزام لگایا کہ بے گناہی ثابت کرنے والے ڈاکٹر نے متعدد لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا ہے، ڈاکٹر سے متاثرہ ماں صدف افتخار نے اپنی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے کا اپریشن غلط کر کے بینائی متاثر کر دی اور ایک سال ہو گیا اس کی بینائی ٹھیک نہیں ہو رہی ڈاکٹر سے متعدد رابطہ کرنے کے باوجود جھوٹی تسلیاں دی گئیں اور علاج نہیں کیا گیا اب بھی ایک سال گزرنے کے باوجود میرے بیٹے کی انکھ ٹھیک نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سے پیسے واپس لینے پر میں لعنت بھیجتی ہوں نہ ہی مجھے پیسوں کی ضرورت ہے میرے بیٹے کی بینائی کے سامنے یہ پیسے کچھ بھی نہیں ہے میں نے یہ اواز اس ظلم کے خلاف اس لیے اٹھائی ہے تاکہ یہ اور لوگوں کی آنکھوں سے کھیل نہ سکے، ایسے ڈاکٹر کی ڈگری منسوخ ہونی چاہیے اور کلینک بند کر کے حوالات میں بند کرنا چاہیے،اگر ہمارے ملک میں قانون ہوتا تو یہ ڈاکٹر جیل میں ہوتا ،اس کے ساتھ دیگر متاثرہ شہریوں آصف اختر ،ملک فیصل زونیرہ نواز اور شعیب نے بھی اسی طرح کی دکھ بھری کہانی سنائی کہ کیسے ہمیں باتوں میں لگا کے ہمارے عزیزوں کا غلط اپریشن کیا اور ان کی بینائی ٹھیک نہیں ہوئی، اس واقعے کی وجہ تنازعہ اور پولیس کو درخواست دینے والی متاثرہ خاتون نگہت بتول نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ڈاکٹر زین العابدین نے پریس کانفرنس کے ذریعے غلط الزامات لگائے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اے ایس پی شہر بانو نے رقم زبردستی دلوائی ہے ہمارے میاں بیوی کے غلط اپریشن کے بعد جب انکھوں کی بینائی ٹھیک نہیں ہو رہی تھی تو ہم نے فورا ان کے کلینک پر رابطہ کیا اور دوسرے ڈاکٹر کی ساتھ رپورٹ لگائی جس کو دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے نا صرف اپنی غلطی تسلیم کی بلکہ اپریشن کے پیسے بذریعہ چیک واپس کر دئیے، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ اپنا علاج پاکستان سے یا پاکستان سے باہر کروائیں اس پر آنے خرچہ میں دوں گا، اس وقت تک پولیس کو وقوعہ کا علم بھی نہیں تھا ،اس معاہدے کے بعد ہم نے بیرون ملک رابطہ کیا اور میاں بیوی نے علاج کروایا علاج پر انے والے اخراجات کے بارے میں جب پیسے مانگے تو وہ انکاری ہو گیا ڈاکٹر نے اپنی غلطی تسلیم کر چکا تھا جس پر ہم نے ہیلتھ کیئر کمشن کو درخواست دینے کی بجائے پولیس کو درخواست دی، وہاں پر ڈاکٹر نے ہمیں اپنی مرضی سے چیک دیے اگر ڈاکٹر بے گناہ تھا تو ہمیں بیرون ملک علاج کا کیوں کہا ؟ ،یہ کہانی چھ سات ماہ سے چل رہی تھی اور صرف میاں بیوی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کر رہے تھے ڈاکٹر کی پریس کانفرنس کے بعد متعدد مریض سامنے اگئے اور کاروائی کرنے کیلئے تیار ہیں اسے کہتے ہیں کہ،، ا بیل مجھے مار،، متاثرہ خاتون نگہت بتول نے کہا کہ ایسے ڈاکٹر کی ڈگری منسوخ ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کی زندگی سے نہ کھیل سکے ڈاکٹر زین العابدین سے رابطہ کرنے پر ان کی اسسٹنٹ نے بتایا کہ وہ مصروف ہیں اور وہ اپنا موقف نہیں دینا چاہتے


