
نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر، ظہران ممدانی نے حلف اٹھا لیا
حلف برداری کی تقریب کے بعد بطور میئر ممدانی نے اپنی پہلی تقریر میں کہا، "یہ واقعی زندگی بھر کے اعزاز اور وقار" کی بات ہے
ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممدانی حلف اٹھانے کے ساتھ ہی امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلمان میئر بن گئے۔ ممدانی کی ایک سیاسی اتحادی اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے حلف برداری کی یہ تقریب انجام دی۔
حلف برداری کی تقریب شہر کے پرانے سٹی ہال اسٹیشن پر منعقد کی گئی، جو نیویارک کے پرانے اور اوریجینل سب وے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے اور اپنی شاندار محراب والی چھتوں کے لیے معروف ہے۔
ظہران ممدانی نے اس موقع پر کیا کہا؟
حلف برداری کی تقریب کے بعد بطور میئر ممدانی نے اپنی پہلی تقریر میں کہا، "یہ واقعی زندگی بھر کے اعزاز اور وقار” کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانا سب وے اسٹیشن "ہمارے شہر کی زندگی، صحت اور میراث کے لیے عوامی آمد و رفت کی اہمیت کا ثبوت” ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے نئے محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے کمشنر کے لیے مائیک فلین کی تقرری کا اعلان کیا۔

پھر نیویارک کے نئے میئر نے اپنا مختصر سا خطاب ختم کرتے ہوئے کہا، "آپ سب کا بہت بہت شکریہ، اب میں آپ کو بعد میں ملوں گا۔” اس کے ساتھ ہی وہ سب وے کی سیڑھیوں کی طرف مسکراتے ہوئے چل پڑے۔
دوبارہ حلف برداری کی تقریب
جمعرات کے روز ہی دوپہر کے وقت ایک بجے سٹی ہال میں ایک عوامی تقریب میں ممدانیبہت ہی شاندار روایتی انداز میں دوبارہ حلف اُٹھائیں گے اور یہ حلف انہیں ان کے سیاسی ہیروز میں سے ایک امریکی سینیٹر برنی سینڈرز لیں گے۔
اس کے بعد نئی انتظامیہ "ہیروز کی وادی” کے نام سے معروف براڈوے پر ایک عوامی بلاک پارٹی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
امریکی سیاست میں جن رہنماؤں سے سب سے زیادہ توقع کی جا رہی ہے، ممدانی ان میں سے ایک ہیں، جن پر اب بڑی ذمہ داریاں عائد ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
شہر کے پہلے مسلمان میئر ہونے کے ساتھ ہی ممدانی جنوبی ایشیائی نسل کے پہلے اور افریقہ میں پیدا ہونے والے بھی پہلے میئر ہیں۔ 34 سال کی عمر میں، ممدانی اب تک کے شہر کے سب سے کم عمر میئر بھی ہیں۔
بڑے چیلنجز کا سامنا
نیو یارک شہر میں کوڑے دان، برفباری کے بعد برف کے ڈھیر اور بڑھتی چوہوں کی تعداد کو سنبھالنا، سب وے ٹرین کی آمد و رفت میں تاخیر جیسی بہت سی ذمہ داریوں کا انہیں فوری سامنا ہے۔

ممدانی کون ہیں؟
ممدانی یوگنڈا کے کمپالا میں پیدا ہوئے تھے، ان کی ماں معروف فلمساز میرا نائر اور والد محمود ممدانی، جو ماہر تعلیم اور مصنف ہیں، کا تعلق بھارت سے ہے۔
جب ممدانی کی عمر سات برس کی تھی تب ان کا خاندان کمپالا سے نیویارک شہر ہجرت کر کے آیا تھا۔ ممدانی 9/11 کے بعد کے شہر میں پلے بڑھے ہیں، جہاں عموماً مسلمان کو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ وہ 2018 میں امریکہ کے شہری بنے تھے۔
ممدانی نے ایلیٹ برونکس ہائی اسکول آف سائنس اور اس کے بعد مائن میں بوڈوئن کالج میں تعلیم حاصل کی، جسے ترقی پسند سوچ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے 2015 میں ریپ موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا، لیکن ان کی پیشہ ورانہ موسیقی کی مسابقتی دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش دیر تک نہیں رہی۔ اداکار سے سیاست دان بننے والے ممدانی خود کو دوسرے درجے کا فنکار قرار دیتے ہیں۔
سیاست میں آنے کے بعد انہوں نے شہر میں ڈیموکریٹک امیدواروں کے لیے سیاسی مہم میں کام کیا اور پھر وہ خود ہی اس میں کود پڑے۔ سن 2020 میں کوئنز کے حلقے سے انہیں ریاستی اسمبلی کے لیے پہلی بار منتخب کیا گیا تھا۔
ممدانی اور ان کی اہلیہ، راما دواجی، مینہٹن میں میئر کی شاندار رہائش گاہ میں رہنے کے لیے جلد ہی اپنا کرائے کا مکان چھوڑ دیں گے۔


