
سٹنگ انرجی ڈرنک کی نقل ثابت، میزان بیوریجز پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد
کمیشن کے مطابق میزان بیوریجز نے سٹنگ کی شہرت اور مارکیٹ ویلیو سے فائدہ اُٹھانے کے لیے جان بوجھ کر یہ حکمتِ عملی اپنائی
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پیپسی کولا انٹرنیشنل کے معروف انرجی ڈرنک برانڈ ’سٹنگ‘ کی نقل ثابت ہونے پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملتان کی مقامی بیوریجز کمپنی میزان بیوریجز پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق میزان بیوریجز نے اپنے انرجی ڈرنک ’سٹورم‘ کے ذریعے صارفین کو گمراہ کیا اور عالمی شہرت یافتہ برانڈ سٹنگ کی ساکھ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔
جمعے کے روز جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں کمپیٹیشن کمیشن نے کہا ہے کہ میزان بیوریجز نے اپنے مشروب کی پیکجنگ، رنگ، بوتل، تحریر اور مجموعی ڈیزائن میں پیپسی کے معروف برانڈ سٹنگ سے واضح مشابہت اختیار کی، جس کے باعث صارفین کے لیے اصل اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی گمراہ کن پیکجنگ اور کاپی کیٹ برانڈنگ نہ صرف صارفین کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت کے اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کمیشن کے مطابق میزان بیوریجز نے سٹنگ کی شہرت اور مارکیٹ ویلیو سے فائدہ اُٹھانے کے لیے جان بوجھ کر یہ حکمتِ عملی اپنائی۔
عدالتی کارروائیوں کے ذریعے تاخیر
کمپیٹیشن کمیشن نے فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی کہ میزان بیوریجز نے مختلف عدالتی کارروائیوں کے ذریعے انکوائری کے عمل میں دانستہ تاخیر کی۔ کمیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے میزان بیوریجز کی اپیل کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اسے تاخیری حربہ بھی قرار دیا تھا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹریڈ مارک کی رجسٹریشن کمپیٹیشن قانون سے استثنیٰ فراہم نہیں کرتی اور کسی معروف برانڈ کی نقل کرنا کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اس کے پاس گمراہ کن مارکیٹنگ اور نقل پر مبنی برانڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
کیس کا پس منظر
فیصلے کے مطابق پیپسی کولا کی جانب سے دائر کی گئی شکایت پر سال 2015 میں اس معاملے کی انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی سامنے آنے پر میزان بیوریجز کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
بعد ازاں مختلف عدالتوں میں کیس زیرِ سماعت رہا، تاہم عدالتوں کی جانب سے کمپیٹیشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو برقرار رکھنے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع کی گئی۔
سماعتیں اور حتمی فیصلہ
اس کیس کی یکم جولائی، 14 اکتوبر اور 23 اکتوبر 2025 کو کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان میں مجموعی طور پر تین سماعتیں ہوئیں، جن کے بعد تقریباً دس سال کے طویل عرصے کے بعد اس کا حتمی فیصلہ جاری کیا گیا۔
کمپیٹیشن کمیشن کے ترجمان ساجد گوندل نے اُردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیس سال 2015 میں سامنے آیا تھا اور طویل قانونی کارروائیوں کے باعث اس کے فیصلے میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میزان بیوریجز ماضی میں بھی مشہور برانڈز کی نقالی سے متعلق شکایات کا سامنا کر چکی ہے۔
ترجمان کے مطابق میزان بیوریجز نے اس کیس کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا اور کئی مرتبہ سٹے آرڈرز حاصل کیے، تاہم لاہور ہائی کورٹ کے آخری فیصلے میں کمپیٹیشن کمیشن کو واضح طور پر یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اس کیس کا فیصلہ کرے۔
میزان بیوریجز کا مؤقف
سماعت کے دوران میزان بیوریجز کا مؤقف رہا کہ اس کا ’سٹورم‘ ٹریڈ مارک باقاعدہ طور پر انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) سے رجسٹرڈ ہے اور پیپسی نے بروقت اس ٹریڈ مارک پر اعتراض نہیں کیا، اس لیے شکایت ناقابلِ سماعت ہے۔
کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معاملہ ٹریڈ مارکس آرڈیننس کے تحت آتا ہے اور کمپیٹیشن کمیشن اس کیس کی سماعت کا مجاز نہیں۔ تاہم کمیشن نے ان تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ صارفین کو گمراہ کرنے اور مارکیٹ میں غیر منصفانہ مسابقت پیدا کرنے کا معاملہ براہِ راست کمپیٹیشن قانون کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
مارکیٹ کے لیے واضح پیغام
کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ مارکیٹ میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کسی بھی معروف برانڈ کی نقل، گمراہ کن پیکجنگ اور غیر منصفانہ مارکیٹنگ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے اقدامات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔


