
نوعمری کی شادی اور آبادی میں اضافہ کےاسباب اورا اثرات….. ۔پیر مشتاق رضوی
یہ شادیاں لڑکیوں کی خودمختاری، تعلیم، روزگار، اور صحت پر شدید منفی اثرات ڈالتی ہیں ۔نوعمری میں شادی کے نتیجے میں نو عمر مائیں زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں
پاکستان میں نوعمری میں شادی کا تناسب تقریباً 21 فیصد ہے، یعنی ہر سال 19 لاکھ لڑکیوں کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے۔ یہ تناسب دنیا بھر میں کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں جہاں 40 فیصد لڑکیوں کی شادی نوعمری میں ہو جاتی ہے پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے اسباب میں غربت، تعلیم کی کمی، منفی سماجی اصول، اور عدم تحفظ شامل ہیں۔ یہ شادیاں لڑکیوں کی خودمختاری، تعلیم، روزگار، اور صحت پر شدید منفی اثرات ڈالتی ہیں پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں نوعمری میں شادی کا تناسب تقریباً 24 فیصد ہے، یعنی ہر چار میں سے ایک بچی کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہو جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں یہ تناسب باقی پنجاب کے مقابلے میں زیادہ ہے نوعمری میں شادی سے شرح پیدائش میں تقریباً 20-30 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ اس لیے ہوتا ہے کہ نو عمر مائیں زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں خاندانی منصوبہ بندی کی آگاہی اور خدمات کم ہیں نوعمری میں شادی کے اسباب میں غربت، تعلیم کی کمی، منفی سماجی اصول، اور عدم تحفظ شامل ہیں۔ یہ شادیاں لڑکیوں کی خودمختاری، تعلیم، روزگار، اور صحت پر شدید منفی اثرات ڈالتی ہیں ۔نوعمری میں شادی کے نتیجے میں نو عمر مائیں زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں۔نوعمری میں شادی سے پیدا ہونے والے بچے مختلف مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، نو عمر مائیں صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں، خاص طور پر انیمیا، زچگی کے دوران پیچیدگیاں، اور بچوں کی صحت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں نو عمر مائیں کم وزن والے بچے پیدا کرتی ہیں، جو صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ نو عمر مائیں اپنی تعلیم کو ترک کر دیتی ہیں، جس سے ان کے بچوں کی تعلیم پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ نو عمر مائیں غربت کا شکار ہو سکتی ہیں، جس سے ان کے بچوں کی زندگی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ نو عمر مائیں ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ڈپریشن اور تشویش شکار ہوتی ہیں نو عمر مائیں بچوں خاص طور پر ان کی صحت، تعلیم، اور ذہنی صحت کے حوالے کی پرورش میں مشکلات کا سامنا کر سکتی ہیں، نوعمری میں شادی خواتین کی تعلیم اور روزگار کے مواقع کو محدود کر دیتی ہے۔نو عمر مائیں صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں، خاص طور پر انیمیا، زچگی کے دوران پیچیدگیاں، اور بچوں کی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں
نوعمری میں شادی خواتین کی خود اختیاری اور خود مختاری میں رکاؤٹ ہے کیونکہ نوعمری میں شادی خواتین کی تعلیم کو روک دیتی ہے، جس سے وہ خودمختار بننے کے مواقع سے محروم ہو جاتی ہیں نوعمری میں شادی خواتین کے روزگار کے مواقع کو محدود کر دیتی ہے، جس سے وہ اقتصادی طور پر خودمختار نہیں ہو پاتی ہیں۔نوعمری میں شادی صحت مند تعلقات کو روک دیتی ہے، جس سے خواتین کی خود اختیاری اور خود مختاری میں رکاؤٹ آتی ہے۔ نوعمری میں شادی ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے، جس سے خواتین کی خود اختیاری اور خود مختاری میں رکاؤٹ آتی ہے
پنجاب کے محکمہ بہبود آبادی نے نوعمری میں شادی کے سدباب کے لئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ نے شادی سے پہلے کی مشاورت کی خدمات متعارف کروائی ہیں تاکہ صحت مند تعلقات اور خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دیا جا سکے۔ محکمہ نے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے بارے ایک جامع آگاھی مہم شروع کی ہے۔ محکمہ نے نوعمروں کے لیے خصوصی خدمات اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے Adolescent Sexual Reproductive Health مراکز قائم کیے ہیں۔
محکمہ نے علمائے کرام اور خطیبوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی عام کی جا سکے۔ محکمہ نے ٹی وی ڈراموں، سوشل میڈیا ایپس اور نیوز چینلز پر اشتہارات کے ذریعے آگاہی مہم چلانے کا لائحہ عمل تیار کیا ہےپنجاب کے محکمہ بہبود آبادی کے انفلو انسرز نوعمری میں شادی کے سدباب کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے کام کرنا چاہیے، خاص طور پر نو عمر مائوں اور ان کے بچوں کی صحت کے حوالے سے انفلو انسرز کو یہ کردار ادا کرنے چاہیے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے مہم چلانا۔
شادی سے پہلے کی مشاورت کی خدمات متعارف کروانا تاکہ صحت مند تعلقات اور خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دیا جا سکے۔ نوعمری میں شادی کے سدباب کے لئے والدین اور کمیونٹی کا کردار بہت اہم ہے۔ وہ آگاہی بڑھانے، تعلیم کو فروغ دینے، اور صحت مند تعلقات کو ترغیب دے کر نو عمر مائوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں والدین اور کمیونٹی کو یہ کردار ادا کرنے چاہیے:
خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے مہم چلانا۔ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا تاکہ وہ خودمختار بن سکیں اور صحت مند تعلقات کو ترغیب دیں۔ صحت مند تعلقات کو ترغیب دینا اور نو عمر مائوں کی صحت کا خیال رکھنا۔ پنجاب حکومت نے نوعمری میں شادی کی روک تھام کے لئے چند اقدامات کیے ہیں لاہور ہائی کورٹ نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے مطابق، 1929ء کے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے قانون میں تصحیح کی جائے گی محکمہ بلدیات پنجاب نے نکاح رجسٹراروں کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حکومت پنجاب نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم شروع کی ہے، جس میں سماجی کارکنوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سرکاری اداروں کی مدد لی جا رہی ہے نوعمری میں شادی کی روک تھام سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے کیونکہ
نو عمر مائیں زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں، جس سے آبادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ نوعمری میں شادی کی روک تھام سے زچگی کی شرح میں کمی ہو سکتی ہے۔ نوعمری میں شادی کی روک تھام سے خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ ملتا ہے، جس سے آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ نوعمری میں شادی کی روک تھام سے لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے وہ خودمختار بن سکتی ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتی ہیں۔
نوعمری میں شادی کی روک تھام سے صحت مند تعلقات کو فروغ ملتا ہے، جس سے آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے خواتین کو پڑھا لکھا اور باروزگار بنانے سے شرح پیدائش میں کمی آتی ہے کیونکہ تعلیم خواتین کو خودمختار بناتی ہے اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے، جس سے وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہیں۔ روزگار خواتین کو اقتصادی طور پر خودمختار بناتا ہے، جس سے وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتی ہیں اور اپنی ضروریات کو پورا کر سکتی ہیں۔ تعلیم یافتہ اور باروزگار خواتین خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بہتر آگاہی رکھتی ہیں اور اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتی ہیں، جس سے وہ اپنی اولاد کی تعداد کو کنٹرول کر سکتی ہیں۔
اور اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتی ہیں، جس سے وہ اپنی اولاد کی تعداد کو کنٹرول کر سکتی ہیں.



