
پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو مسترد کر دیا
"اگر کوئی ملک جان بوجھ کر اور مسلسل دہشت گردی کرتا ہے تو ہمیں اپنے عوام کو اس سے بچانے کا حق حاصل ہے۔"
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک بار پھر دہشت گردی کے فروغ اور علاقائی عدم استحکام کی ذمہ داری سے اپنی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا یہ بیان بھارتی وزیر کے حالیہ ریمارکس کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف دفاع کا حق استعمال کرنے کی بات کی تھی۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا، تاہم کہا ہے کہ بھارت اپنے تشویشناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعہ کے روز بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے، خاص طور پر جب "خراب ہمسائے” دہشت گردی کو فروغ دیتے ہوں۔ انہوں نے پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر کوئی ملک جان بوجھ کر اور مسلسل دہشت گردی کرتا ہے تو ہمیں اپنے عوام کو اس سے بچانے کا حق حاصل ہے۔”
پاکستان کا ردعمل
پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت اپنے بدتر ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس کا کردار دہشت گردی کے فروغ اور علاقائی عدم استحکام میں سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ثبوت عالمی سطح پر موجود ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کے تناظر میں کلبھوشن یادھو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردی اور جاسوسی کے بھارتی کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کلبھوشن یادھو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، اور اس نے پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ ابھی تک پاکستان میں قید ہے۔
سندھ طاس معاہدہ
پاکستانی دفتر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی سے علاقائی استحکام متاثر ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے پاکستان اور بھارت نے نیک نیتی سے طے کیا تھا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
کشمیر کا مسئلہ
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کے جواب میں کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حق خود ارادیت کا حصول ممکن بنا سکیں۔
بھارت کی سفارتی روش
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کے اندرونی معاملات اور اس کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند نظریاتی سوچ اور ہندوتوا کے نظریات اس کے تمام اقدامات کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی حکومت اور اس کے نظریاتی حامی دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں، اور عالمی سطح پر اس کا یہ کردار مزید بے نقاب ہو رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی
یہ تمام ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے 3 جنوری 2025 کو ڈھاکا میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی تدفین کے موقع پر مصافحہ کیا۔ یہ ملاقات گزشتہ برس مئی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات تھی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان کشمیر، دہشت گردی اور دیگر مسائل پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ تاہم، حالیہ ملاقات اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے بیانات نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار ابھی تک نظر نہیں آ رہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری نے بارہا دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں، لیکن دونوں طرف سے سخت موقف اور جارحانہ بیانات کی وجہ سے کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔
آگے کا راستہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے تنازعات کو حل کرنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنے اپنے موقف پر اصرار کرتے رہے تو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کے لیے تیار ہے، لیکن بھارت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت بند کرے اور پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کرے۔
اس وقت پاکستانی عوام اور حکام عالمی سطح پر بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھانے کے لیے سرگرم ہیں، اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو پوری دنیا کے سامنے رکھا جائے۔



