
پنجاب بھر کے شہروں اور دیہات کی ترقی کا سلسلہ مزید تیز
پہلے فیز میں پنجاب کے 469 دیہات میں واٹر سپلائی، ڈرینج، چلڈرن پارک، فٹ پاتھ اور اسٹریٹ لائٹس کے ذریعے ہر گلی کو خوبصورت، روشن اور محفوظ بنایا جائے گا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
لاہور:پنجاب بھر کے شہروں اور دیہات کی ترقی کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے مثالی گاؤں پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے 224 گاؤں تیزی سے مثال بننے کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ پہلے فیز میں پنجاب کے 469 دیہات میں واٹر سپلائی، ڈرینج، چلڈرن پارک، فٹ پاتھ اور اسٹریٹ لائٹس کے ذریعے ہر گلی کو خوبصورت، روشن اور محفوظ بنایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام، مثالی گاؤں، پی ایچ اے، صاف پانی اور دیہی سڑکوں کے منصوبوں پر تین گھنٹے تک پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سخت احکامات جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پنجاب کا ہر ترقیاتی منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہوگا، اس مقصد کے لیے لائیو ڈیش بورڈ قائم کیا جائے گا اور وہ خود روزانہ کڑی نگرانی کریں گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے سیوریج لائنیں سڑکوں کے بجائے گرین بیلٹ میں بچھائی جائیں گی جبکہ مین ہول کناروں پر ہوں گے تاکہ سڑکیں محفوظ رہیں۔ مضبوط اور صاف پنجاب کے لیے 100 سال کی ضمانت کے ساتھ HOPE سیوریج پائپ نصب کیے جائیں گے۔
لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا پہلا فیز مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرا فیز 30 اپریل تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سات شہروں میں پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اپریل میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ مزید 11 اضلاع میں نئے پی ایچ اے قائم ہو چکے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 21 ہو جائے گی، جبکہ پورے صوبے میں پی ایچ اے کے قیام کے لیے قابلِ عمل پلان طلب کر لیا گیا ہے۔
بے گھر افراد کے لیے ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ پراجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری کرنے، جبکہ ’اپنی زمین، اپنا گھر‘ کے الاٹیز کو الاٹمنٹ لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ کے تحت 155 ارب روپے کے 1 لاکھ 21 ہزار 477 قرضے جاری ہو چکے ہیں، 65 ہزار گھر مکمل ہو چکے ہیں اور روزانہ 700 مکانات تعمیر ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گلیوں اور سڑکوں میں کھدائی کر کے کھلا چھوڑنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیوریج اور تعمیر و مرمت کے کام فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 52 شہروں میں 204 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر و مرمت اور بحالی کے منصوبے 22 فروری تک شروع ہوں گے۔
اجلاس میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، واٹر فلٹریشن اور واٹر بوٹلنگ پلانٹس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے خراب پانی والے علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر فلٹریشن پلانٹس لگانے اور 30 جون تک تعمیر و بحالی مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ ڈی جی خان، خوشاب، رحیم یار خان اور بہاولپور کے علاقوں میں عوام کو گھر کی دہلیز پر بوتل واٹر فراہم کیا جائے گا۔



