
تاریخ نویسی کے فکری و تحقیقی پہلو
جرمن تاریخ دان لیو پولڈ رانکے نے 17 جلدوں میں یونیورسل ہسٹری لکھی۔ اسی طرح برطانوی مورخ آرنلڈ جے ٹائن بی نے 11 جلدوں میں A Study of History لکھی
ڈاکٹر مبارک علی
کچھ مورخ تاریخ کو ایک تسلسل کے ساتھ دیکھتے ہیں اور ماضی میں ہونے والے واقعات کے ایک دوسرے سے ربط کے ذریعے ماضی اور حال کو سمجھتے ہیں۔ کچھ مورخ تاریخ کو حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کی اہم خصوصیات کو بیان کرتے ہیں۔
مورخین تاریخ کو میکرو اور مائیکرو میں تقسیم کرتے ہیں۔ میکرو ہسٹری میں مضمون کو وسعت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ ابتدائی دور میں جب تاریخ کے پورے ماخذ دریافت نہیں ہوئے۔ مورخین بائبل کی تاریخ کو بنیاد بنا کر قدیم واقعات کو لکھتے تھے۔ ان کا دوسرا ماخذ شاہی خاندانوں کی تاریخ ہوتی تھی۔ اس کی مثال مشہور عالم محمد ابن جریر الطبری کی تاریخ اسلام کی مشہور کتاب "الرسول و الملوک” کی ہے، جسے تاریخ الطبری بھی کہتے ہیں۔ دوسرے مسلمان مورخوں نے بھی طبری کی تاریخ کے اسلوب کو ترویج دیتے ہوئے عالمگیر تاریخیں لکھیں۔ ان مورخین میں ابن خلدون خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
موجودہ زمانے میں بھی میکرو ہسٹری لکھی جاتی رہی۔ جرمن تاریخ دان لیو پولڈ رانکے نے 17 جلدوں میں یونیورسل ہسٹری لکھی۔ اسی طرح برطانوی مورخ آرنلڈ جے ٹائن بی نے 11 جلدوں میں A Study of History لکھی۔ آگے چل کر امریکی فلسفی اور مورخ ولیم جے ڈورنٹ نے Story of Civilization میں مقبول عام تاریخ لکھی ہے۔ اب میکرو ہسٹری لکھنے کا رواج کم ہو گیا ہے اور مورخین کے لیے مشکل ہو گئی ہے کہ ان تمام واقعات کو سمیٹ کر انہیں کسی ایک تسلسل میں بیان کرے۔
اس لیے موجودہ دور میں مورخین مائیکرو ہسٹری پر توجہ دے رہے ہیں، جنہیں میکرو ہسٹری میں نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ تاریخ نویسی میں مائیکرو اور میکرو ہسٹری ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ میکرو ہسٹری بڑے تاریخی ڈھانچوں اور رجحانات کو واضح کرتی ہے جبکہ مائیکرو ہسٹری انہیں فرد یا مقامی سطح پر گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
موجودہ دور میں تاریخی ماخذوں کو استعمال کرنے میں آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ 19ویں صدی میں یورپ کی ریاستوں میں تاریخی دستاویزات کو مورخوں کے لیے عام کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے رانکے کا کہنا تھا کہ یورپ کی صحیح تاریخ سرکاری دستاویزات کی روشنی میں لکھی جا سکتی ہے۔ ان دستاویزات میں یورپی ملکوں کے باہمی معاہدے خط و کتابت اور بعض اہم خفیہ دستاویزات بھی تھیں۔ ان کی مدد سے جو تاریخ لکھی گئی وہ ریاستوں کی تھی جن میں عام لوگوں کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
اس کی ایک اور مثال برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کی ہے، جنہوں نے چار جلدوں میں A history of the English speaking people لکھی۔ اسے لکھنے کے لیے انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے 16 مورخوں کی مدد لی تھی۔ اس پر کسی کا تبصرہ تھا کہ یہ Manufacturing of history ہے۔
موجودہ زمانے میں سرکاری دستاویزات کے علاوہ دوسرے ماخذ بھی ہیں، جن کی مدد سے سیاسی، سماجی اور معاشی موضوعات پر تحقیق ہو رہی ہے۔ تاریخی دستاویزات کے علاوہ آثار قدیمہ کی دریافت نے قدیم تاریخ کے بہت سے پوشیدہ پہلوؤں کو روشناس کروایا ہے۔
اس لیے اب مورخ مائیکرو ہسٹری پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب تک تاریخ کے پوشیدہ اور خاموش پہلوؤں کو سامنے نہیں لایا جائے گا اس وقت تک تاریخ مکمل نہیں ہو گی۔
اطالوی مورخ Carlo Ginzburg نے خاص طور سے مائیکرو ہسٹری پر توجہ دی ہے۔ اپنی کتاب Cheese and the Worm کا ریکارڈ انہوں نے چرچ کی مذہبی عدالت سے حاصل کیا تھا۔ یہ اٹلی کے ایک گاؤں میں رہنے والے چکی والے کا مقدمہ تھا۔ اس چکی والے پر الزام یہ تھا کہ اس نے یہ کہا تھا کہ جب پنیر خراب ہو جاتی ہے تو اس میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ خود بخود پیدا ہوتے ہیں انہیں پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے۔ اس پر توہین کا الزام لگایا گیا اور بطور سزا اسے زندہ جلا دیا گیا۔ Ginz burg نے یہ ثابت کیا ہے کہ عہد وسطٰی میں عام لوگوں کے مذہبی عقائد کیا تھے اور چرچ ان کی نگہداشت کس طرح کیا کرتا تھا۔ اگر ان کے عقائد چرچ کی تعلیمات سے منحرف ہوتے تھے تو ان پر مقدمہ چلا کر سزا دی جاتی تھی۔
Ginzburg نے عہد وسطٰی میں جادوگر عورتوں کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ خاص طور سے یہ بوڑھی عورتیں تھیں، جو پرانے طریقہ علاج سے بیماروں کو دوائیں دیتی تھیں۔ لیکن ان پر یہ شبہ ہونے لگا کہ یہ جادوگرنیاں ہیں اور یہ اپنے عمل سے مویشیوں کو بیمار کرتی ہیں اور فصلوں کو خراب کرتی ہیں۔ انکلوزیشن نے ان عورتوں پر مقدمات چلائے۔ پہلے مختلف علامات اور نشانات کا تعین کیا گیا جو کسی عورت کو جادوگرنی ثابت کریں۔ اس کے بعد ان پر مقدمات چلائے گئے، جن کی تمام دستاویزات آج بھی محفوظ ہیں۔
اب مورخین ان کی مدد سے عہد وسطٰی کے معاشرے کے مذہبی خیالات اور جادو کے بارے ان کے نظریات کو سامنے لا رہے ہیں۔ اس نئی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ محض شک و شبے کی بنا پر کتنی عورتوں کو موت کی سزا دی گئی اور زندہ جلایا گیا۔
مائیکرو ہسٹری نے عوامی تاریخ کو جنم دیا۔ اب مزدوروں، دستکاروں، کسانوں اور گھریلو عورتوں پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے تاریخ کے نئے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ بھی اب کھدائی سے ملنے والی ان اشیاء کا مطالعہ کر رہے ہیں، جن کا تعلق عام لوگوں سے تھا۔ اس سے ان کی سماجی زندگی کا پتہ چلتا ہے۔ پاکستان کے مورخوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں کی تاریخ لکھیں۔ کیونکہ یہ چھوٹے شہر اور قصبے ہیں جو بڑے شہروں کو ادیب، آرٹسٹ، دانشور، قانون دان، اساتذہ اور سائنسدان وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ ہر قصبے اور گاؤں کی اپنی ایک خصوصیت ہوتی ہے، جس میں مٹھائیاں، کھانے اور لباس وغیرہ شامل ہیں۔ وہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ بہت سے چھوٹے شہروں میں سیاسی رہنما بھی پیدا کیے ہیں، جن کا ایک تاریخی کردار ہے۔
نوٹ:وائس آف جرمنی اردو نیوز کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا وائس آف جرمنی اردو نیوز کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔



