
گزشتہ سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد نئی دہلی اور اسلام آباد کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان نے 24 اپریل کو اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ ابتدا میں یہ پابندی ایک ماہ کے لیے تھی جس کے تحت بھارتی طیاروں اور ایئر لائنز کو پاکستان کے اوپر سے پرواز کی اجازت نہیں تھی۔
بھارت نے 30 اپریل کو جواباً پاکستانی طیاروں اور ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ تب سے دونوں ممالک ہر ماہ ان پابندیوں میں توسیع کرتے آ رہے ہیں۔ البتہ، دونوں ممالک نےصرف ایک دوسرے کی ایئر لائنز اور طیاروں پر پابندی لگائی ہے، دیگر ممالک کی ایئر لائنز کے لیے ان کی فضائی حدود بدستور کھلی ہیں۔

پاکستان کا اقدام
پاکستانی اور بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کے روز جاری تازہ ترین نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین) میں کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود بھارت میں رجسٹرڈ تمام طیاروں کے لیے 24 فروری تک بند رہے گی، جن میں بھارتی ایئر لائنز کے زیرِ ملکیت، زیرِ انتظام یا لیز پر لیے گئے طیارے بھی شامل ہیں۔ یہ پابندی بھارتی فوجی پروازوں پر بھی لاگو ہو گی۔
پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کا نیا نوٹس 24 جنوری کو ختم ہونے والے سابقہ نوٹس سے چند دن پہلے جاری کیا گیا۔ پی اے اے کے مطابق یہ پابندی، جو پہلے ہی نافذ ہے، مزید ایک ماہ تک برقرار رہے گی۔
بھارت کی جانب سے پاکستانی طیاروں پر موجودہ پابندی بھی 24 جنوری کو ختم ہو رہی ہے، اور توقع ہے کہ بھارتی سول ایوی ایشن کے حکام بھی اس میں مزید ایک ماہ کی توسیع کے لیے نیا نوٹم جاری کریں گے۔

فضائی حدود کی بندش سے بھارت کو زیادہ نقصان
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئر لائنز کی تقریباً 800 ہفتہ وار پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ یہ پروازیں، جو زیادہ تر شمالی بھارت سے مغربی ایشیا، قفقاز، یورپ، برطانیہ اور مشرقی شمالی امریکہ کے مقامات تک جاتی ہیں، اب طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
اس بندش سے پرواز کے دورانیے میں 15 منٹ سے لے کر کئی گھنٹوں تک اضافہ، ایندھن کے زیادہ اخراجات اور عملے و پروازوں کے شیڈول میں پیچیدگی جیسے متعدد آپریشنل مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
ٹاٹا گروپ کی ایئر لائن ایئر انڈیا کے اندازے کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش اسے سالانہ بنیاد پر تقریباً 4,000 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کے برعکس بھارت کی فضائی حدود کی بندش کا پاکستان پر اثر نسبتاً نہایت کم رہا ہے کیونکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی بین الاقوامی موجودگی محدود ہے۔ جبکہ بھارت کا ہوا بازی شعبہ اور اس کی ایئر لائنز تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
سول ایوی ایشن کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق اپریل میں فضائی بندش سے قبل پی آئی اے کی صرف تقریباً چھ پروازیں فی ہفتہ، جو کوالالمپور سے لاہور یا اسلام آباد جاتی تھیں، بھارت کے اوپر سے گزرتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق جب پاکستان نے 2019 میں چار ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھی تو بھارتی کیریئرز کو مجموعی طور پر تقریباً 700 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



