
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے لاہور کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کا سرپرائز دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا اور تدریسی معیار، سہولیات اور اسکول انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیر تعلیم نے دورے کے دوران اساتذہ اور طلباء سے براہِ راست بات چیت کی اور ان کی رائے معلوم کی، ساتھ ہی اسکولوں کی صفائی، تدریس کے معیار اور حاضری کی شرح کو بھی چیک کیا۔
دورے کا مقصد اور اقدامات
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کینٹ، کیولری گراؤنڈ اور لاہور کے مختلف علاقوں میں سرکاری اسکولوں کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کا مقصد نہ صرف تعلیمی اداروں کے معیار کا جائزہ لینا تھا بلکہ اسکولوں کے انفراسٹرکچر، تدریس اور نظم و ضبط کی بہتری کے حوالے سے ضروری اقدامات کرنا بھی تھا۔ وزیر تعلیم نے تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر کی بہتری، تدریسی عمل کے معیار، اور طلباء کے ریکارڈ کا تفصیلی معائنہ کیا۔
اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور اسکولوں کی صفائی کی تعریف
دورے کے دوران وزیر تعلیم نے اساتذہ کی محنت اور اسکولوں کی صفائی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں صاف ستھری فضا اور گرین انفراسٹرکچر نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتا ہے بلکہ طلباء کے لیے ایک صحت مند ماحول فراہم کرتا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کی محنت اور نظم و ضبط سے ہی اسکولوں میں تعلیمی معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔
تعلیمی اداروں کی سہولتوں کا جائزہ
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایت پر ان کی ٹیموں نے لاہور کے دیگر علاقوں جیسے مخدوم آباد، جنرل ہسپتال، چونگی امرسدھو، فیروزپور روڈ، کاہنہ اور برکی کے تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ان ٹیموں نے اسکولوں کی سہولتوں اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ کہاں کمی ہے۔ اس دوران بعض اسکولوں میں سولر پینلز کی کمی اور کلاس رومز کی فٹنگ کے مسائل سامنے آئے، جنہیں وزیر تعلیم نے فوری حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
مخدوم آباد اور کاہنہ میں فوری اقدامات کی ہدایت
مخدوم آباد کے ایک اسکول میں سولر پینلز کی ضرورت کا سامنا تھا، جس پر وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ اسی طرح کاہنہ کے ایک اسکول میں کلاس رومز کے لیے فنڈز کی ضرورت تھی، جس پر وزیر تعلیم نے اسکول کی ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
وزیر تعلیم کی اساتذہ سے گفتگو
وزیر تعلیم نے اساتذہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر، تدریس اور نظم و ضبط کا امتزاج اہم ہے، اور اس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
تعلیمی اصلاحات اور سرکاری اسکولوں کی ترقی
رانا سکندر حیات نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تدریسی معیار اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید تدابیر اور اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صحیح سمت میں اقدامات کیے جائیں تو سرکاری اسکول بھی بہترین تعلیمی اداروں کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اے آئی، روبوٹکس اور کوڈنگ کی تعلیم
وزیر تعلیم نے بتایا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اب اے آئی، روبوٹکس اور کوڈنگ جیسی جدید سکلز سکھائی جا رہی ہیں، تاکہ طلباء مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب تعلیمی نظام میں جدید تقاضوں کو شامل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں معیار کی بہتری
وزیر تعلیم نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے لیے حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ان کے نتائج جلد نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے معیار میں بہتری اور اسکولوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے۔ "ہم نے ثابت کیا ہے کہ نیت، نگرانی اور درست سمت میں اقدامات ہوں تو سرکاری اسکول بھی دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں کی صف میں آ سکتے ہیں۔”
خلاصہ
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا سرپرائز دورہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اصلاحات کے عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور اسکولوں کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اسکولوں کو جدید سلیبس اور جدید تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ طلباء کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ وزیر تعلیم کی ہدایات کے مطابق، تعلیمی اداروں میں فوری اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکے اور اسکولوں کے انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جا سکے۔



