
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جیسے جیسے بسنت کا تہوار قریب آ رہا ہے، ویسے ویسے حکومت کی جانب سے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے نت نئی پابندیوں کے نفاذ کا سلسلہ بھی تیز ہوتا جا رہا ہے۔ 25 سال بعد پہلی مرتبہ حکومتِ پنجاب نے بسنت منانے کی اجازت دی ہے، تاہم اس اجازت کو سخت قواعد و ضوابط سے مشروط کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق لاہور میں بسنت 2026 چھ، سات اور آٹھ فروری کو منائی جا سکے گی اور انھی مخصوص دنوں میں پتنگ بازی کی اجازت ہو گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد اس ثقافتی تہوار کو محفوظ، پرامن اور قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے بحال کرنا ہے۔
مذہبی و سیاسی ہم آہنگی کے لیے نئی پابندیاں نافذ
منگل کو جاری کیے گئے ایک تازہ نوٹیفیکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے اہم پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ نوٹیفیکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پتنگوں پر کسی مقدس کتاب، مذہبی مقام، مذہبی شخصیت یا کسی بھی مذہبی علامت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہو گی۔
اسی طرح کسی ملک، سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے جھنڈے یا تصویر والی پتنگوں کی تیاری، فروخت اور استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم لاہور میں بسنت کے دوران بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دفعہ 144 نافذ، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا اعلان
نوٹیفیکیشن کے مطابق ان احکامات کا نفاذ دفعہ 144 کے تحت فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام اس خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے کہ بسنت کے موقع پر بعض عناصر مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کر کے اشتعال انگیزی پھیلا سکتے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔
بسنت 2026 کے لیے ایس او پیز جاری
گزشتہ ماہ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے بسنت 2026 کے انعقاد کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، پولیس، کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز، مینوفیکچررز اور شہریوں کے لیے تفصیلی ایس او پیز جاری کیے تھے۔
ان ایس او پیز کے تحت پتنگ کے سائز پر حد مقرر کی گئی ہے جبکہ نائلون، پلاسٹک اور دھاتی تار بطور ڈور استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
بسنت کی اجازت: 25 سالہ پابندی کے بعد ایک بڑا فیصلہ
یاد رہے کہ دسمبر 2025 کے اوائل میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 25 سال کے وقفے کے بعد فروری 2026 میں بسنت منانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔ پنجاب میں پتنگ بازی کے سبب جان لیوا واقعات کے بعد 2001 سے اس تہوار پر مختلف اوقات میں پابندیاں عائد کی جاتی رہیں اور کچھ عرصہ قبل پتنگ بازی کو باقاعدہ قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا تھا۔
یکم دسمبر 2025 کو پنجاب کے گورنر سلیم حیدر کی جانب سے پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری کیا گیا، جس کے تحت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مخصوص دنوں اور مقامات پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت دی جا سکتی ہے۔
رجسٹریشن، فروخت اور ڈور سے متعلق سخت شرائط
ڈی سی لاہور کے مطابق پتنگ اور ڈور بنانے والے تمام مینوفیکچررز کی رجسٹریشن کے لیے ای-بز ایپ اور آن لائن پورٹل فعال کر دیا گیا ہے۔ پتنگ بازی کا سامان صرف یکم سے 8 فروری 2026 تک فروخت کیا جا سکے گا۔
نوٹیفیکیشن میں چرخیاں بنانے اور بیچنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ ڈور صرف ’پنے‘ کی شکل میں اور کاٹن سے بنی ہونی چاہیے۔ نائلون، پلاسٹک اور دھاتی تار کے استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بچوں، بائیک سواروں اور پتنگ کے سائز سے متعلق ہدایات
آرڈیننس کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچوں کو پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔ کم عمر بچوں کو پہلی مرتبہ پتنگ اڑانے پر 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
موٹر سائیکل سواروں کے لیے بائیک پر حفاظتی تار لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایس او پیز کے مطابق پتنگ کا سائز 4.5 گٹھی سے زیادہ نہیں ہو سکتا جبکہ ڈیڑھ تاوے سے بڑا گڈا اڑانے پر پابندی ہو گی۔
خلاف ورزی ناقابلِ ضمانت جرم، بھاری سزائیں مقرر
کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت بغیر اجازت پتنگ اڑانے پر تین سے پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تیر دھار منجھا، کیمیکل یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور استعمال کرنے والوں کو کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو گی۔
بغیر رجسٹریشن پتنگ سازی، فروخت یا نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر خوشی کی لہر، #BasantReturns ٹرینڈ
بسنت کی مشروط واپسی پر سوشل میڈیا پر خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر #BasantReturns کے ہیش ٹیگ کے ساتھ صارفین لاہور کی تصاویر اور جذباتی پیغامات شیئر کر رہے ہیں۔
صارف زارا بلال نے لکھا کہ ’’25 سال بعد لاہور کا آسمان دوبارہ زندہ ہو گا۔‘‘
صفدر لغاری نے بسنت کی واپسی کو ثقافتی خوبصورتی کی علامت قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔
مریم محمود نے لکھا کہ ’’لاہور 25 سال بعد دوبارہ سانس لے گا، بسنت شہر کی دھڑکن ہے۔‘‘
بسنت: ایک تہوار، ایک تاریخ
بسنت دراصل موسمِ سرما سے بہار کی آمد کا جشن ہے۔ کھیتوں میں سرسوں کے پیلے پھول اور ہریالی اس موسم کی پہچان ہیں۔ پنجابی کیلنڈر کے مطابق ماگھ کی پانچ تاریخ کو منایا جانے والا یہ تہوار صدیوں پرانی روایت رکھتا ہے۔
برصغیر میں بسنت کو عروج انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ملا۔ لاہور، امرتسر، قصور اور سیالکوٹ میں یہ تہوار بھرپور انداز میں منایا جاتا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی بسنت پنجاب کی شناخت بنی رہی اور نوے کی دہائی میں لاہور بسنت کا عالمی مرکز بن چکا تھا۔
ماضی کی رونقیں اور آج کی احتیاط
نوے کی دہائی میں بسنت محض تہوار نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی سرگرمی تھی۔ پتنگ سازی، ڈور، ہوٹل انڈسٹری، اشتہارات اور سیاحت سب اس سے وابستہ تھے۔ تاہم جدت اور مقابلے کی دوڑ میں خطرناک ڈور کے استعمال نے جان لیوا حادثات کو جنم دیا، جس کے بعد پابندیاں ناگزیر ہو گئیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس بار بسنت کی واپسی ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے تاکہ لاہور ایک بار پھر رنگوں سے بھر جائے، مگر انسانی جانوں کی قیمت پر نہیں۔











